نواز شریف کی رخصتی میں فوج کا کوئی کردار نہیں، سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کا راستہ غلط ہے:چوہدری نثار علی خان

نواز شریف کی رخصتی میں فوج کا کوئی کردار نہیں، سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ ...
 نواز شریف کی رخصتی میں فوج کا کوئی کردار نہیں، سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کا راستہ غلط ہے:چوہدری نثار علی خان

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وفاقی وزیر چوہدری نثار نے کہاہے کہ نواز شریف کی رخصتی میں فوج کا کوئی کردار نہیں،سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کا راستہ غلط ہے، محاذ آرائی سے ہم اپنی پوزیشن بہتر نہیں بلکہ کمزور کریں گے،ڈان لیکس پر ابتدائی رپورٹ آرمی نے دی اور اس کی وزیراعظم سکریٹریٹ کے تحت آئی بی نے تصدیق کی تھی ،مغرور نہیں محدود رہتا ہوں زیادہ سوشل نہیں،میں دشمنیوں اور دوستیوں کو بہت لمبا نبھاتا ہوں،ہمیشہ سچ بات کی ،2013 کے بعد نواز شریف کے چہرے پر ناگواری آئی جو ناراضگی کا سبب بنی 

میرے مخالفین کہتے ہیں میں مغرورہوں لیکن میں مغرور نہیں ہوں بلکہ محدود رہتا ہوں ،زیادہ سوشل نہیں ہوں ،میں دشمنیوں اور دوستیوں کو بہت لمبا نبھاتا ہوں۔

نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز ‘‘ کے پروگرام ’’جرگہ ‘‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ 2013تک کئی دفعہ اونچ نیچ آئی لیکن آپ نے نہیں سنا ہو گا  کہ میں نوازشریف سے ناراض ہوا اور یا  اس کا اظہار کیا ،میں سمجھتاہوں کہ  ہمیشہ سچ بات کی جائے ،میں نے یہ کوشش کی ہے کہ صحیح حالات ہی نوازشریف کے سامنے پیش کروں ،2013تک ان کے چہرے پر کبھی ناگواری نہیں آئی لیکن ان تین چار سالوں میں ان کے چہرے پر  میری باتوں پر ناگواری  آتی تھی  جو کہ ناراضگی کا  سبب  بنی، فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں اور نواز شریف کی رخصتی میں بھی  فوج کا کوئی کردار نہیں،سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کا راستہ غلط ہے، محاذ آرائی سے ہم اپنی پوزیشن بہتر نہیں بلکہ کمزور کریں گے۔ چوہدری نثار علی خان  نے کہاہے کہ مجھے فخر ہے کہ میرا خاندانی پس منظر فوجی ہے ،میرے والد صاحب سینئر ترین فوجی تھے ،میں دشمنیوں کو بھی اور دوستیوں کو بھی بڑا لمبا نبھاتاہوں ،میں دل میں بات رکھتاہوں ۔ان کا کہناتھا کہ میں ہر چیز نوازشریف کے  سامنے ون ٹو ون رکھتا تھا ، بیچ میں ، میں نے محسوس کیا کہ گیپ آ گیاہے اور جان بوجھ کر مجھے مشاورت سے دور رکھا گیا ،میں نے پھر اس کا کابینہ میں ذکر کیا اور کئی معاملات کا پوسٹ مارٹم کیا ،میں نے اپنے  اور پارٹی کے درمیان ایشوز کا کبھی عوامی سطح پر اظہار نہیں کیا ،میں نے کابینہ میں اظہار کیا تو کسی نے  گفتگو لیک کی ، تو اس شخص نے بددیانتی کی میں نے نہیں،نوازشریف کے قریب ہونے کے ذریعے یہ کوشش کی ہے کہ حالات کو  سنبھالا  جائے ،لیکن جو راستہ چند لوگوں نے اپنایا ہے وہ غلط ہے ،سپریم کورٹ سے محاذآرائی کر کے کوئی سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے ،ابھی وقت ہے کہ محاذ آرائی کو ترک کر کے ملک کو بین الاقوامی خطرات سے بچایا جا سکے ،میری رائے ہے کہ ابھی پانی سر کے قریب ہے ،سر سے گذرا نہیں۔

چوہدری نثار کا کہناتھا کہ میں نے چار سال حکومت میں رہ کر کوشش کی ہے کہ معاملات کو سلجھایا جائے ،ایان علی کیس وزارت داخلہ کے پاس نہیں بلکہ وزارت خزانہ کے پاس تھا ،وہ ہمیں لکھتے تھے کہ ان کا نام ای سی ایل پر ڈال دیں ،ہم ڈال دیتے تھے، جب وہ  نکالنے کا کہتے  تو نکال دیتے تھے ،ڈاکٹر عاصم کیس میں میرا یا میری وزارت کا کوئی رول نہیں تھا ،کرپشن پر گرفتاری رینجرز کا کام نہیں ہے ،رینجرز نے کراچی میں بہت بڑا کام کیاہے ۔انہوں نے کہا کہ حکیم اللہ محسود سے مذاکرات میں فوج سمیت امریکہ اور دیگر دوست ممالک کو اعتماد میں لیا گیا تھا ،تاکہ کوئی قد غن نہ ہو  ، جنرل کیانی بھی اس وقت سو فیصد اعتماد میں تھے ، مذاکرات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہواہے کہ اس کے بعد جو آپریشن ہوا اس پر ساری قوم متفق ہو گئی ،ہم نے 8مہینے فوج کے ساتھ مل کر مذاکرات کرنے کی کوشش کی ، جب ادھر سے ڈبل گیم ہوئی تو وہ دھماکے کر رہے تھے تب پوری قوم آپریشن پر متفق ہو ئی ،مجھے یہ کہا گیا کہ جو ملٹری آپریشن کے حق میں نہیں ہیں انہیں اعتماد میں لیا جائے جس پر  میں نے اُنہیں اعتماد میں لیا ۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ جب مشکل وقت آتاہے تو یہ ذبح  مجھے کرتے  اور ثواب خود لیتے ہیں ،ڈان لیکس پر میں چاہتاہوں کہ ساری چیز سامنے  آئے ،  پرویز رشید کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ کوئی اگر ذبح ہواہے تو اپنی کارکردگی کے باعث ہوا ہےاس میں میرا کیا لینا دینا ہے ؟جب میٹنگ ہوئی تو اس میں جنرل(ر) راحیل شریف ،جنرل رضوان ،نوازشریف ، اسحاق ڈار اور مجھ سمیت پانچ افرا دتھے ،جب اس طرف سے بات شروع ہوئی تو صرف  میں بولا باقی کسی نے بات نہیں کی ،میں نے وضاحت مانگی ،سوالات کیے ،جب بات ہو چکی تو بعد میں شہباز شریف شامل ہوئے ،تو وہاں جو  فیصلہ ہوا  وہ میری موجودگی میں نہیں ہوا ، فیصلہ ملٹری اور پرائم منسٹر کے درمیان ہوا  کہ انکوائری ہو نی چاہیے اور وہ کمیٹی سینئر وزرا  پر مشتمل ہو،میں نے کہا کہ وزرا انکوائری نہیں کرتے ،ان کی خواہش تھی کہ میں اور اسحاق ڈاراس میں شامل ہوں،لیکن میں نے کہا کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے تو نوازشریف نے کہا جب دونوں جانب سے اعتماد ہے تو آپ کریں ،اسحاق ڈار نے اس کے باوجود اپنی مجبور ی کا اظہار کیا ،اس میٹنگ میں جو کوائف سامنے رکھے گئے وہ سب سے زیادہ ایک شخص کے بارے میں تھے ،اسحاق ڈار نے کہا کہ میری اس شخص سے بہت دوستی ہے تو میں نے کہا کہ میر ی آپ سے بھی پرانی دوستی ہے،جو کوائف سامنے رکھے گئے اس کی تحقیقات میں نے نہیں کی اس کی تحقیقات وزیراعظم سکریٹریٹ نے آئی بی سے کروائی ،جبکہ میں نے آئی بی رپورٹ کی بنیاد پر  زبانی رپورٹ دی ،پھر ایک اجلاس ہوا جس میں شہبازشریف ،اسحاق ڈار اور فواد حسن فواد بھی موجود تھے ،میں نے کسی کو نہیں کہا کہ انہیں معطل کر دیں ،اس رپورٹ کے نتیجے پر پہلا فیصلہ ہوا۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...