تھر کول بلاک II میں تین aquifers سے پانی نکالنے کا عمل جاری

تھر کول بلاک II میں تین aquifers سے پانی نکالنے کا عمل جاری

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی(SECMC) نے کہا ہے کہ تھر کول بلاک II میں کان کنی کی سائٹ پر 90 میٹر تک گہرائی میں پہنچنے کے بعد تمام تین aquifer سے پانی نکالنے کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شمس الدین احمد شیخ نے جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ توقعات کے عین مطابق ہمیں aquifers کو خالی کرنے میں کسی بھی قسم کی مشکل پیش نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ کان کنی کے عمل کے ساتھ ساتھ دوسرے اور تیسرے aquifers سے 120 اور 180 فٹ گہرائی سے پانی نکالنے کا عمل جاری ہے البتہ کمپنی کو تیسرے aquifer سے پانی نکالنے میں تھوڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ زیر زمین جھیل مستقل بھرنے کے سبب تیسرے aquifer سے پانی کی پمپنگ بہت بڑا چیلنج تھا لیکن اس چیلنج کو بھی بروقت حل کر لیا گیا۔SECMC کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ کان کنی کے آپریشن اور ذخائر سے کوئلہ نکالنے کے عمل کے دوران بھی پانی نکالنے کا عمل مستقل جاری رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں شمس الدین شیخ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ زیر زمین پانی قدرتی طور پر نمکین ہے اور اسے کان کنی کی سائٹ سے 26 کلو میٹر دور پانی کے ریزروائر میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔ نمکین ہونے کے باوجود ہم پائلٹ پروگرام کے تحت اس پانی کو مقامی موسم سے مطابقت رکھنے والی فصلوں کی کاشت کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔اس موقع پر کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید ابوالفضل رضوی نے بتایا کہ سائٹ پر زمین کے اندر سے نکالے جانے والے پانی کو نکالنے سے کسی قسم کے مسائل پیدا نہیں ہوں گے کیونکہ اسے بعد میں اس وقت استعمال میں لایا جائے گا جب کان میں بنائے گئے 660 میگا واٹ کے تھر کول پاور کے منصوبے کام کا آغاز کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ری سائیکلنگ کے بعد یہ پانی پاور پلانٹس کو ٹھنڈا کرنے کے عمل کیلئے فراہم کیا جائے گا جو ایک مستقل عمل ہو گا۔تھر میں 175 ارب ٹن کے ذخائر ہیں جو دنیا کا ساتواں سب سے بڑا کوئلے کا ذخیرہ ہے اور سب سے بڑا ایسا کوئلے کا ذخیرہ ہے جسے اب تک استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری جیسے بڑے منصوبے کا بھی اہم حصہ ہے۔سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جناب آفیسر شمس الدین شیخ نے مزید کہا کہ تھر کی ترقی کیلئے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بہت اہم ہے کیونکہ اس سے منصوبے کی مالی رسمی کارروائی کا عمل مکمل ہو کر یہ آغاز کی جانب گامزن ہو جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کوئلے کی کان کنی کے منصوبے پر کام بہترین طریقے سے جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ کوئلے کی سطح تک اس کے آخر تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جیسے ہی کوئلے کی پاور پلانٹس کو فراہمی شروع ہو گی، پلانٹس کا کمرشل آپریشن شروع ہو جائے گا اور توقع ہے کہ آئندہ سال کے اختتام یا 2019 کے آغاز تک چاروں پاور پلانٹس کے پہلے یونٹ اپنا کمرشل آپریشن شروع کر دیں گے۔انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کوئلے کی کان کنی کے عمل کے ساتھ کان میں 2.1 ارب ڈالر لاگت سے تیار کیے جانے والے 330 میگا واٹ کے یونٹس پر مشتمل 660 میگا واٹ کے پاور پلانٹ پر کام بھی شیڈول سے چار ماہ تیزی سے جاری ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...