جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر84

09 ستمبر 2017 (15:08)

میں یہاں رادھا سے ملنے کی خاطر ہی آیا تھا لیکن اس کے بقول وہ کسی ضروری کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے نہ آسکتی تھی۔ دل چاہا واپس عمران کے گھر چلا جاؤں لیکن صائمہ کو کیا جواب دیتا یہ سوچ کر میں نہ چاہتے ہوئے بھی بستر پر لیٹ گیا۔ ذرا سی آہٹ پر چونک اٹھتا ہر چند کہ رادھا نے کہا تھا چمارو میری حفاظت کرے گا لیکن ان پراسرار قوت کے مالک لوگوں پر مجھے کچھ زیادہ یقین نہ رہا تھا۔ کافی دیر بعد نیند آئی۔ جب میری آنکھ کھلی تو دس بج رہے تھے۔ جلدی سے تیار ہو کر بینک پہنچ گیا۔ چپراسی سے کہہ کر چائے اور بسکٹ منگوا کرمیں نے ناشتہ کیا اور محمد شریف کو بلوا لیا۔

’’اسلام علیکم جناب عالی‘‘ اس کا مسکراتا ہوا شفیق چہرہ سامنے تھے۔

’’وعلیکم اسلام! آؤ محمد شریف بیٹھو‘‘ میں نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

میری بے چین نظروں کا مفہوم جان کر اس نے کہا۔

’حضرت صاحب نے ہماری مدد کرنے کی حامی بھر لی ہے۔۔۔بدبخت شیطان کو شکست فاش ہوگی۔ انشاء اللہ‘‘

جنات کے چنگل میں پھنسے خاندان کی کہانی۔ ۔ ۔ قسط نمبر83 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’انشاء اللہ‘‘ بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک تعویز نکالا اور میرے ہاتھ پر رکھتے ہوئے بولا۔

’’یہ حضرت صاحب نے دیا ہے۔ فرما رہے تھے اسے صائمہ بیٹا کے گلے میں پہنچا دینا لیکن اس وقت اس کی طبیعت ٹھیک ہو۔ آپ سمجھ گئے نا؟‘‘ میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’اللہ کریم کے حکم سے وہ بدکار دوبارہ خاتون محترم کے جسم پر قبضہ نہ کر سکے گا۔‘‘ اس کے الفاظ سے میرے دل کو تسلی ہوئی۔

’’بہت شکریہ محمد شریف۔ میں تمہارا احسان کبھی نہ بھولوں گا‘‘ میں نے عقیدت سے چوم کر تعویذسامنے والی جیب میں رکھ لیا۔

’’اس کے علاوہ حضرت صاحب نے ایک پیغام بھی دیا ہے‘‘

’’وہ کیا؟‘‘ میرا دل دھڑکنے لگا۔

’’فرما رہے تھے آپ کو مبارک باد دے دوں کہ بہت جلد آپ سے کوئی نیک کام لیا جائے گا‘‘

میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔اپنی بدکاری اور دین سے دوری کا سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘ میں کہاں اس قابل کہ مجھ سے کسی نیک کام کی توقع کی جائے۔‘‘ آنسو چھپانے کی خاطر میں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

’’اللہ کے نزدیک کون کتنا اچھا ہے؟ یہ وہ مالک دو جہاں خود بہتر جانتا ہے ہم تو سب اس کے حکم کے بندے ہیں۔ حضرت صاحب کا فرمان میرے پاس آپ کی امانت تھا میں نے پہنچا دیا۔‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ میرے آنے کے بعد عمران کھانا کھانے گھر چلا گیا تھا۔ جب وہ واپس آیا تو اس نے بتایا۔

’’بھابی بچوں کو لے کر گھر چلی گئی ہیں کہہ رہی تھیں آپ سیدھے گھر آجائیں‘‘ اسکی بات سن کر میری کان کھڑے ہوگئے۔

’’لیکن وہ گھر کیوں چلی گئی؟ میں نے کہا تو تھا کہ شام کو میں خود لے جاؤں گا۔‘‘ میں نے الجھ کر پوچھا۔

’’کہہ رہی تھیں میرے سرمیں درد ہے گھر جا کر کچھ دیر آرام کروں گی۔‘‘ عمران نے کہا۔

’’اچھا ٹھیک ہے‘‘ میں نے کہا لیکن میرے دل میں طرح طرح کے خدشات آرہے تھے۔ بچوں کا صائمہ کے ساتھ اکیلا گھر میں ہونا اچھا نہیں تھا۔ کیا خبر کب اس کی طبیعت پھر خراب ہو جائے۔ یہ سوچ کر میں نے عمران سے کہا

’’میں ذرا گھر کا ایک چکر لگا آؤں صبح صائمہ کی طبیعت خراب تھی۔‘‘ یہ کہہ کر میں آندھی اور طوفان کی طرح گھر پہنچا۔ گیٹ کھول کر میں ے گاڑی گیراج میں کھڑی کی۔ گھر میں سنانا چھایا ہوا تھا۔ ابھی میں گاڑی سے اترنے بھی نہ پایا تھا کہ مومنہ کی دل خراش چیخ نے فضا کا سینہ چیر دیا۔ میں بھاگتا ہوا بیڈا روم میں پہنچا۔ صائمہ دونوں ہاتھ پہلوؤں پر رکھے کمرے کے درمیان کھڑی تھی۔ دونوں بچے سہم کو کرنے میں دبکے ہوئے تھے۔ خوف سے ان کی آنکھیں پھٹی اور چہرے زرد تھے۔ احد نے مومنہ کو اپنے بازوؤں میں لے رکھا تھا۔وہ حد درجہ خوفزدہ تھے اور سہمی ہوئی نظروں سے صائمہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں صائمہ کا چہرہ نظر آرہا تھا۔اُ ف میرے خدا۔۔۔اسکا چہرہ اس قدر بھیانک ہو چکا تھا کوئی بڑا بھی دیکھتا تو خوف سے اس گھگی بندھ جاتی۔ صائمہ کی زبان گز بھر لمبی ہو کر باہر نکل آئی تھی۔ آنکھیں بڑی ہو کر گولائی اختیار کر چکی تھیں۔ چہرہ اس قدر ڈراؤنا ہو چکا تھا کہ نظر بھر دیکھنا مشکل تھا۔ اسی وقت صائمہ کی نظر مجھ پر پڑی۔ کھڑے کھڑے اس کی گردن گھوم گئی۔ اس کا صرف چہرہ میری طرف ہوا تھا ورنہ وہ اسی طرح میری طرف پشت کیے کھڑی تھی۔ بچوں نے مجھے دیکھا تو چیخیں مارنے لگے۔ میرا بدن غصے سے کانپنے لگا۔ اپنے ننھے منے معصوم بچوں کو اس حالت میں دیکھ کر میں غصے سے پاگل ہوگیا۔ جنون کی حالت میں میں صائمہ کی طرف بڑھا اور اللہ کا نام لے کر پوری قوت سے اس کے چہرے پر تھپڑ جڑ دیا۔ مجھے یقین ہے اگر وہ تھپڑ کسی آدمی کو بھی پڑتا تو وہ کئی فٹ دور جا گرتا لیکن صائمہ صرف لہرا کر رہ گئی۔

’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔‘‘ اس کے منہ سے خوفناک قہقہہ بلند ہوا۔

’’توآگیا۔۔۔ٹھیک کیا۔۔۔آج میں تیرے سامنے تیری سنتان کے شریرسے رت پی کر ان کاماس(جسم کا خون پی کر ان کا گوشت) کھاؤں گا۔‘‘ اس نے سرخ انگارہ آنکھوں سے مجھے گھورا۔

’’آج تجھے میں بتاؤں گا بلو ان کون ہے؟ دیکھ کیسا کومل شریر ہے ان بالکوں کا ۔۔۔ان کا ماس بڑا سوادش (مزے دار) ہوگا۔‘‘ اسنے اپنی لمبی زبان کو سکوڑ کر ہونٹوں پرپھیرا۔ گردن دوبارہ بچوں کی طرف گھوم گئی۔ جنہوں نے سہم کر آنکھیں بند کر لی تھی۔ احد خان کے ہونٹ تیزی سے ہل رہے تھے۔ صائمہ نے اسے سمجھا رکھا تھا جب کبھی ڈر لگے کلمہ پڑھا کرو، اس کے اثر سے چڑیلیں ڈرکر بھاگ جاتی ہیں۔ مومنہ بھائی کی بغل میں گھسی ہوئی تھی۔ اس کا ننھا وجود خوف سے کانپ رہا تھا۔ ان کا حال دیکھ کر میں پاگل ہوگیا۔ صائمہ کا ہاتھ درازہوکر بچوں کی طرف بڑھنے لگا۔ بچے اس قدرسہم گئے تھے کہ وہ میری طرف بڑھنا بھول گئے۔ حالانکہ احد مجھے دیکھ چکا تھا۔

میں سپرنگ کی طرح اپنی جگہ سے اچھلا اور پورے زور سے صائمہ کے ساتھ ٹکرا گیا۔ ساتھ ہی میں نے بالوں سے پکڑکراسے اچھال دیا۔ وہ ہوا میں اڑتی ہوئی بیڈ پر جاگری۔ لیکن فوراً اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلنے لگیں۔ زبان سانپ کی طرح بار بار اندر باہر ہونے لگی۔ اسنے اپنے ہاتھوں کا رخ میری طرف کیا۔ اچانک اس کے ہاتھ لمبے ہو کر میری گردن کی طرف بڑھنے لگے۔ سادھو امر کمار نے بھی اس طرح کا مظاہرہ کیا تھا اس وقت رادھا میری مدگار تھی جبکہ آج میں اکیلا تھا۔ مجھے اپنی نہیں بچوں کی فکر تھی۔ صائمہ کے خوبصورت ہاتھ یک بیک سیاہ اور بد وضع ہوگئے۔ ان پر بال نکلنے لگے، تھوڑی دیر میں وہ جانور کے پنجے کی شکل اختیار کر گئے۔ تیزی سے اسکے ہاتھ میری گردن کی طرف بڑھ رہے تھے۔ میں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگا۔ میں چاہتا تھا کسی طرح بچوں کے پاس پہنچ جاؤں لیکن وہ خبیث میرا عند یہ بھانپ چکا تھا۔

قریب تھاکہ میری گردن اس کے شکنجے میں ہوتی بے اختیار میری زبان پر آیتہ الکرسی کا ورد جاری ہوگیا۔۔۔ہاتھ وہیں رک گئے۔ میں بلند آواز سے آیتہ الکرسی کا ورد کرنے لگا ۔دونوں بچے آہستہ آہستہ رو رہے تھے۔ مومنہ کی ہچکیاں بندھ چکی تھیں۔ صائمہ کے ہاتھ مجھ سے کچھ فاصلے پر رک گئے تھے۔

’’آگے بڑھ پھر دیکھ میں تیرا کریہ کرم کیسے کرتا ہوں؟‘‘ میں نے اسکی طرف کوئی دھیان نہ دیا بلکہ آہستہ سے کھسکتا ہوا بچوں کی طرف بڑھنے لگا۔

’’یہیں رک جا۔۔۔نہیں تومیں اس بالک کو نرکھ میں پہنچا دوں گا‘‘ صائمہ کے منہ سے دھاڑ نکلی اور اس نے ہاتھ کا رخ بچوں کی طرف کردیا۔ میں ٹھٹھک کر رک گیا۔ آیتہ الکرسی کی برکت اور بزرگ کے دیے ہوئے تعویذ کی وجہ سے وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔

’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔‘‘ فتح کے نشے سے سرشار اس نے قہقہہ لگایا۔

’’بہت پریم ہے نا تجھے اپنی سنتانسے۔۔۔آج تو کھد دیکھے گا میں ان کا ماس کیسے کھاتاہوں؟‘‘ ہاتھ ایک بار پھر بچوں کی طرف بڑھنے لگا۔ احد نے آنکھیں کھول کر دیکھا۔۔۔فلک شگاف چیخ اسکے منہ سے نکلی۔ اس کے ساتھ ہی مومنہ نے بھی آنکھیں کھول دیں۔ جانور کے پنجے نما ہاتھ کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ بے ہوش ہو کر ایک طرف لڑھک گئی۔ احد مسلسل چیخ رہا تھا۔ اب دیر کرنا درست نہ تھا۔ میں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور بھاگتا ہوا صائمہ سے ٹکرا گیا۔ میری زور دار ٹکر سے اس کے پاؤں اکھڑ گئے۔ میں سینے کے بل اس سے ٹکرایا تھا۔ دراصل میں اسے دبوچنا چاہتا تھا۔ دل دہلا دینے والی چیخ صائمہ کے منہ سے نکلی، وہ سینہ پکڑے نیچے گرکر بے ہوش ہوگئی۔ اس کا ہاتھ اور چہرہ یک دم اپنی اصلی حالت میں آگئے۔ میں بھاگ کر بچوں کے پاس پہنچا ۔مومنہ کو اٹھایا اور باتھ روم میں جا کر اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دیں۔ میرے چہرے پر نظر پڑتے ہی وہ میرے ساتھ لپٹ کر رونے لگی۔ احد بھی میری ٹانگوں سے لپٹا ہوا تھا۔ دونوں بچے اس قدر سہم چکے تھے کہ ان سے ٹھیک طرح سے رویا بھی نہ جا رہا تھا۔ میں نے مومنہ کو کندھے سے لگاکر دوسرے ہاتھ سے احدکو اٹھالیا۔ دونوں میرے سینے سے چپک گئے۔ میں باتھ روم سے باہر آیا تو دیکھا صائمہ بال کھولے بیڈ پر بیٹھی جھوم رہی ہے۔ اس نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا۔

کیسے ہو رادھا کے موہن؟‘‘ میں بری طرح چونک گیا۔ صائمہ کی سرخ آنکھیں تمسخر سے بھری ہوئی تھیں۔

’’تم کون ہو؟‘‘ میں نے بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں پوچھا۔

’’تمیری پتنی کا پریمی‘‘ اس نے مضحکہ خیز لہجے میں جواب دیا۔ بچے ایک بارپھر سہم کرمیرے ساتھ چپک گئے۔ میں نے بہتر یہی سمجھا کہ اس وقت بچوں کو لے کر گھر سے نکل جاؤں اور انکو عمران کے گھر چھوڑ کر دوبارہ واپس آکر اس خبیث سے نبٹوں۔ اتنا میں جان چکا تھا کہ وہ مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ سوچ کر میں نے قدم باہر کی طرف بڑھائے۔

’’کہاں جا رہا ہے پلید؟‘‘ مجھے جاتے دیکھ کر صائمہ کھڑی ہوگئی۔ میں نے دل ہی دل میں کلمہ طیبہ کا ورد جاری رکھا اور بیڈ روم سے باہر نکل گیا۔

’’کہاں بھاگ رہا ہے قائر اپنی پتنی کو کس پر چھوڑے جا رہا ہے؟ کیا میں یہ سمجھوں کہ تو نے اپنی پتنی مجھے دان کردی؟‘‘

اس نے بلند آواز سے کہا۔ میرا دل چاہابچوں کو اتارکر اس حرامی کا منہ توڑ دوں۔ لیکن میں جانتا تھا اس طرح تکلیف صرف صائمہ کو ہوگی دل پر پتھر رکھے زہر کے گھونٹ پیتاباہر نکل آیا۔ اس کے بلند آہنگ قہقہے میرا پیچھا کرتے رہے۔

(جاری ہے ، اگلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں