2 ارب روپے کی لاٹری جیتنے والے شخص کی زندگی میں اس کے بعد کیا تبدیلی آئی؟ تفصیلات جان کر آپ کے دل سے پیسے کی تمام محبت ختم ہوجائے گی

2 ارب روپے کی لاٹری جیتنے والے شخص کی زندگی میں اس کے بعد کیا تبدیلی آئی؟ ...
2 ارب روپے کی لاٹری جیتنے والے شخص کی زندگی میں اس کے بعد کیا تبدیلی آئی؟ تفصیلات جان کر آپ کے دل سے پیسے کی تمام محبت ختم ہوجائے گی

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) راتوں رات دولت کے حصول کی خواہش تو سبھی کو ہوتی ہے لیکن اگر کوئی اس میں کامیاب ہو جائے تو غربت کی دلدل سے نکل کر اچانک امیر بن جانے پر اس کے لیے دماغ کو ٹھکانے پر رکھنا اکثر ناممکن ہو جاتا ہے۔ برطانیہ کے اس مسلمان شخص کی کہانی بھی ایسی ہی ہے جس نے غربت میں آنکھ کھولی اور تنگ دستی میں عمر گزاری، پھر قسمت نے ساتھ دیا اور یہ تاریخی لاٹری جیت کر اچانک ارب پتی بن گیا۔ بس پھر کیا تھا، اپنوں کا ہاتھ جھٹکا اور برائی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا اور اپنی عاقبت کو بھی بھلا بیٹھا۔ گزشتہ ماہ یہ شخص سفرآخرت پر روانہ ہوا اور آج ایک بے نام قبر میں استراحت فرما ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کا نام مختار محی الدین تھا۔ 23سال قبل 43سال کی عمر میں اس کی 1کروڑ 80لاکھ پاﺅنڈ (تقریباًاڑھائی ارب روپے) کی لاٹری نکل آئی۔ یہ برطانیہ کی تاریخ میں پہلی اتنی بڑی لاٹری تھی جو کسی شخص کی نکلی۔

اس نوجوان لڑکی کے جسم کی ایک چیز اتنی بڑی ہے کہ ورلڈ ریکارڈ بن گیا، ایسا کیا ہے؟ جو دیکھے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں

رپورٹ کے مطابق اتنی بڑی رقم جیتنے پر مختار اور اس کی بیوی سعیدہ کے درمیان رقم خرچ کرنے پر جھگڑا رہنے لگا۔ دونوں نے اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے ایک جوائنٹ اکاﺅنٹ کھلوایا جس سے رقم نکلوانے کے لیے دونوں کے دستخط لازمی ہوتے تھے لیکن جب بھی مختار کہیں غیرضروری طور پر رقم خرچ کرنے لگتا تو سعیدہ چیک پر دستخط کرنے سے انکار کر دیتی جس پر یہ اسے تشدد کا نشانہ بناتا۔ وقت کے ساتھ سعیدہ کے لیے صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی اور وہ اپنے تین بچوں کو لے کر ہوٹل میں رہنے لگی۔ مختار ہوٹل گیا اور زبردستی اسے گھر لانے کی کوشش کی تو پولیس بلالی گئی اور مختار نے ایک رات حوالات میں گزاری۔ پھر ایک روز مختار نے سعیدہ پر تشدد کیا اور بندوق دکھا کر اسے قتل کرنے کی دھمکی دی جس پر سعیدہ نے اس سے طلاق لے لی۔

اپنوں کو تج دینے کے بعد مختارکا ایک جسم فروش خاتون شارلٹ ڈوئیل کے ساتھ معاشقہ شروع ہو گیا جو طویل عرصے تک چلا۔ دونوں کے ہاں ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی جو اب جوان ہے۔ شارلٹ نے مختار کی موت کے بعد ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ ”ہم نے منگنی کی تھی، لیکن کبھی شادی نہیں کی۔ مختار بیٹی کی پیدائش پر بہت خوش تھا۔ پہلی ملاقات میں وہ میرا خریدار تھا لیکن پھر ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی اور اس نے میرا جسم فروشی کا دھندہ چھڑوا دیا اور ہم ایک ساتھ رہنے لگے تھے۔“ رپورٹ کے مطابق بیوی کو طلاق دینے اور ایک جسم فروش خاتون کو گھر لانے پر مختار کے خاندان اور کمیونٹی نے اس کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ چنانچہ گزشتہ ماہ اس کا انتقال ہوا تواس کا کوئی رشتہ دار اس میں شریک نہ ہوا۔ انتہائی خاموشی کے ساتھ مقامی مسجد میں اس کا جنازہ پڑھا گیا اور برک شائر کے قبرستان میں اسے ایک بے نام قبر میں دفن کر دیا گیا۔ اس کی قبر کے کتبے پرنام کی بجائے Q1147لکھا ہوا ہے اور قبر پر پھولوں کا ایک گلدستہ پڑا ہے جس کے پھول کملا چکے ہیں۔ لگتا ہے اس کی تدفین کے بعد کوئی بھی اس کی قبر پر نہیں آیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...