آنگ سان سوچی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ حقِ خودارادیت اور دہشت گردی کو ایک ہی پلڑے میں تول لیں: سید علی گیلانی

آنگ سان سوچی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ حقِ خودارادیت اور دہشت گردی کو ایک ہی پلڑے ...
آنگ سان سوچی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ حقِ خودارادیت اور دہشت گردی کو ایک ہی پلڑے میں تول لیں: سید علی گیلانی

  



سری نگر(یوا ین پی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے کہاہے کہ بحیثیت ایک مظلوم قوم کے ہم رونگہیائی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے خطوں میں بلالحاظ مذہب وملّت مظلومین کے درد کی کسک محسوس کرتے ہیں۔ آنگ سان سوچی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ حقِ خودارادیت اور دہشت گردی کو ایک ہی پلڑے میں تول لیں۔

فاروق ستار صاحب !کچھ تو خوف کریں آپ سندھ کے بادشاہ بنے بیٹھے ہیں اور کیا چاہیے؟مولا بخش چانڈیو

سری نگر میڈیاکے مطابق سید علی گیلانی کاکہنا تھا کہ حکومت برما کی سربراہ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کورونگہیائی مسلمانوں کی وسیع پیمانے پر قتل وغارت اور نقل مکانی جیسے سنگین جنگی جرائم کو کشمیر سے جوڑنے کے بجائے اِسے انسانی نکتہ نگاہ سے پرکھ لینا چاہیے۔ آنگ سان کو یہ زیب نہیں دیتا ہے کہ وہ حقِ خودارادیت اور دہشت گردی کو ایک ہی پلڑے میں تول لیں۔حریت رہنما نے رونگہیائی مسلمانوں کے قتل وغارت کے خلاف لگائے گئے پُرامن احتجاجی مظاہروں پر پولیس انتظامیہ کی طرف سے بے تحاشا لاٹھی چارج اور طاقت کے بے جا استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظلومین کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرنا ہر انسان کا جمہوری اور اخلاقی حق ہے۔میرا انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ ہے کہ وہ بلالحاظ مذہب وملّت ہر انسان کے مال، جان اور عزت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنے تسلیم شدہ انسانی حقوق کے چارٹر کو لفظ اور رُوح کے ساتھ ایک بار پھر پڑھ لیں اور اس کے آئینے میں مسئلہ کشمیر، فلسطین اور دیگر تنازعات کا حل نکالنے کی ذمہ داری نبھائیں ۔

مزید : قومی