’ایران طالبان کو بھاری اسلحہ دے رہاہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ۔۔۔‘ افغان فوج کے جرنیل نے ایک ہی بیان سے بڑی ’جنگ‘ چھیڑدی

’ایران طالبان کو بھاری اسلحہ دے رہاہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ۔۔۔‘ افغان ...
’ایران طالبان کو بھاری اسلحہ دے رہاہے اور اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ۔۔۔‘ افغان فوج کے جرنیل نے ایک ہی بیان سے بڑی ’جنگ‘ چھیڑدی

  



کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان حکام کی جانب سے یہ اشارے تو پہلے بھی دئیے جاتے تھے کہ طالبان کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے، لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ افغان فوج کے ایک سینئیر جرنیل نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ایران طالبان کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے، اور ساتھ یہ دعوٰی بھی کر دیا ہے کہ افغانستان کے پاس اس کے دستاویزی ثبوت ہیں۔

عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق پہلی بار کسی اعلیٰ افغان عہدیدار نے دوٹوک الفاظ میں یہ بات کہی ہے کہ ایران کی جانب سے طالبان کی عسکری مدد کی جارہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بی بی سی فارسی سروس سے بات کرتے ہوئے افغان نیشنل آرمی کے لیفٹیننٹ جنرل محمد شریف یفتالی کا کہنا تھا کہ صدر اشرف غنی نے اپنے دورہ ایران کے دوران بھی یہ معاملہ ایرانی حکام کے سامنے رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پاس ایسے دستاویزی ثبوت ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران مغربی افغانستان میں طالبان کو ہتھیار فراہم کررہا ہے، تاہم انہوں نے اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کے تہلکہ خیز بیان پر ایران کی جانب سے ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا جبکہ طالبان کے ترجمان نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

’مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب میری بیٹی ایوانکا مجھ سے۔۔۔‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسی شرمناک بات کہہ دی کہ انٹرنیٹ صارفین ان پر ٹوٹ پڑے

اس سے پہلے مغربی افغانستان میں مقامی حکام یہ الزامات عائد کرچکے ہیں کہ طالبان کو ایران کی جانب سے عسکری مدد فراہم کی جارہی ہے، اور اس کے شواہد کے طور پر طالبان جنگجوﺅں سے پکڑے جانےوالے اسلحے اور بارودی سرنگوں کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری کا کہنا تھا کہ جنرل یفتالی کے بیان کو درست طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے پاس ثبوت نہیں بلکہ محض اطلاعات ہیں کہ طالبان کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور ان اطلاعات کی تحقیق کی جارہی ہے۔ ماضی میںا یران کی جانب سے ایسے تمام الزامات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے کہ اس کی جانب سے طالبان کی عسکری مدد کی جارہی ہے۔

مزید : بین الاقوامی


loading...