فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 206

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 206
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 206

  



محمد علی کا معاملہ یہ تھا کہ وہ اپنا بھرم بھی قائم رکھنا چاہتے تھے۔ اور یہ خواہش بھی رکھتے تھے کہ زیبا نہ صرف ا ن کے احساسات کا پاس کریں بلکہ بذات خود اس کا احساس کریں‘ اس کے برعکس زیبا کو یہ ضد تھی کہ جو ان کے دل میں ہے آخر وہ اسے زبان پر کیوں نہیں لے آتے؟

یہ ’’سیاسی صورت حال‘‘ تھی جب ہماری فلم ’’کنیز‘‘ کی فلم بندی کا آغاز ہوا۔ اس وقت محمد علی اور وحید مراد دونوں ابھرتے ہوئے فنکار تھے۔ زیبا‘ وحید مراد کے ساتھ کئی فلموں میں کام کر رہی تھیں۔ وہ ان کے پروڈیوسر بھی تھے اور ہیرو بھی۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 205 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس کے مقابلے میں محمد علی کے ساتھ انہوں نے پہلی فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ کے بعد کام نہیں کیا تھا۔ وحید مراد ایک ہنس مکھ‘ خوش مزاج اور بے تکلف آدمی تھے۔ خاص طور پر اپنی ہیروئنوں کے ساتھ بہت بے تکلّف ہو جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زیبا کے ساتھ خاصی بے تکلفی تھی۔ محمد علی کو کام کے سلسلے میں زیبا کے ساتھ ملنے جلنے کا زیادہ موقع نہیں ملتا تھا۔ اس کے علاوہ محمد علی بہت لئے دئیے رہتے تھے۔ زیبا کے ساتھ وحید مراد کی بے تکلیف محمد علی کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی۔ زیبا کو اس بات کا احساس تھا کہ محمد علی ان باتوں پر کُڑھتے ہیں۔ محمد علی کی برہمی کے پیش نظر وہ جان بوجھ کر وحیدمراد کے ساتھ ہنستی بولتی رہتی تھیں اور محمد علی غصے میں اونٹتے رہتے تھے۔ یہ وہ پس منظر اور ماحول تھا جب ہماری فلم ’’کنیز‘‘ کا آغاز ہوا۔

’’کنیز‘‘ کی شوٹنگ کے لئے وحید مراد خاص طور پر کراچی سے لاہور آئے۔ محمد علی اور زیبا ان دنوں لاہور ہی میں مقیم تھے۔ دونوں اپنے گھروں میں رہتے تھے۔ گویا اس وقت تک یہ دونوں فنکار ’’لاہوری‘‘ ہو چکے تھے۔ وحید مراد لاہور پہنچ کر ایورنیو سٹوڈیو میں آ کر ہمارے دفتر میں کچھ دیر بیٹھے اور گپ شپ کرتے رہے۔ ایورنیو سٹوڈیوز میں فلم سازوں کے دفاتر بہت ماڈرن اور آرام دہ تھے۔ یہاں ملبوسات اور سامان رکھنے کے لئے سٹور بھی تھے اور غسل خانے بھی تھے۔ دیکھا جائے تو یہ فلیٹ کی صورت میں تھے۔ ہر فلم ساز اپنی ضرورت کے مطابق ان کمروں میں لکڑی کی پارٹیشن لگا کر اپنے دفتر کو سجالیا کرتا تھا۔ سٹوڈیو میں ٹیلی فون ایکسچینج کی سہولت بھی موجود تھی ا ور ہر کمرے میں ٹیلی فون تھا۔ بعض فلم سازوں نے براہ راست اپنا ذاتی ٹیلیفون بھی لگا رکھا تھا۔ مختصر یہ کہ ایورنیو سٹوڈیو اس زمانے میں ایک روشن‘ صاف ستھرا اور نہایت ماڈرن سٹوڈیو تھا۔ بیش تر فلم ساز ہدایت کار اور ہنر مند بھی ذہین اور تعلیم یافتہ تھے جس کی وجہ سے یہاں بہت خوشگوار اور تخلیقی ماحول قائم ہوگیا تھا۔

ہم نے وحید مراد سے پوچھا کہ وہ کون سے ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں تاکہ شوٹنگ کے لئے انہیں سٹوڈیو لانے کا بندوبست کیا جائے مگر وہ اپنے کسی عزیز یا دوست کے گھر میں ٹھہرے تھے۔ انہوں نے کہا وہ ٹیکسی کے ذریعے خود ہی سٹوڈیو پہنچ جایا کریں گے۔

’’کنیز‘‘ کے لئے ایک بڑے فلور میں ایک غریب گھر کا سیٹ تعمیر کیا جا رہا تھا۔ یہ صبیحہ خانم اور وحیدمراد کا گھر تھا۔ دو کمروں‘ صحن اور باورچی خانے کے علاوہ گھر کے باہر ایک گلی بھی بنائی گئی تھی۔ کیونکہ ایک دو مناظر میں محمد علی اپنی کار لے کر اپنے دوست کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ حقیقی ماحول پیدا کرنے کی غرض سے گھر کا بیرونی حصہ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔

شوٹنگ شروع ہونے میں ابھی دو دن تھے اگلے روز طارق صاحب نے محمد علی‘ زیبا اور وحیدمراد پر مشتمل ایک فوٹو سیشن رکھا تھا جس میں ان تینوں کی کچھ تصاویر بنانی تھیں۔ ایک تصویر میں زیبا کو وحید مراد اور محمد علی کے درمیان کھڑا ہوا دکھانا تھا۔ یہ تینوں کالج میں کلاس فیلو ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے دوست بھی ہیں۔ ان تینوں کی یہ ہنستی ہوئی تصویر فریم میں لگوا کر وحیدمراد کے گھر میں رکھنی تھی تاکہ ان کی باہمی قربت اور دوستی واضح ہو جائے۔

ظاہر ہے کہ یہ ایک ہنستی مسکراتی خوش وخرّم دوستوں کی تصویر ہونی چاہئے تھی کیونکہ کہانی کے پیچ و خم میں اس تصویر کو بھی ایک اہمیت حاصل تھی۔ طارق صاحب نے فلم کے کیمرہ مین کامران مرزا کو بطور خاص بلایا تھا تاکہ وہ اپنی نگرانی میں لائٹس کرائیں اور سٹل فوٹو گرافر کو ضروری ہدایات اور مدد فراہم کریں۔

دوسرے دن ہم سیٹ پر پہنچے تو وہاں ابھی تک ٹھونکا ٹھانکی ہو رہی تھی۔ دروازے اور کھڑکیاں لگائی جا رہی تھیں۔ کھڑکیوں میں شیشے نصب کئے جا رہے تھے۔ ایک طرف آرٹ ڈائریکٹر کی نگرانی میں کمروں کے درو دیوار پر رنگ کیا جا رہا تھا۔ گھر کو پرانا اور غریبانہ رنگ دینے کے لئے دروازوں اور دیواروں پر بڑے اہتمام سے خاص طور پر دھبّے لگائے جا رہے تھے۔ فلور کے ایک حصے میں یہ سرگرمیاں جاری تھیں اور دوسرے حصے میں ایک جانب کامران مرزا روشنیاں درست جگہوں پر نصب کرا رہے تھے۔

انہوں نے ہمیں دیکھا تو فوراً پکار کر کہا ’’اوہو آفاقی صاحب آپ بڑے اچھّے موقع پر آئے ہیں۔ ‘‘

’’کیا ہماری ضرورت پیش آگئی ہے‘‘ ہم نے پوچھا ۔

’’بہت سخت ضرورت ہے، آئیے ادھرآ جائیے۔‘‘انہوں نے ہمیں روشنیوں کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا اور آواز لگائی ’’فل لائٹس‘‘

اچانک سیٹ کا وہ حصّہ روشنی سے معمور ہوگیا۔

کامران مرزا ہمارا ہاتھ پکڑ کر کیمرے کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے چیف اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسحاق اکرام کو بھی بلا کر وہیں ہمارے برابر کھڑا کرلیا۔

’’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا

’’تصویر بنانے کی ریہرسل ہو رہی ہے۔ فکر نہ کیجئے آپ ذرا ادھر کو ہو جائیے۔‘‘ ہم ان کے کہنے کے مطابق کھڑے ہوگئے ۔انہوں نے روشنی کا جائزہ لیا پھر ہمیں دیکھا اورغیر مطمئن ہو کر سر ہلایا۔ انہوں نے لائٹس کو پھر اِدھر اُدھر کرنے کے بعد دوبارہ ہمارا جائزہ لیا اور کہا ’’بس اب بالکل حرکت نہ کیجئے ساکت ہو جائیں۔‘‘

’’بھئی کیا بات ہے ‘‘آخر ہم نے تنگ آ کر پوچھا۔

’’بگڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ رکھیے اور ہاں آپ کو ہم دونوں کے درمیان میں کھڑا ہونا ہے۔‘‘

’’وہ کس لئے؟ ‘‘

’’اس لئے کہ آپ اس وقت زیبا خانم ہیں۔ میں وحید مراد اور یہ محمد علی ،ہم سٹل فوٹو کی تیاری کر رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے ہمیں زیبا کے ڈپلی کیٹ کے طور پر کیمرے کے سامنے کھڑا کر دیا تھا۔ ہم انہیں برا بھلا کہتے ہوئے سیٹ سے باہر چلے گئے۔ ہمیں شوٹنگ کے سلسلے میں کچھ اور ضروری انتظامات بھی کرنے تھے۔ اس سیٹ پر حقیقی گھریلو ماحول پیدا کرنے کی غرض سے چھوٹی موٹی گھریلو چیزیں بھی منگائی تھیں تاکہ سیٹ پر حقیقی مکان کا گمان ہونے لگے۔

ہمیں سیٹ سے باہر جاتے دیکھا تو کامران مرزا نے کہا ’’جا رہے ہیں؟ کوئی بات نہیں۔ ہم دوسری زیبا بیگم کا بندوبست کر لیں گے۔‘‘

ہم اسٹوڈیو آفس میں جا کر ضروری بات چیت میں مصروف ہو گئے۔ کچھ دیر بعد اپنے دفتر میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ محمد علی، زیبا اور وحید مراد تینوں آ گئے ہیں اور طارق صاحب کے ساتھ تصویر بنوانے کے لئے سیٹ پر گئے ہیں۔ ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کافی پی جائے ۔ ابھی کافی کی پیالی ختم نہیں ہونے پائی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور محمد علی اندر داخل ہوئے۔ ان کے چہرے سے برہمی ظاہر تھی۔ نہ علیک سلیک، نہ سلام دعا، آتے ہی ایک صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ وہ غصّے میں ہیں۔

ہم اس انتظار میں رہے کہ وہ کچھ بولیں مگر وہ بالکل خاموش ہو گئے۔

پوچھا۔ ’’کافی پینی ہے؟‘‘

انہوں نے زبان سے جواب دینے کے بجائے سرہلا کر انکار کر دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی ناخوش گوار بات ہو گئی ہے ورنہ وہ کبھی بدمزاجی نہیں کرتے تھے۔

’’کیا ہوا۔ کوئی پرابلم ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’نہیں‘‘ انہوں نے غصّے میں مختصر سا جواب دیا۔

ہم اُٹھ کر ان کے پاس جا بیٹھے ’’آخر بات کیا ہے۔ کچھ بتاؤ بھی؟‘‘

’’رہنے دو یار۔ کسی چیز کی تمیز ہی نہیں ہے۔ آخر کوئی طریقہ ہونا چاہئے۔‘‘ انہوں نے مزید برہمی کا اظہار کیا۔

ہم نے چپراسی کو بلا کر ان کے لئے پانی اور کافی لانے کے لئے کہا اور خود اٹھ کر یہ جاننے کے لئے سیٹ کی طرف چل دیئے کہ آخر معاملہ کیا ہے۔

اسٹوڈیو کی خوبصورت روش سے گزر کر ہم درمیانی فوارے تک بھی نہیں پہنچے تھے کہ سامنے فلور کی طرف سے طارق صاحب آتے ہوئے نظر پڑے۔ ہمیں دیکھا تو وہ ہمارے پاس ہی چلے آئے۔ وہ پریشان اور فکر مند نظر آ رہے تھے۔

ہم نے پوچھا ’’طارق صاحب کیا بات ہے۔ کوئی گڑ بڑ ہو گئی؟‘‘

بولے ’’آفاقی صاحب۔ ان لوگوں میں تو ایک دوسرے کے لئے برداشت ہی نہیں ہے۔‘‘

’’مگر ہوا کیا؟‘‘

’’بس جھگڑا ہو گیا۔ ناراض ہو کر سیٹ سے چلے گئے۔‘‘

ہم نے کہا ’’محمد علی ہمارے دفتر میں بیٹھے ہیں۔ آپ ان کے پاس جائیں۔ زیبا اور وحید مراد کہاں ہیں؟‘‘

’’وہ دونوں وہیں سیٹ پر ہیں مگر فوٹو سیشن تو آج نہیں ہو سکتا۔‘‘

ہم نے کہا ’’آپ دفتر میں جا کر محمد علی صاحب کو روکیں۔ ہم ابھی سیٹ پر سے ہو کر آتے ہیں۔‘‘

لیجئے۔ اسے کہتے ہیں سرمُنڈاتے ہی اولے پڑے یعنی ہماری فلم کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوا اور اداکاروں کے لڑائی جھگڑے شروع ہو گئے۔

ہم سیٹ پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک پرانی سی چارپائی پر زیبا بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان کے سامنے ایک پرانی سی لکڑی کی کرسی پر وحید مراد تشریف فرما ہیں۔ کیمرہ مین کامران مرزا دوسرے کونے میں کھڑے اسٹل فوٹو گرافر کے ساتھ دبی آواز میں کچھ باتیں کر رہے ہیں۔ ہمیں دیکھا تو وہ تیزی سے ہماری طرف بڑھے۔

’’کامران صاحب، کیا ہوا؟‘ یہ قِصّہ کیا ہے؟‘‘

انہوں نے زیبا اور وحید مراد کی طرف دیکھا اور بولے ’’ان سے پوچھ لیجئے۔‘‘

وحید مراد ہمیں دیکھ کر کرسی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے تھے اور ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی مگر زیبا مسکرا رہی تھی۔

زیبا نے ہم سے کہا ’’آیئے پروڈیوسر صاحب۔ آپ ہی کی کمی باقی تھی۔‘‘

ہم نے پوچھا ’’محمد علی سیٹ سے کیوں چلے گئے؟‘‘

زیبا نے جواب دیا ’’دماغ کی خرابی۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’مطلب یہ کہ غصّہ تو ان کی ناک پر دھرا رہتا ہے۔ بات بے بات ناراض ہوتے رہتے ہیں۔‘‘

’’مگر کوئی وجہ تو ہوگی؟‘‘

’’ہم نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔ چاہے وحید مراد سے پوچھ لو۔‘‘

ہم نے وحید مراد کی طرف دیکھا۔ وہ کچھ اب سیٹ نظر آ رہے تھے۔

’’بھئی ہوا کیا ہے۔ آخر معلوم تو ہو؟‘‘

وحید مراد نے بے بسی سے کندھے اچکائے اور بولے ’’ہوا تو کچھ بھی نہیں۔ ہم دونوں یہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ محمد علی صاحب باہر سے آئے۔ کامران صاحب نے ہم تینوں کو پوزیشن سمجھائی اور کیمرے کے سامنے کھڑے ہونے کو کہا۔ طارق صاحب ہمیں تصویر کا بیک گراؤنڈ سمجھا رہے تھے کہ اچانک محمد علی صاحب ’’یہ کیا طریقہ ہے‘‘ کہہ کر باہر چلے گئے۔ طارق صاحب نے انہیں آواز دے کر روکنے کی کوشش بھی کی مگر وہ نہ رُکے اور سیدھے باہر چلے گئے۔‘‘

ہم نے حیران ہو کر وحید مراد کی طرف دیکھا ’’یہ کیا بات ہوئی۔‘‘

انہوں نے معصومیت سے جواب دیا۔ ’’یہی تو میں حیران ہوں۔‘‘

ہم نے پھر زیبا کی طرف دیکھا۔ اب وہ قدرے سیریس نظر آ رہی تھیں۔

’’دیکھو آفاقی وحید نے بالکل ٹھیک کہا ہے، ہم نے ان سے کچھ بھی نہیں کہا ہم تو آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ طارق صاحب نے ہمیں بلایا تو ہم اپنی پوزیشن میں آ کر کھڑے ہوگئے۔ محمد علی اور وحید مراد بھی میرے دونوں طرف آ کر کھڑے ہوگئے اور کامران صاحب لائٹس چیک کرنے لگے۔ طارق صاحب نے مجھے بتایا کہ آپ تینوں آپس میں بہت اچھے دوست ہیں اور اس وقت خوش گوار موڈ میں ہیں۔ آپ ہنستے ہوئے ان دونوں کے بازو میں بازو ڈالیں اور کیمرے کی طرف دیکھیں۔ میں نے وحید کے بازو میں بازو ڈال دیا اور پھر جب محمد علی کی طرف ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے یک دم میرا ہاتھ جھٹک دیا اور بڑبڑاتے ہوئے غصے میں سیٹ سے باہر چلے گئے۔ اب تم ہی بتاؤ کہ اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ اگر میرا یقین نہیں ہے تو کامران صاحب سے پوچھ لو۔‘‘

ہم نے کامران مرزا کی طرف دیکھا وہ بھی کچھ پریشان سے نظر آ رہے تھے۔ ہمارے پوچھنے پر انہوں نے کہا ’’مجھے تو کچھ پتا نہیں کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔ میں تو لائٹس درست کر رہا تھا میری توجہ کیمرے کی طرف تھی۔ جب میں نے اس طرف دیکھا تو محمد علی صاحب ناراض ہو کر سیٹ سے باہر جا رہے تھے۔ طارق صاحب نے انہیں آواز بھی دی مگر وہ ان سنی کر کے چلے گئے‘‘۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ اس جھگڑے میں کسی کی طرفداری نہیں کرنا چاہتے تھے۔‘‘

ہم نے پوچھا ’’ہم یہی تو پوچھ رہے ہیں کہ محمد علی کس بات پر ناراض ہوگئے؟‘‘

وہ بولے ’’یہ تو میں نہیں جانتا۔ میرا دھیان اس وقت کسی اور طرف تھا۔‘‘

ان تینوں کے بیانات کے بعد سیٹ پر موجود لائٹ مین‘ اسسٹنٹ کیمرا مین‘ فوٹو گرافر اور سیٹنگ قلیوں سے دریافت کرنا بے سود تھا۔

وحید مراد نے پوچھا کیا ’’محمد علی صاحب چلے گئے‘‘

ہم نے کہا ’’گئے تو نہیں لیکن اگر صحیح بات معلوم نہ ہوئی اور ان کی شکایت دور نہ کی گئی تو شاید چلے ہی جائیں گے۔ آپ لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔‘‘

’’مگر ہم نے کیا کیا ہے؟‘‘ زیبا نے احتجاج کیا۔

ہم نے کہا ’’کچھ نہ کچھ تو ضرور کیا ہے‘‘

زیبا کے چہرے پر ایک بار پھر شرارت آمیز مسکراہٹ نمودار ہوئی جسے وہ بڑی صفائی سے چھپانے میں کامیاب ہوگئیں۔

(جاری ہے, اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ