”ہماری موجودگی میں ایک دوست نے شاہ صاحب سے کہاکہ دعا کریں فلاں جنرل آرمی چیف بن جائے ، 2 مرتبہ شاہ صاحب خوش رہے اور پھر کہا کہ میں پہلے ہی جنرل قمر باجوہ کیلئے دعا کرچکا ہوں“

”ہماری موجودگی میں ایک دوست نے شاہ صاحب سے کہاکہ دعا کریں فلاں جنرل آرمی چیف ...
”ہماری موجودگی میں ایک دوست نے شاہ صاحب سے کہاکہ دعا کریں فلاں جنرل آرمی چیف بن جائے ، 2 مرتبہ شاہ صاحب خوش رہے اور پھر کہا کہ میں پہلے ہی جنرل قمر باجوہ کیلئے دعا کرچکا ہوں“

  



لاہور(ویب ڈیسک) بلاشبہ اللہ والے وہی کہ جنہیں مل کر اللہ یاد آجائے اور بے شک ہماری ہی تلاش ختم ہو چکی ورنہ اللہ والے تو آج بھی موجود!جب جنرل راحیل شریف کی جگہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ زوروں پرتھا، ان دنوں ایک سینئر دوست نے ہم 3چار لوگوں کی موجودگی میں شاہ صاحب سے کہا”شاہ صاحب دعا کریں کہ فلاں جنرل آرمی چیف بن جائیں“یہ خاموش رہے، تھوڑی دیر بعد اس دوست نے اپنی بات دہرائی، لیکن یہ اس بار بھی نہ بولے، مگر جب ہمارے دوست نے تیسری مرتبہ کہا تو شاہ صاحب نے کہا ”بھیا میں جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے دعاکر چکا ہوں“یہ انکشاف ارشاد بھٹی نے روزنامہ جنگ میں کچھ عرصہ قبل لکھے گئے کالم میں کیا۔ انہوں نے لکھاکہ ’دوستو! یہ تو ایک بات ورنہ شاہ صاحب مطلب سید سرفراز شاہ کے بیسیوں واقعات اور بھی، یہ وہی شاہ صاحب جوکئی اداروں کے سربراہ رہ چکے، جو مینجمنٹ اور ایڈ منسٹریشن کے ماہر، جو برمنگھم یونیورسٹی کے ”وزیٹنگ فیکلٹی“، جو 65سے زیادہ ملکوں کا سفر کر چکے، جو ”کہے فقیر، فقیر رنگ، فقیر نگری، لوحِ فقیر اور ارڑنگ فقیر جیسی باکمال کتابوں کے مصنف، جوایک درویش، ایک فقیر اورایک دانشور اور جن کے دئیے اذکار اور تسبیحات پڑھنے والے پوری دنیا میں موجود، یہ وہی سرفراز شاہ جو اکثرکہیں ”فقیر ی کا مطلب جہاں 100فیصد اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت وہاں فقیری میں، مَیں کو مارنا پڑے، لوگوں کی جوتیاں سیدھی کرنا پڑیں، جھوٹے برتن دھونا پڑیں، سب کو خود سے بہتر سمجھ کر سب کی خدمت کرنا پڑے اور فقیر مانگتا نہیں، عطا کرتا ہے“، یہ وہی سرفراز شاہ جو سب کوبتائیں ”جب دل میں کینہ، بغض، کدورت، نفرت، دشمنی، مخالفت یا رنجش ہوتو دل سے اللہ بھی نکل جائے اور علم بھی“ اور یہ وہی سرفراز شاہ جو سب کو سمجھائیں’ ’مایوسیوں سے بچنے کا آسان ترین نسخہ یہی کہ رب سے تعلق قائم کر لیا جائے اوررب سے تعلق قائم کرنے کا آسان ترین طریقہ یہ کہ کسی رات عشاءکے بعد دونفل پڑھ کر اپنے تمام مسائل، پریشانیوں اور فکروں کی گٹھڑیاں یہ کہہ کراس کے حوالے کر دیں کہ آج سے میں نے اپنا سب کچھ اس یقین کے ساتھ تیرے حوالے کیا کہ تو مجھ سے بہتر میرے فیصلے کرنے والا“۔

ارشاد بھٹی کاکہناتھاکہ میں ابھی کرسی پر بمشکل بیٹھ ہی پایا تھا کہ شاہ صاحب نے کہا ”لڑکر آرہے ہو“ میں نے چونک کر انہیں دیکھا تو وہ زیرِ لب مسکرا کر بولے ”ویسے قصور آپکا نہیں، وہ گول ناک اور وہ کم بالوں والے دونوں صاحب خواہ مخواہ ہی آپ سے حسدکررہے“، جیسے جیسے شاہ صاحب بول رہے تھے ویسے ویسے میری حیرانی بڑھتی جارہی تھی اور میں حیران کیسے نہ ہوتا کیونکہ میری وہ جھڑپ زیرِموضوع تھی جو گھنٹہ بھر پہلے ہوئی اور جس کا میں نے ابھی کسی سے ذکر تک نہیں کیا تھا، میں سوچوں اورخیالوں سے پلٹا تو شاہ صاحب کہہ رہے تھے کہ ”گھبرانے کی کوئی بات نہیں، یہ سب وقتی، اللہ تعالیٰ فضل کریں گے“گو کہ اس دوپہر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر میں حیران ہوا مگر جلد ہی سنبھل گیاکیونکہ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہو رہا تھا، ابھی کچھ عرصہ پہلے جب ایک دوست شاہ صاحب سے ملنے آیا تو اسے دیکھتے ہی یہ بولے ”بھیا ایک Stentتو پڑ چکا، اب اگر پائے، نہاریاں چھوڑ کر احتیاط نہ کی تو دوسرا بھی پڑ جائے گا“، ہم نے بے یقینی کے عالم میں اپنے دوست کی طرف دیکھا تو اس اچانک حملے پر سنبھلنے کی ناکام کوشش کرتے ہمارے دوست نے گھبراہٹ زدہ لہجے میں یہ بتا کر پریشان ہی کر دیا کہ ”شاہ صاحب ٹھیک کہہ رہے، پچھلے ماہ ایک رات سینے پر بوجھ، بھاری پن اور سانس لینے میں دشواری ہونے پر جب میں اسپتال گیا تو جاتے ہی ای سی جی اور انجیو گرافی ہوئی اور پھراسی رات Stentڈال دیا گیااور یہ بات میں نے بیگم کے علاوہ ابھی تک کسی اور کو اس لئے نہ بتائی کہ سب کو ایسے ہی ذہنی تکلیف اور کوفت ہوگی“، آگے سنئے، شاہ صاحب سے ملنے آئے وہ بڑے صاحب جنہیں شاہ صاحب نے ملے بنا باہر سے ہی یہ کہلوا کر جب واپس بھجوا دیا کہ ”ا سے کہو پہلے جا کر اپنی ماں کو راضی کرے“تو بعد میں یہ کنفرم بھی ہواکہ واقعی ا س بڑے صاحب کے ناروا سلوک پر اسکی ماں ایک ہفتے سے ناراض اورآگے سنئے۔

، اسی طرح وہ دوپہر کہ جب سپریم کورٹ پہنچے پاناما کیس پر ہم 2 چاردوست بڑی گرما گرم بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ اچانک کمرے میں داخل ہو کرشاہ صاحب بولے ”اتنی مغز ماری نہ کریں اس کیس کا فیصلہ یہ بنچ نہیں کرے گا“ اورپھر حیرت انگیز طو ر پر 6سات دنوں بعد چیف جسٹس انور ظہیر جمالی اپنی ریٹائر منٹ سے قبل ہی کیس سے علیحدہ ہوئے اور جسٹس کھوسہ کی صدارت میں نیا بنچ بن گیا، اب یہ بھی سن لیں، جب جسٹس کھوسہ کی صدارت میں پاناما کیس کی سماعت اپنے جوبن پر تھی تو ایک شام شاہ صاحب خود ہی کہنے لگے ”فیصلہ تو میاں صاحب کے حق میں آئے گا مگر فیصلے کے بعد بھی یہ معاملہ چلے گا“اور یہ بھی شاہ صاحب ہی کہ جنہوں نے ڈان لیکس کے عروج کے دنوں میں کہا”چونکہ اپنوں کیلئے جنرل قمر باجوہ صلح جو اوراچھے انسان، لہٰذا وہ معاملہ سنبھال لیں گے“۔

مجھے اچھی طرح یاد کہ ایک سہ پہر جب میں نے یہ پوچھا کہ ”آج مسلمانوں پرہی وبال اور زوال کیوں“ تو بولے ”ہم عالم الاسباب میں رہ رہے اور یہاں کا قانونِ قدرت یہی کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کیلئے وہ کوشش کرے گا، لہٰذاہم جو بو رہے وہی کاٹ رہے، آج ضرورت اس بات کی کہ ہم صدقِ دل سے اسلام پر عمل پیرا ہوں“ یہ کہہ کروہ لمحہ بھر کیلئے ر ک کر دوبارہ بولے ”مجھ سے اکثر سوال کیا جائے کہ مغرب تو اسلام پر عمل پیر انہیں پھر اتنا خوشحال اور پرامن کیسے“میں سب کو یہی کہوں کہ ہمارے مذہب کی زیادہ تر باتیں تومغرب مان کر ان پر عمل پیرا بھی، مطلب جو کچھ ہمیں کرنا چاہئے تھاوہ مغرب کررہا، ہاں یہ ٹھیک کہ نبی ﷺ اور قرآن پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے ان کا ا?خرت میں کوئی حصہ نہیں اور انہیں ان کے اچھے کاموں کا Rewardیہیں ملے گا مگر چونکہ قانونِ قدرت یہی کہ جو بوگے وہی کاٹو گے اور مغرب ہم سے بہتر بورہا لہٰذا انہیں فصل بھی بہتر کاٹنے کو مل رہی، جیسے ہی ا±نہوں نے بات مکمل کی تو میرا اگلا سوال تیارتھا”سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہم پریشان کیوں رہتے ہیں“ جواب ملا”ایک تو ہم قناعت پسند نہیں رہے، میانہ روی ختم ہوچکی اور دوسر ا ہمیں کہہ کریہ بھیجا گیاتھا کہ تم نے دنیا میں رہ کر آخرت کمانی لیکن ہم نے دنیا کو ہی دل میں بسا لیا“، حضرت علی کا فرمان کہ ”جو شخص دنیا پر سوار رہتا ہے وہ ڈوبتا نہیں اور جو دنیا کو خودپر سوار کر لیتا ہے اسے پھر ڈوبنے سے کوئی بچا نہیں سکتا“، کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین نبی ﷺدنیاوی لحاظ سے آسودہ کیوں نہ تھے، کیوں نبی ﷺ اس طاقت کے ہوتے ہوئے بھی کہ اگرآپ ﷺ چاہتے تو احدکاپہاڑ سونے کا ہوجاتا پھر بھی فاقوں میں گھرے رہے اور کیوں آپﷺ یہ دعامانگا کرتے کہ ”اللہ مجھے مسکینوں میں رکھنا اور قیامت والے دن مسکینوں کے ساتھ ا±ٹھانا“، اس لئے کہ دنیا کی کوئی حیثیت نہیں، تبھی تو قرآن کہے کہ ”یہ دنیا دھوکے کا گھر اوراس کی حیثیت مچھر کے پرجتنی بھی نہیں“لہٰذاقناعت پسندی، میانہ روی کو اپنائیں اور دنیا کو باطن مطلب اپنے اندرسے نکالیں، پریشانیاں ختم ہو جائیں گی، دنیا کمائیں ضرور مگر اسے دل میں نہ بسائیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...