ماہی گیروں کی خبر لیجئے

ماہی گیروں کی خبر لیجئے
ماہی گیروں کی خبر لیجئے

  



بلوچستان کے ماہی گیر انتہائی سخت محنت اور مشقت کرکے بحرہ عرب کی تہہ میں جاکر اپنی روزی روٹی حاصل کرتے ہیں۔ ان محنت کشوں کی محنت سے نہ صرف ان کے چولہے جلتے ہیں بلکہ ہماری ریاست کو سالانہ اربوں ڈالر کے حساب سے زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔ بلوچستان کی زرخیز زمین کی طرح اس سرزمین کا ساحل سمندر بھی بے مثال ہے۔ ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ وہ قانون اور آئین کے مطابق اپنے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دینے اور ان کی تحفظ یقینی بناتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے بلوچستان کے ماہی گیروں کے لئے ملک کے قوانین غیر معمولی حد تک مختلف نظر آتے ہیں۔ یہاں آج تک ماہی گیروں کو لیبر قوانین کے مطابق لیبر کا درجہ بھی حاصل نہیں ہوا ہے۔ بلوچستان کے ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے نام پر حکومت نے ادارے قائم تو کئے ہیں لیکن ماہی گیروں کو ان اداروں سے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ آج بلوچستان میں صدیوں سے آباد ماہی گیر اپنے آباؤاجداد کے چھوڑے گئے وہی مکان استعمال کررہے ہیں جو کبھی ان کے باپ ، داد ، پڑدادا ،پتہ نہیں کتنی پشتوں سے وہی گھر استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان غریب محنت کش ماہی گیروں کو ہر آنے والی حکومت نے ماہی گیر کالونی کے سنہرے خواب دکھائے مگر یہ خواب ابتک شرمندہ تعبیر نہیں ہورہے ۔

ماہی گیروں کے بچوں کے لئے کوئی تعلیم و تربیت کا بندوبست نہیں ہے۔ جس طرح ماہی گیر کئی پشتوں سے محنت کرتے چلے آرہے ہیں ، اسی طرح ان کے بچے چائلڈ لیبر بن کر تعلیم سے محروم ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں میں نے ایک ماہی گیر سے یہ دریافت کیا کہ آپ اپنے بچوں کو کیوں نہیں پڑھاتے تو وہ کہنے لگا کہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے۔ کیوں کہ ایک تو تعلیم حاصل کرنے کیلئے بچوں کی چند بنیادی ڈیمانڈز ہوتی ہیں جن کو پورا کرنا کسی ماہی گیر باپ کی گنجائش سے باہر ہے۔

ہم بس دو وقت کی روٹی کے لئے کس حد تک محنت کرتے ہیں۔ وہ کوئی ماہی گیر محنت کش ہی جانتا ہے۔ اس ماہی گیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یکساں نظام انصاف اور طبقاتی نظام تعلیم کی وجہ سے ہزاروں محنت کشوں کے بچے چائلڈ لیبر بن رہے ہیں۔ آنسو صاف کرتے ہوئے اس ماہی گیر نے کہا کہ وہ بھی سنہرے خواب دیکھتا تھا کہ کبھی خوابوں میں انجنیئر تو کبھی ڈاکٹر بنتا تھا مگر نظام انصاف کے ہاتھوں ہار کر اپنے والد کی کشتی میں ہی سارا بچپن ماہی گیر بن کر گزاردیا۔ اب انہیں اپنے بچوں کی زندگی اجیرن نظر آرہا ہے۔

کاش ہمارے ملک کے حکمرانوں اور سیاستدانوں کو غربت کے مارے ان ماہی گیروں کے لئے کچھ کرنے کی جرأت و ہمت ہوجائے ۔ان کی پکڑی مچھلیاں ان کے دسترخوانوں کی زینت بنتی ہیں،انہیں ایک بار تو ان ماہی گیروں کا سوچنا چاہئے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ