دل و دماغ کی چشمک

دل و دماغ کی چشمک
دل و دماغ کی چشمک

  

عام انتخابات2018ء کے نتیجے میں عمران خان پاکستان کے 22ویں وزیرِ اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ عمران خان نے انتخابی نتائج آنے کے فوراً بعد اور بطور وزیرِ اعظم حلف لیتے ہی قوم سے خطابات کئے۔ یہ نوشتہءِ دیوار ہے کہ پاکستان کئی محاذوں پر چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے، لیکن یہ دو تقاریر عمران خان کی مکمل حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہیں، اگرچہ یہ درپیش مسائل صرف باتوں سے حل نہیں کئے جا سکتے، لیکن ان کے الفاظ ان کے نقطہءِ نظر کی درست سمت کا تعین ضرور کرتے ہیں۔

یہ ایسا نقطہءِ نظر ہے، جس کے ذریعے وہ ایک قوم کی تشکیل کے ساتھ ساتھ متفکر لوگوں کے دلوں اور دماغوں کو جیتنا چاہتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب لوگ دل و دماغ کو یکجا کر کے محنت کی جائے تو ایسا کچھ نہیں ہوتا جو ناقابلِ حصول ہو۔ تجزیاتی نقطہءِ نظر سے دیکھیں تو باراک اوباما اور عمران خان متوازی کردار ہیں۔انہوں نے اپنے الفاظ کے ذریعے لوگوں کے دل و دماغ مسخر کئے۔ بالکل ایسے جیسے باراک اوباما نے پہلا سیاہ فام صدر بن کر اس رکاوٹ کو توڑا ۔اسی طرح عمران خان نے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے روایتی خاندانی سیاسی نظام کا تسلط توڑا ۔ اوباما نے اس تاثر کی نفی کی کہ وائٹ ہاؤس صرف سفید فام عیسائیوں کی میراث ہے۔

ان کا دوسری بار منتخب ہونا تعجب کی بات نہیں تھی، انہوں نے ملکی اور عالمی سطح پر ایک سا تاثر قائم کیا، اسی وجہ سے سیاسی اور سفارتی سطح پر امریکہ کی ریٹنگ ساٹھ فیصد تک بلند ہوئی۔

عمران خان کی طرف واپس آتے ہیں۔۔۔ یہی مساوی حالات ان کے بھی ہیں۔ وہ ایک ایسے انسان ہیں، جنہوں نے ساری زندگی جدوجہد میں گزاری۔ زبردست قوتِ ارادی اور عزم کو ہمیشہ انہوں نے سراہا ہے۔

بطور کرکٹر کئی دہائیوں تک وہ نوجوانوں کے ہیرورہے ہیں، اس کے بعد انہوں نے شوکت خانم میں معیاری خدمات مہیاکر کے کینسر کے مریضوں اوراور ان کے اہلِ خانہ کے دلوں میں خاص مقام پایا۔ عمران خان نے اپنی کامیابی اور طرزِ فکر سے اندرون اور بیرون ملک کروڑوں لوگوں کے اعتما د اور دلوں کو تسخیر کیا۔ پاکستان کی گھمبیر سیاست میں بھی عمران خان اسی عزم اور ولولے سے لیس ہو کرداخل ہوئے۔ ہر طرف سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا،لیکن معجزاتی طور پر انہوں نے ان حالات پر قابو پالیا،اب وہ نئی شروعات کر رہے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کرنا پیچیدہ ، وسیع الجہت اور دشوار امر ہے، لیکن عمران خان درست سمت میں جاتے نظر آتے ہیں۔ اوباما کی طرح عمران خان بھی دل کی زبان بولتے ہیں، مولانا رومی نے کہا تھا: ’’دل سے کہی گئی بات دلوں پر اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتی ہے‘‘۔۔۔پہلی سیاسی قیادتوں کے بر عکس خان نے ملک کے حقیقی مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا لہجہ ان کے عزم اور ولولے کا غماز ہے۔

انہوں نے عوام کو اندھیرے میں رکھ کر افراتفری میں مبتلا کرنے کی بجائے مسائل سے نہ تو خود صرفِ نظر کیا ہے اور نہ عوام سے چھپایا ہے۔ ان کی آواز میں کوئی خوف نہیں تھا، انہوں نے انتہائی صاف گوئی سے ناکامیوں کو تسلیم کرنے کے ساتھ ان مسائل کو اجاگر کیا ہے جو ملک کو درپیش ہیں۔

ان کی ابتدائی دونوں تقاریر ان کے فطری مزاج کے مطابق متاثر کن تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تقاریر کے الفاظ کو سراہا گیا، انہوں نے ملک میں پانی کی کمی سے لے کر بچوں سے بد سلوکی جیسے ممنوعہ موضوع تک ہر ایک پر اظہارِ خیال کیا۔

انہوں نے اعادہ کیا کہ ملک کی بہتری کی جدوجہد وہ اپنے دفتر سے شروع کریں گے،اگرچہ ابھی عملی اقدامات ہونا باقی ہیں ، ابھی یہ صرف حکمتِ عملی ہے، لیکن یہ امید افزا ء اور دل و دماغ کو جیتنے کے لیے کافی ہے۔

ایک رہنما اور اس کے پیروکاروں کے درمیان امتیازی تعلق ہوتا ہے۔ رہنما شاید پیروکاروں سے کچھ زیادہ توقعات رکھتے ہیں،کچھ حالات میں رہنما پیروکاروں کی جائیدادوں اور زندگیوں تک کی آس لگا لیتے ہیں،لیکن پیروکار رہنماؤں سے دو توقعات رکھتے ہیں۔۔۔ایک ایمانداری اور دوسری پیروکاری کے ایسے نتائج جو دونوں کے لئے سود مند ثابت ہوں۔

خان صاحب دونوں سطحوں پر پورا اترنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ اعتماد اور ایمانداری سے باہر نکلے ہیں۔ ان کا نقطہء نظر روشنی کی طرح واضح اور شفاف ہے، یہی خواص جیت کا مجموعہ ہوتے ہیں۔

یہاں تک کہ انہوں نے اپنی تقریر میں قوم کو اپنی ٹیم قرار دیا اور ہر کسی کو دعوت دی کہ وہ قومیت کی تشکیل کے کام میں شامل ہو کر ’’پاکستان کا میچ‘‘ جیتنے میں کردار ادا کرے۔ انہوں نے دیانتداری کے ضمن میں خود ایک مثال بن کر دکھایا، جیسا پیروکار رہنما کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ عمران خان نے قوم کی چوری شدہ رقم واپس لانے اور شفاف احتساب کے آغاز کا بھی وعدہ کیا۔

یہ حکمتِ عملی ٹیکس گزاروں، غیر ملکی سرمایہ کاروں اور بیرون ممالک بسنے والے پاکستانیوں کو نتیجہ خیز سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے۔ اب پاکستان کو درپیش بہت سے چیلنجوں اور ان سے نمٹنے کے لئے نو تشکیل شدہ حکومت کے نقطہءِ نظر اور قابلیت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

سب سے پہلے مالیاتی امور دیکھیں تو بیرونی قرضے بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، برآمدات بہت کم ہو چکی ہیں، جبکہ در آمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں،ٹیکسز اہداف سے کہیں نیچے ہیں، سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے ،ریاستی اخراجات قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور بدعنوانی عروج پر ہے۔

عمران خان نے کسی بھی عوامی مسئلے سے نمٹنے کے لیے انتہائی مؤثر طریقہ یعنی میرٹ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی ٹیم نے خیبرپختونخوا میں اپنے پانچ سالہ اقتدار میں کئی اہم تجربے کئے ہیں۔ اب وہ یہی حکمتِ عملی پورے ملک میں لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے اپنی ٹیم تشکیل دیتے ہوئے کرپشن کو ناقابلِ برداشت قرار دینے اور ہر قسم کے مالی استثنیٰ کے خاتمے کی بات کی ہے۔ انہوں نے ٹیکس ادا کرنے والوں سے ایمانداری سے ٹیکس ادا کرنے اور سرمایہ کاروں سے ملک کو معاشی عدم استحکام کی صورتِ حال سے نکالنے کے لئے امداد کی درخواست کی ہے، اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے، لیکن وزیرِ اعظم کے ابتدائی خطاب کے فوراً بعد سے ہی سٹاک ایکسچینج کی قیمتوں میں استحکام دیکھنے میں آیا ۔

پاکستان کے ایٹمی قوت بننے سے اس کی جغرافیائی سرحدیں محفوظ ہوگئی تھیں۔ پاکستان کی فوج سرحد کی کسی طرف سے بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ موجودہ صدی میں جنگ اب کسی اور طریقے سے لڑی جائے گی، جس میں لڑائی ڈالر اور برآمدات کے ذریعے ہو گی۔ اس شعبے میں پاکستان قیادت کے فقدان، دہشت گردی اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کے باعث بہت پیچھے ہے۔

دہشت گردی انسانی خون پینے کے ساتھ ساتھ خطرناک معاشی نقصانات پہنچا رہی ہے، لیکن اب حالات کے بدلاؤ سے یہ وقت پاکستان کو آگے لے جا کر ایشئن ٹائیگر بنانے کا بہترین موقع ہے۔

سی پیک اور اوبور کی بدولت پاکستان وسط ایشیا کے روشن امکانات کو سمیٹنے کے لئے درست سمت میں جا رہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی تھی کہ عمران خان جیسا دل و دماغ کو مسخر کرنے والا رہنما ملے جو مضبوط اعصاب کے ساتھ مستحکم پاکستان بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

مزید :

رائے -کالم -