A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

کراچی کا گورنر ہاؤس عوام کیلئے کھول دیا گیا باقی گورنر ہاؤس کب کھولے جائیں گے

کراچی کا گورنر ہاؤس عوام کیلئے کھول دیا گیا باقی گورنر ہاؤس کب کھولے جائیں گے

Sep 09, 2018

قدرت اللہ چوہدری

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 کراچی کے گورنر ہاؤس کا ایک حصہ عوام کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پہلے دن گورنر ہاؤس دیکھنے کے لئے آنے والوں کا خود استقبال کیا اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔ ہر صبح گورنر ہاؤس چار گھنٹے کے لئے عوام کے لئے کھولا جائیگا۔ پہلے روز 210 افراد نے گورنر ہاؤس کے بعض حصے دیکھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس طرح گورنر ہاؤس میں عوام کے داخلے سے لوگوں کو اپنے حکمرانوں کے طرز عمل سے واقفیت حاصل ہوگی اور ان سے براہ راست ملاقات کا موقع بھی مل سکے گا۔ سندھ کے گورنر ہاؤس کو عوام کے لئے کھولنے کا یہ چونکہ پہلا واقع ہے اور وہاں جانے والے اکثر لوگ چونکہ نوجوان تھے، اس لئے انہیں معلوم نہیں تھا کہ لاہور کے گورنر ہاؤس کو بہت پہلے 1990ء میں اس وقت طلبا کے لئے کھول دیا گیا تھا جب نواز شریف نے میاں محمد اظہر کو پنجاب کا گورنر مقرر کیا تھا۔ ان کی ہدایت پر سکولوں کے طلباء کو گروپوں کی شکل میں گورنر ہاؤس کا دورہ کرایا جاتا تھا اور طالب علموں کو سادہ ریفریشمنٹس بھی دی جاتی تھیں۔ گویا پاکستان میں یہ رسم 28 سال پہلے موجود تھی۔ میاں محمد اظہر سارا دن تو گورنر ہاؤس میں رہتے تھے، لیکن رات کو اپنے گھر چلے جاتے تھے، جس کا اب کراچی میں جزوی احیا ہوا ہے لیکن باقی کسی صوبے کے گورنر ہاؤس نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ پنجاب کے گورنر چودھری محمد سرور نے 5 ستمبر کو حلف اٹھایا اور اعلان کیا کہ وہ گورنر ہاؤس میں نہیں رہیں گے، وہ اس سے پہلے مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں بھی گورنر تھے، لیکن ان دنوں رہائش بھی یہیں رکھتے تھے۔ اب اگر وہ اپنے ذاتی گھر میں رہیں گے تو معلوم نہیں گورنر ہاؤس کا مصرف کیا ہوگا، کیونکہ اس عمارت اور چاروں طرف پھیلے ہوئے قیمتی پودوں کی حفاظت کے لئے تو سارے انتظامات کرنا ہی ہوں گے، ورنہ اس عمارت میں وہ پودے مرجھا جائیں گے جو انگریزوں نے ہزاروں میل دور سے لاکر یہاں کاشت کئے تھے اور روایت ہے کہ بعض درخت ایسے بھی ہیں جو صرف گورنر ہاؤس میں ہی ہیں۔ گورنر ہاؤس میں سینکڑوں ملازمین بھی رہتے ہیں، اس کے اندر بچوں کے سکول ہیں اور رہائش پذیر خاندانوں کی دوسری ضروریات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ ان سب سہولتوں پر بھاری اخراجات ہوتے ہیں۔ اب اگر گورنر صاحب یہاں نہیں رہیں گے تو سٹاف کہاں جائے گا۔ یہ تو عجیب بات ہے کہ جس گورنر کی خدمت کے لئے سٹاف گورنر ہاؤس میں رہ رہا ہے، وہ تو اپنی ذاتی رہائش گاہ پر رہے گا اور سٹاف بدستور یہیں رہے گا، اس دو عملی کا کوئی نہ کوئی علاج بھی تلاش کرنا ہوگا۔ ویسے دنیا بھر میں صدارتی محل اور صدور کی رہائش گاہیں ہمیشہ عوام کے لئے کھلی رہتی ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کی رہائش ہے، جس کے بہت سے حصے عوام کے لئے کھلے رکھے گئے ہیں۔ صدر کا دفتر بھی کبھی کبھار عوام کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔ البتہ پرائیویٹ رہائشی کمرے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے عقبی پارک کے ذریعے صدر کی اس رہائش میں داخلے کے اوقات مقرر ہیں اور مقررہ وقت سے بہت پہلے لوگ آکر قطار میں لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات دو ڈھائی سو لوگ ایک وقت میں قطار کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ البتہ داخلہ پندرہ بیس افراد کے گروپوں کی شکل میں ہوتا ہے، جن میں سے ہر ایک گروپ کے ساتھ گائیڈ ہوتے ہیں، جو اس عمارت اور اس کے مکینوں کے بارے میں معلومات دیتے رہتے ہیں۔ آندھی ہو، بارش ہو یا برف پڑ رہی ہو، وائٹ ہاؤس دیکھنے والے ہر حال میں آتے ہیں۔ وزیٹر کو عمارت میں داخلے کے لئے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔ تاہم باہر سے گئے ہوئے مہمانوں کے لئے بعض اوقات داخلہ فری بھی ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل وزیٹر پروگرام کے تحت جو غیر ملکی واشنگٹن کا دورہ کرتے ہیں، انہیں بھی وائٹ ہاؤس کا دورہ کرایا جاتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسے کسی وفد کے ساتھ صدر کی ملاقات بھی اچانک ہو جاتی ہے۔ گائیڈ بتا رہا ہوتا ہے کہ یہ آخری کمرہ ہے جو وزیٹر کے لئے کھلا ہے، اس سے آگے والا علاقہ صدر کے آفس اور رہائش کے لئے مخصوص ہے تو اچانک دروازہ کھلتا ہے اور صدر وائٹ ہاؤس کے مہمانوں کے درمیان آکر انہیں حیران کر دیتا ہے۔ ایسا انتظام دنیا کے جمہوری ملکوں کے اکثر حکمرانوں نے کیا ہوتا ہے۔ انگلستان میں بکنگھم پیلس کے بعض حصے بھی عوام کے لئے کھلے رہتے ہیں، البتہ باجبروت شہنشاہوں کی سطوت اس بات کو گوارا نہیں کرتی کہ عوام ان کے محلات کے قریب سے بھی گزر سکیں۔ ایران کے انقلاب سے پہلے شہنشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے تہران کے اندر واقع بہت سے محلات کے اندر کی جھلک بہت کم ایرانیوں نے دیکھی تھی۔ البتہ انقلاب کے بعد یہ محل بھی عبرت گاہ دہر کے طور پر عوام کے لئے کھلے رکھے گئے ہیں۔ تہران کے وسط میں واقع سعدآباد پیلس میں شاہ ایران نے اپنا ایک طویل القامت تانبے کا مجسمہ نصب کرا رکھا تھا، جس سے ایک شہنشاہ کی ہیبت ٹپکتی تھی، انقلاب کے بعد جب انقلابی حکومت نے اس محل کو عوام کے لئے کھولا تو اس مجسمے کو نشان عبرت کے طور پر قائم رکھا البتہ درمیان سے اس کا دھڑ دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا تاکہ آنے والے عبرت پکڑیں۔ تہران میں شاہ کے والد رضا شاہ کبیر کی قبر کسمپرسی کا شکار ہے۔ البتہ قبرستان بہشت زہرأ کے ایک کونے میں آیت اللہ امام خمینی کا پرشکوہ مزار اب مرجع خلائق ہے، جس کے ساتھ ایک اقامتی یونیورسٹی بھی قائم ہے۔ دونوں مقامات پر جانے والے انسانوں کے عروج و زوال کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔

گورنر ہاؤس

مزیدخبریں