مقبول ترین شاعراحمد فراز نے قراردادکشمیرپر دستخط کرنے سےانکارکیا اور پھر ایسی بات کہہ دی جس کی ان سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی

مقبول ترین شاعراحمد فراز نے قراردادکشمیرپر دستخط کرنے سےانکارکیا اور پھر ...
مقبول ترین شاعراحمد فراز نے قراردادکشمیرپر دستخط کرنے سےانکارکیا اور پھر ایسی بات کہہ دی جس کی ان سے توقع نہیں کی جاسکتی تھی

  



فرید نظامی .

احمد فراز ترقی پسند شاعر تھے ۔پاکستان میں ترقی پسندوں کوسیکولر اور ملحد کہا جاتا ہے جو ریاست اور مذہب دونوں کے بارے میں اپنے مخصوص نظریات رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمارے ہاں بائیں بازو والے کہلاتے ہیں جن پر یہ بہتان لگایا جاتا ہے کہ وہ مروجہ نظام کے باغی اور قومی نظریات کے مخالف ہوتے ہیں جس سے ملک دشمنوں کےنظریات اور پروپیگنڈے کو پاکستان میں فروغ ملتا ہے ۔احمد فراز پر ایسے الزامات عائد ہوتے رہے،ضیا الحق کے دورمیں انہوں نے جب باغیانہ شاعری کی تو صدر ضیا الحق کے عتاب سے بچنے کے لئے انہیں جلاوطن ہونا پڑا۔جوانی میں بھی وہ فوج کے روائتی نظام پر کڑی تنقید کرتے تھے لیکن عجیب معاملہ ہے کہ اردو ادب کی کہنہ شخصیت سید ضمیر جعفری سے یہ بات منسوب ہے کہ انہوں نے احمد فرازکی شخصیت کا اپنی ایک تحریر میں  ایک ایسا پہلو اجاگر کردیا تھا جن کی ایک ترقی پسند اور قومی نظرئےے کے مخالف سے امید نہیں کی جاتی ۔

سید احمد ضمیر جعفری نے لکھاہے”ایک وقت تھا کہ فراز اگرچہ میرے پسندیدہ ترین شعراء میں شامل تھا مگر میں اس کی شخصیت کے حوالے سے کچھ غلط فہمیوں میں مبتلا تھا۔1980ء کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں پاک ہند مشاعروں میں شرکت کے لئے میں اور فراز بھارت گئے تو وہاں تقریباً دو ہفتے اکٹھے گزرے اور یوں فراز کی شخصیت کی مختلف پرتیں زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں۔ اس شاعر خوش نوا کے ساتھ بہت طویل نشستیں ہوئیں اور یوں مختلف مسائل پر اس کا نقطہ نظر سامنے آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کی عوام دوستی اور وطن دوستی کا نظریہ مجھ سے مختلف تو ضرور تھا مگر اس میں کوئی کھوٹ نہیں تھا، چنانچہ کئی محفلوں میں اس نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کی۔ ایک ٹی وی پروگرام میں تو وہ ایک بھارتی وزیر سے باقاعدہ الجھ پڑا۔ اس کے بعد چند برس پیشتر اس نے شدید بارش کے دوران اسلام آباد میں مقیم شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ پیدل مارچ کرتے ہوئے بھارتی سفارت خانے میں آزادی کشمیر کے حوالے سے ایک یادداشت بھی پیش کی۔

اردو کی مقبول ترین شاعرہ پروین شاکرجس محفل میں بھی جاتیں ،ایک ایسی حرکت کردیتیں کہ اس کے بعد انہیں ننگے پاوں گھر جانا پڑتا تھا

فراز بیسیوں دفعہ بھارت گیا مگر اس نے کسی ایک موقع پر بھی انڈین میڈیا کا وہ”اکھنڈ بھارتی دانہ“ نہیں چگا جو وہ اکثر پاکستانی مہمانوں کے سامنے ڈالتے ہیں اور چند بے غیرت قسم کے پاکستانی وہ دانہ چگنے بھی لگتے ہیں۔

فراز کے حب الوطنی کے ایک مظاہرے پر مجھے محسوس ہوا کہ وہ تو مجھ سے بھی زیادہ محب الوطن ہے۔ یہ نومبر 1993 کی بات ہے ہم لوگ اسلام آباد کے ایک ادبی اجتماع میں کشمیر کے مسئلہ ہر ایک قرارداد کی حمایت میں اہل قلم کے دستخط حاصل کر رہے تھے۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے ہندوستان سے مجلس اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق اس مسئلے کے تصفیے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

فراز کے بارے میں بعض دوست متذبذب تھے۔ میں کاغذ لے کر فراز کے پاس گیا تو اس نے مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔ تقریبا چنگھاڑتے ہوئے بولا۔۔۔”یہ کیا لکھ لائے ہو بابا۔ قراردادوں سے کچھ نہیں ہوگا ، میں دستخط نہیں کرتا“

میں سمجھا وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا مگر پھر جب یہ کہتے ہوئے سنا

”یہ قرارداد بڑی بے جان ہے۔ لہجہ معذرت خواہانہ ہے۔ ہمیں کشمیر کے معاملے میں پوری قوت کے ساتھ ”اسرٹ“ Assert کرنا ہوگا“

اس کے جذبات کی شدت کا اندازہ ہوا۔ وہیں ایک صاحب نے بتایا کہ فراز نے اس مسئلے پر بمبئی میں زی ٹی وی پروگرام ”سرحد“ میں اپنے مدمقابل ہندوستان کے وکیلوں،سنیل دت ، کلدیپ نیئر ، کرتار سنگھ دگل اور عارف محمد خان کو کھری کھری سنائیں، یہ ”لال پیلا انٹرویو“۔۔ دیکھنے سننے سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔ کہنا یہ ہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کی حب الوطنی کے بارے میں سوئے ظن کرنے میں بڑی عجلت سے کام لیتے ہیں اور اس عمل میں لذت بھی محسوس کرتے ہیں۔“

مزید : ادب وثقافت


loading...