نیشنل کرش آف پاکستان بننے کی وجہ سے مجھ پر خوف و دہشت کے دورے پڑنے لگے: مومنہ مستحسن

نیشنل کرش آف پاکستان بننے کی وجہ سے مجھ پر خوف و دہشت کے دورے پڑنے لگے: مومنہ ...
نیشنل کرش آف پاکستان بننے کی وجہ سے مجھ پر خوف و دہشت کے دورے پڑنے لگے: مومنہ مستحسن

  



کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) گلوکارہ مومنہ مستحسن کا کہنا ہے کہ وہ کوک سٹوڈیو میں گانا گا کر نیشنل کرش بن چکی ہیں لیکن انہیں اس کی وجہ سے اپنی نجی زندگی میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، کوئی ایسی رات نہیں تھی جب وہ سونے سے پہلے روتی نہ ہوں ۔

اپنے ایک ویڈیو انٹرویو میں گلوکارہ مومنہ مستحسن نے کہا کہ جب انہوں نے کوک سٹوڈیو کے سیزن 9 میں راحت فتح علی خان کے ساتھ گانا گایا تو وہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ گانے کے دوران وہ کیسے مسکرائیں، لوگوں سے کیسے بات کی، کپڑے کیسے پہنے ہیں ،چلتی کیسے ہیں؟، ہر کسی کو اس پر تبصرہ کرنے کا حق حاصل ہوگیا۔

مومنہ مستحسن نے کہا کہ جب ان کا گانا وائرل ہوا تو انہیں اس کی بالکل بھی امید نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئیں۔ ’ لوگ سوچ رہے تھے کہ میں نیشنل کرش آف پاکستان بننے پر بہت خوش ہوں لیکن مجھے یہ مرنے کی طرح لگتا تھا، مجھے خوف اور دہشت کے دورے پڑنے لگے، میں سونے سے پہلے ہر رات روتی تھی ، میں خواہش کرتی تھی کہ کسی طرح مجھے اپنی زندگی واپس مل جائے اور میں وہ چیز نہ رہوں جس پر ہر کسی کا حق ہے بلکہ میں صرف ایک عام انسان بن جاﺅں‘۔

واضح رہے کہ اسی انٹرویو کے پہلے حصے میں مومنہ مستحسن نے کہا تھا کہ شہرت حاصل کرنے سے پہلے وہ زندگی کی ایک ایسی سٹیج سے بھی گزری تھیں جب وہ شدید مایوسی کا شکار تھیں، اور ان میںا تنی بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ آئینہ ہی دیکھ سکتیں۔ مومنہ مستحسن کے ویڈیو انٹرویو کے پہلے حصے کی تفصیلات یہاں کلک کرکے جانی جا سکتی ہیں۔

مزید : تفریح