پنجاب کے نئے آئی جی، کیا نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ہیں؟

پنجاب کے نئے آئی جی، کیا نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ہیں؟
پنجاب کے نئے آئی جی، کیا نئی تاریخ رقم کرنے کے لئے تیار ہیں؟

  

اب صوبوں میں آئی جی صاحبان کی تعیناتی بھی بڑی خبر سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر پنجاب میں آئی جی کی تقرری کوئی معمولی واقعہ نہیں ہوتی۔ صرف پولیس والوں کے لئے ہی نہیں بلکہ صحافیوں اور عوام کی نظر میں بھی اس کی اہمیت ہوتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں شاید پولیس چیف گوشہ گمنامی میں ہی بدل جاتا ہو مگر ہمارے ہاں تو بڑے آئینی مناصب پر تقرری کو اتنی اہمیت نہیں ملتی جتنی صوبے کے آئی جی کو ملتی ہے اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے معاملات پولیس کے ذریعے چلتے ہیں سیاست بھی تبھی کامیاب رہتی ہے جب آپ کے ہاتھ میں پولیس ہو اندازہ کریں کہ اس زمانے میں بھی جب میڈیا چوکنا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی پلک جھپکتے ہی سامنے آ جاتا ہے، پولیس کا وہی پرانا سکہ چل رہا ہے۔

آپ تھانے میں جائیں تو محرر سے لے کر ایس ایچ او تک آپ کو اچھوت سمجھ کر منہ پھیر لے گا۔ بڑی مشکل سے جھنجھوڑنے یا گڑگڑانے کے بعد جب آپ ان کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے تو آپ کو دفتری کارروائیوں میں ایسا الجھائیں گے کہ دماغ سائیں سائیں کرنے لگے گا۔ یہ تھانہ کلچر ہے، جسے بدلنے کی خواہش لئے بہت سے حکمران آئے اور گزر گئے مگر نہ یہ بدلا نہ پولیس کے مزاج بدلے۔

جہاں آئی جی کی سطح کا افسر حکمرانوں سے باہم شیر و شکر ہو جائے ان کے اشاروں پر چلے تو کس حکمران کو پڑی ہے کہ وہ پولیس کے اس نظام کو بدلے جس میں اس کی حکمرانی کے تمام لوازمات پورے ہو رہے ہوں۔ یہاں لاہور جیسے دارالحکومت میں سانحۂ ماڈل ٹاؤن ہوتا ہے، پولیس اس میں مکمل طور پر آلہ کار کا کردار ادا کرتی ہے۔

بندے مارتی ہے، مگر حکمران اور پولیس کا گٹھ جوڑ نہیں ٹوٹتا۔ حکمران کو پولیس کے خلاف ایکشن لینا چاہئے تھا یا پھر پولیس کو قانون کے تحت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے تھی۔ لیکن دونوں ایک دوسرے کو بچانے پر لگ گئے۔

جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے، پولیس کی اصلاح کے حوالے سے امیدوں کی سطح بڑھ گئی ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی انتخابی مہم میں تو اترسے یہ کہتے رہے ہیں کہ پنجاب پولیس میں تبدیلی لائیں گے۔

اُسے خیبرپختونخوا کی طرح سیاسی دباؤ سے آزاد کریں گے۔ جب پاکپتن کے سابق ڈی پی او رضوان گوندل کا معاملہ سامنے آیا تو اسے حد درجہ اہمیت اس لئے بھی ملی کہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرنے کا جو وعدہ وزیر اعظم عمران خان نے کیا تھا، اس کے ہوتے ہوئے ایسا کیوں ہوا کہ ایک ڈی پی او کو ہٹا دیا گیا۔

یہ تو بعد میں عقدہ کھلا کہ رضوان گوندل بھی کوئی مسٹر کلین نہیں تھے۔ انہوں نے واقعہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی۔ اب اس نازک صورتِ حال میں محمد طاہر کو پنجاب کا نیا آئی جی تعینات کیا گیا ہے۔

ایک طرف پولیس کی اصلاح کے حوالے سے عوامی توقعات کا سیلاب ہے اور دوسری طرف پولیس کا مورال بھی بلند رکھنا ہے۔ محمد طاہر کو اپنی تیس سالہ سروس میں اتنا تجربہ تو ہو ہی چکا ہوگا کہ پولیس کو کس کس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے اور خود پولیس کے افسر و اہلکار کس کس طرح وردی کا ناجائز استعمال کرتے ہیں وہ ایک اچھے اور نیک نام افسر ہیں، جبھی تو وزیر اعظم عمران خان نے ان کا پنجاب کے پولیس سربراہ کے طور پر انتخاب کیا ہے۔

انہیں چیلنجوں اور توقعات سے بھی آگاہی ہو گی اور انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ پنجاب ملک کا وہ واحد صوبہ ہے جہاں کوئی جرم پولیس کے بغیر نہیں پنپتا اور نہ بڑے بڑے مافیاز پولیس کی اعانت کے بغیر مافیا بنتے ہیں انہیں پولیس کی ایک ایسی لاٹ ملی ہے جس کا مزاج گزشتہ دس برسوں کی پولیس گردی نے خراب کر رکھا ہے۔ جو حاشیہ برداری میں ماہر ہے اور جس نے اپنے اپنے سیاسی گاڈ فادر پال رکھے ہیں۔

اگر تو وہ سردار محمد چودھری سابق آئی جی کی طرح صرف تبلیغ کے ذریعے پولیس کا قبلہ درست کرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں سردار محمد چودھری مرحوم کی طرح شدید ناکامی ہو گی۔ ایسی باتیں پولیس والوں پر اثر نہیں کرتیں۔

انہیں ایک ایسا میکنزم بنانا پڑے گا جو ایک طرف عوام کو پولیس مظالم سے بچائے اور دوسری طرف جرائم پیشہ عناصر سے عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایماندار افسروں اور اہلکاروں کو تعینات کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

وہ یہ نہیں بتاتے کہ ایماندار افراداور اہلکار آئیں گے کہاں سے، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ پولیس سے سارے شیطان یکدم نکال کر اس میں فرشتے ڈال دیئے جائیں۔ کام تو انہی لوگوں سے لینا پڑے گا البتہ انہیں نظم و ضبط اور جزا و سزا کے دائرے میں لا کے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر پنجاب پولیس کی طرف سے ایک اشتہار چل رہا ہے۔ جس میں آئی جی آفس کے کمپلینٹ سنٹر کا ٹیلی فون نمبر دے کر عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی بھی زیادتی کی صورت میں اس نمبر پر اطلاع دیں۔

ایسے لطیفے عوام نے بہت دیکھ رکھے ہیں عوام کو یہ مشورہ دینا میر کے اس شعر کے مصداق ہے جس میں کہا گیا ہے: جس کی وجہ سے بیمار ہوئے اس کے بچے سے دوا لینے کو کہا جا رہا ہے۔ ایسے کمپلینٹ سنٹرز تو ہر محکمے نے بنا رکھے ہیں حتیٰ کہ وزیر اعظم ہاؤس کا بھی ایک کمپلینٹ سنٹر ہے۔

ان سنٹرز پر بھیجی جانے والی شکایات یا کی جانے والی کالیں اُلٹا شکایت کرنے والوں کی زندگی اجیرن بنا دیتی ہیں شکایت کو بھی اسی ڈی پی او کے پاس بھیج دیا جاتا ہے جس کی عین ناک کے نیچے سارا کھیل کھیلا جا رہا ہوتا ہے۔ جب کسی کو آزادی ملتی ہے تو پھر وہ بگڑ جاتا ہے یا پھر سدھر جاتا ہے۔

اب اگر یہ لہر چلی ہے کہ پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا جائے تو کیا اس پہلو پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ یہ آزادی کہیں پولیس کو مزید بے لگام نہ کر دے کیا ان کے اندر محکمہ خود احتسابی کے کسی نظام کو متعارف کرائے گا؟ یہاں تو پیٹی بھائی کا کلچر بہت مضبوط ہے۔

آئی جی آفس سے لے کر ایس ایچ او تک سب ایک دوسرے کو بچاتے ہیں۔ ایسے میں عوام کی داد رسی کیسے ہو گی؟ ماضی قریب میں ہم نے دیکھا کہ تھانوں میں ایف آئی آر کے اندراج کو آسان بنانے کے لئے کمپیوٹرائزڈ فرنٹ ڈیسک بنائے گئے۔

ون ونڈو آپریشن بھی شروع کئے گئے مگر وہ سب محرر اور ایس ایچ او کے گٹھ جوڑ کو نہ توڑ سکے۔ پنجاب میں کسی بھی ایف آئی آر کے اندراج کی یونیفارم پالیسی نہیں، ہر ڈی پی او نے اپنا نظام بنایا ہوا ہے۔ کہیں ایس ایچ او کو اختیار ہے کہ وہ ایف آئی آر درج کر سکتا ہے اور کہیں یہ پابندی ہے کہ جب تک ڈی پی او درخواست مارک نہ کرے ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ جب اس قسم کے صوابدیدی اختیارات آ جاتے ہیں تو کرپشن بھی آتی ہے اور پولیس گردی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

میرے لئے یہ تو ممکن نہیں کہ پنجاب کے نئے آئی جی محمد طاہر کو مشورے دوں، وہ خود ایک تجربہ کار، منجھے ہوئے اور پیشہ ورانہ قابلیت کے حامل پولیس افسر ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پولیس کی اصل خوبیاں کیا ہیں اور برائیاں کہاں ہیں؟ تاہم ایک شہری کی حیثیت سے ایک بات ضرور باور کرانا چاہتا ہوں کہ اس وقت ملک کی فضا بدلی ہوئی ہے۔

پرانے اور نئے کے امتیازات کھل کر سامنے آ چکے ہیں، اب عوام کوئی ایک بات بھی پرانے رویوں کے حوالے سے دیکھتے ہیں تو پہلا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ کیا نئے پاکستان میں بھی یہی کچھ چلے گا؟ اس بدلی ہوئی فضا میں انہیں سب سے بڑے صوبے کی بگڑی ہوئی پولیس فورس کا کمانڈر بنایا گیا ہے۔

پولیس کے بارے میں پنجاب کے اندر عوام کا تاثر بہت منفی ہے۔ حالانکہ پنجاب پولیس نے قربانیاں بھی بہت دی ہیں اس بگڑے ہوئے محکمے کو اگر وہ تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں پولیس کو عوامی خدمت اور عوامی اعتماد کا حامل ادارہ بنا دیتے ہیں تو گویا وہ نئے پاکستان کی اس مہم میں ایک بہت بڑے کردار کے طور پر ابھریں گے۔

ایک بہت مشکل کام انہیں سونپا گیا ہے عام حالات میں آئی جی کی تبدیلی سے بڑی توقعات وابستہ نہیں ہوتیں، مگر اب ملک کا وزیر اعظم، حکومت حتیٰ کہ آرمی چیف بھی اس ویژن کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو مضبوط، مستحکم، خوشحال اور پُر امن بنانا ہے پولیس کا ان سب باتوں میں بڑا کلیدی کردار ہے۔

اگر اس بدلے ہوئے پاکستان میں بھی پولیس قانون شکنوں، بھتہ خوروں، مافیاز کا ساتھ دیتی ہے اور مظلوم کی مدد نہیں کرتی تو تبدیلی کے سارے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم