’’سستی مسکراتی زندگی ‘‘ کی تقریب رونمائی

’’سستی مسکراتی زندگی ‘‘ کی تقریب رونمائی

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ محض ابلاغیات کے ایک استاد ہی نہیں بلکہ شفیق باپ، درد دل رکھنے والے عظیم انسان، سماجیات کے ممتاز رہنما، اصلاح کار، محقق، عالمگیر شہرت کے حامل ماہر تعلیم اور معروف دانشور ہیں، اب تو وہ صاحب طرز ادیب بھی بن گئے ہیں جنہوں نے اپنے عمر بھر کے تجربات اورل ہسٹری کی شکل میں قلم بند کر کے باقاعدہ ایک تاریخ رقم کی ہے۔ ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت لکھ کر آنے والی نسلوں کے لئے کامیاب زندگی گزارنے کی راہ بھی متعین کر دی ہے۔ کتاب پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے زندگی کے نشیب و فراز کا جس خوبصورتی سے مشاہدہ کیا اور پیش آنے والے واقعات کا جس باریک بینی سے جائزہ لیا وہ منزل بہ منزل ترقی کی بہترین مثال ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تصنیف کی تقریب رونمائی کا دعوت نامہ ملا جس کے ساتھ یہ حکم بھی شامل تھا کہ کتاب پر مجھے کچھ گفتگو بھی کرنا ہے۔ دیگر مقررین کی طویل فہرست بھی میرے علم میں آئی جس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ پر تحریری تبصرہ کیا جائے۔ پہلے وہ تبصرہ پڑھ لیجئے پھر تقریب کی تفصیلات بھی پیش کروں گا۔

’’میرے زمانہ طالب علمی کے دوست حافظ مظفر محسن نے شہنشاہ ظرافت سید ضمیر جعفری کو فون کیا اور کہا کہ میں نے بچوں کی نظمیں لکھی ہیں، جسے میں کتابی شکل دینا چاہتا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ اس پر ماہرانہ رائے یا تبصرہ تحریر فرما دیں۔ حکم دیں تو میں کتاب کا مسودہ آپ کو بھجوا دیتا ہوں۔ جواب میں سید ضمیر جعفری نے کہا کہ بیٹا آپ مسودہ بھجوانے کی زحمت نہ کرو، کیونکہ میرا خیال ہے کہ آپ تعریفی تبصرہ کروانا چاہو گے جو مسودہ پڑھنے کے بعد میرے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ میں مسودہ دیکھے بغیر ہی تبصرہ لکھ دیتا ہوں، جو یقیناً آپ کے حسب منشا ہوگا اور پسند بھی آئے گا۔

یہ واقعہ سنانے کا مقصد قطعاً یہ نہیں کہ کسی بھی تحریر پر پڑھے بغیر زیادہ اچھا تبصرہ کیا جاسکتا ہے، بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں کہ جنہیں پڑھ کر ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ استاد محترم ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اپنی سوانح حیات ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ مجھے پڑھنے کے لئے بھجوا دی تھی، جس کے بیشتر حصوں کی میں نے ورق گردانی بھی کی اور ماضی کے جھروکوں میں جھانکا بھی۔ ہنستی مسکراتی زندگی تو بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب نے ہنستی کو سسکتی میں بدل کر ہم سب کو کچھ سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ تیس بتیس سال قبل جب میں شعبہ صحافت پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم تھا تو ذرا سی غلطی پر یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ ڈاکٹر مغیث صاحب کلاس سے نکال دیں گے، اب بھی صورت حال ذرا مختلف نہیں، اب بطور ٹیچر یہ دھچکا لگا رہتا ہے کہ ذرا سی بے ادبی پر کلاس سے فارغ کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ پر چند سطریں لکھ کر لایا ہوں کہ فی البدیہہ جملے قابل گرفت ہوسکتے ہیں اور بے ادبی کے زمرے میں بھی آسکتے ہیں۔ اخبار نویسوں کی غالب اکثریت کی طرح مجھے بھی مطالعہ کا شوق کم ہی ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب کے خوف میں کتاب کے جو چند اوراق پڑھ سکا، ان میں تحریر کردہ بیشتر واقعات کا میں اور میرے دیگر ساتھی عینی شاہد بھی ہیں۔ بالخصوص پنجاب یونیورسٹی جیسی قدیم دانش گاہ کو آج کل جس لاچارگی اور لاوارثی کا سامنا ہے، اس کی نشاندہی ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے بڑے درست انداز اور خوبصورت پیرائے میں کی ہے۔ استاد محترم کی ایک بات سے مجھے اختلاف ہے، اور وہ یہ کہ انہوں نے اپنی سوانح حیات میں اپنے ان مخالفین کا بار بار تذکرہ کیا ہے، جو ان کی راہ میں روڑے اٹکاتے، یا رکاوٹیں ڈالتے رہے۔ ان میں سے ایک بھی شکوہ بے جا نہیں ، لیکن ڈاکٹر صاحب ابلاغیات کے ماہر ہیں اور یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ تندی باد مخالف انہیں ہمیشہ اونچا اڑاتی رہی ہے، آج وہ جس مقام پر ہیں، وہ کسی دوسرے کے حصے میں کم ہی آیا ہوگا۔ ان کے مبینہ مخالفین شاید آج بے وقعت اور گوشہ گمنامی میں ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی میں طلباء سرگرمیوں، سٹوڈنٹس یونینز، تدریسی صورتحال اور بدانتظامی سمیت لاہور شہر کے رت جگوں کے حوالے سے انہوں نے جو نقشہ کھینچا ہے، وہ اورل ہسٹری کی بہترین مثال ہے۔ تحریک ختم نبوت اور اپنے رہائشی علاقے دھرمپورہ کے بارے میں ’’آئی وٹنس اکاؤنٹ‘‘ بھی خوب ہے۔ گومل یونیورسٹی کے شب و روز، پنجاب یونیورسٹی کی ملازمت، شعبہ صحافت کے نشیب و فراز اور مختلف میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور سٹاف کا تذکرہ پڑھ کر ڈاکٹر صاحب کی یادداشت اور ذہانت کو داد دینا پڑتی ہے۔ افغانستان اور ایران تو استاد محترم کے پسندیدہ ٹاپکس ہیں، جن پر دسترس نے کتاب کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ نجی زندگی ڈاکٹر صاحب نے خوبصورت پیرائے میں بیان کی ہے۔ میں چونکہ ان کے سسرال سے خاصا واقف ہوں لیکن اس حوالے سے کتاب میں جو معلومات دی گئی ہیں، وہ میرے لئے بھی نئی ہیں۔

کتاب کے آخر میں ممتاز شخصیات سے دوستی اور ان کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کچھ بخل سے کام لیا ہے، ایک تو جن دوستوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ان کی تعداد کم معلوم ہوتی ہے، دوسرے یہ کہ حق دوستی بھی درست طور پر ادا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ ڈاکٹر صاحب کے مجھ جیسے لاکھوں شاگردوں کے تذکرے سے بھی پاک ہے۔ میں زمانہ طالب علمی میں ان کے لاڈلے شاگردوں اور اقربا میں شمار ہوتا تھا، یہ الگ بات ہے کہ ہم دو تین میل سٹوڈنٹس ان کے قریب ترین تھے جبکہ فی میل سٹوڈنٹس کی تعداد بے شمار تھی۔ مجموعی طور پر سوانح حیات ان لوگوں کے لئے متاع زیست کی حیثیت رکھتی ہے جو کچھ لکھنے پڑھنے یا جاننے کا شوق رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ! خدا آپ کو نظربد سے بچائے۔‘‘

ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی سوانح حیات سسکتی مسکراتی زندگی کی یہ تقریب رونمائی ایوان اقبال کے کمیٹی روم نمبر 3 میں منعقد ہوئی میری باری آنے سے قبل کئی مقررین خطاب کر چکے تھے اور سب نے ڈاکٹر صاحب کی شخصیت وتصنیف کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی، تقریب کے میزبان محمد حسان نے تو ہر مقرر کو دعوت دینے سے پہلے خود بھی ایک تقریر کر ڈالی۔ یونیفائڈ میڈیا کلب کے اشتراک سے ہونے والی تقریب میں روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی، 92 نیوز کے سربراہ سید ارشاد احمد عارف، دنیا نیوز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر سلمان غنی، سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چوہدری سمیت کالم نگاروں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی. اس موقع پر ڈاکٹر ندیم الحسن گیلا نی، سید تاثیر مصطفےٰ، ڈاکٹر نوید چوہدری، ڈاکٹر زاہد بلال، لبنیٰ ظہیر، نعیم مصطفےٰ، ڈاکٹر اسلم ڈوگر، اجمل جامی، سلمان عابد، افتخار مجاز، ممتاز سالک، زاہد مقصود، محمد حسان اور دیگر نے بھی خطاب کیا ایوان اقبال کا ہال حاضرین سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا جبکہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے متعلق صحافی بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ بعض مقررین نے صاحب کتاب کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے دیگر تجربات بھی قلم بند کریں جس کے لئے ایک اور کتاب بھی درکار ہوگی،بالخصوص سید تاثیر مصطفی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے رہائشی علاقے دھرمپورہ کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے کئی دوستوں کو فراموش کر گئے ہیں۔فاضل مقرر نے اپنے اس موقف کے ساتھ کئی حوالے بھی دیئے جس پر صدرِ تقریب مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ یہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی خود نوشت ہے آپ اپنی کتاب لکھ کر اُس میں باقی تذکرے کر دیجئے گا ۔

تقریب سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی نے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی تصنیف ’’سسکتی مسکراتی زندگی‘‘ کو بہترین خود نوشت قرار دیا اور کہا کہ مصنف نے اپنے تجربات کو جس خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان اور پنجاب یونیورسٹی کے جو واقعات اس کتاب میں شامل کئے ہیں ان سے معاملات پر کسی شخص کی گہری نظر کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر نے کتاب اور صاحبِ کتاب کے حوالے سے گفتگو کے ساتھ ساتھ پاکستان میں نظامِ تعلیم اور استاد کی عظمت و مرتبے کے حوالے سے بھی سیر حاصل گفتگو کی اور کہا کہ پاکستان کو درست کرنا ہے تو پہلے استاد کو درست کرنا ہوگا اور ملک کی یونیورسٹیوں کی سمت بھی ٹھیک کرنا ہوگی۔ ہمارے استاد کو جب تک مثالی استاد کا درجہ حاصل نہیں ہو جاتا ملک ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی ہونہار طالب علم پیدا ہوسکتے ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ جیسے استاد پیدا کئے جائیں، جو غلط کام پر انکار کی جرأت رکھتے ہوں اور سچ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہنا جانتے ہوں۔

مجیب الرحمن شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ایک مکمل استاد ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کے تمام تجربات، نشیب و فراز اور تلخ واقعات بڑے خوبصورت انداز میں اپنی خودنوشت میں تحریر کئے ہیں۔ ان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی باریک بینی اور حالات پر نظر کو داد دینا پڑتی ہے۔ آج کل ہمارے بیشتر استاد ٹاک شوز، کالم نگاری اور تجزیہ کاری میں زیادہ وقت گزار رہے ہیں۔ یہ استاد کا کام نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ٹی وی پروگراموں میں الجھائے رکھے۔ روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر کا کہنا تھا کہ استاد کو ریسرچ پر توجہ دینی چاہئے، تحقیقی مقالے لکھنے میں وقت صرف کرنا چاہئے، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر مغیث کے پائے کے کم لوگ دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اچھا استاد ذہین شاگرد پیدا کرتا ہے، استاد کا کام کار پیغمبر ہے، پیغمبر معلم بنا کر بھیجے جاتے ہیں، کتابیں ان پر نازل ہوتی ہیں، پیغمبروں کی پوری زندگی کتاب کی مانند ہوتی تھی، وہ مردم سازی کیا کرتے تھے، لیکن یہ کس قدر المیہ ہے کہ ہمارے ہاں اچھے استاد ناپید ہوتے جا رہے ہیں، وہ استاد کہاں ہیں، جو بچوں میں جستجو پیدا کیا کرتے تھے، مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ارباب اختیار کو یہ بات معلوم ہی نہیں کہ استاد کیا ہوتا ہے اور یونیورسٹی کیا ہے؟ استاد کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اندر سے خوف نکال دے تو باہر کا خوف خود ہی ختم ہو جائے گا۔ آپ اگر ایک مرتبہ غلط کام کرنے سے انکار کر دیں گے تو عمر بھر کے لئے سکون مل جائے گا اور کوئی شخص آ پ کو بلیک میل بھی نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین کمٹمنٹ والے استاد ہیں، میری اپنی بیٹی کی تعمیر میں ڈاکٹر صاحب کا بڑا دخل ہے۔ ان کی استادی تو میرے گھر میں بھی چل رہی ہے۔ مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ آپ غلط بات اور فیصلوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں تو کوئی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ لیڈر بھی ایک استاد ہے جو تاریخ رقم کرتا ہے۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے پنجاب یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف کمیونیکیشن سٹڈیز قائم کرکے نہ صرف ایک تاریخ رقم کی بلکہ تاریخ بدل بھی دی۔ بچوں کو کنوئیں سے نکال کر سمندر کی سیر کروائی۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اداروں کی توقیر ختم یا کم کیوں ہوتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا آج زمانہ معترف ہے، انہوں نے اپنی سوانح عمری میں حقائق سے پردہ اٹھایا ہے، آج کے طلباء و طالبات کو ڈاکٹر مغیث سے سچ بات کہنے کا سلیقہ سیکھنا چاہئے۔ مجیب الرحمن شامی نے بتایا کہ کتاب میں جاوید ہاشمی کے حوالے سے جو نعرہ تحریر کیا گیا ہے، وہ نعرہ ’’اک بہادر آدمی، جاوید ہاشمی‘‘ میرے دفتر میں بنا تھا، اسلم کمال بھی اس موقع پر موجود تھے اور اسی نعرے کی بنیاد پر ہم نے اسلم کمال سے اپنے رسالے کا ٹائٹل بنوایا۔ انہوں نے کہا کہ استاد کا فریضہ پیغمبرانہ فعل ہے، یہ ایک چراغ ہے جس سے دوسرے چراغوں کو روشنی ملتی ہے، استاد کو آج اپنے آپ کو چراغ کی مانند تیار کرنا ہوگا، آج ہم ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے استادانہ عہد میں رہ رہے ہیں، ہمیں کچوکا لگائے بغیر بات کرنا ہوگی، سماجی تعلقات استوار کئے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہئے، ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے، مکالمہ اور ابلاغ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اسے آگے بڑھایا جانا چاہئے۔ سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر اکرم چودھری نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ باقاعدہ ایک ادارہ، انجمن اور تحریک ہیں، جن کی پوری زندگی تجربات اور احساسات سے بھرپور ہے، انہوں نے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کے ساتھ اپنی رفاقت کے مختلف واقعات بھی سنائے۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین شیخ بہترین سوانح حیات لکھنے پر مبارکباد کے مستحق ہیں ،وہ کامیابی کا دوسرا نام ہیں۔

صاحب کتاب ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ ایمان کی پختگی پر میرا پورا یقین ہے، خودانحصاری کو ترجیح دیتا ہوں اور الحمدللہ انکار کی جرأت بھی رکھتا ہوں۔ مجھے کئی حکمرانوں نے میرٹ کے برعکس داخلہ کرنے یا سٹوڈنٹ کو پاس کرنے کا کہا، لیکن میں نے فیکلٹی ممبران کی موجودگی میں واضح انکار کر دیا، جس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا نے میرا رزق جتنا لکھا ہے، اتنا ضرور ملے گا اور قبر میں جانے سے پہلے تک ملتا رہے گا اور جو نہیں لکھا اسے کسی طور حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ میں نیک نیتی سے محنت کرتا رہتا ہوں۔ جنہوں نے میرے راستے میں روڑے اٹکائے، ان مخالفین کو میں نے معاف کر دیا۔ اپنی تصنیف کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کا کہنا تھا کہ میں نے یہ کتاب ایک سال پہلے لکھی تھی، لیکن مصروفیات اور عجلت کی بنا پر دوبارہ اس کی پروف ریڈنگ نہیں کرسکا۔ کئی غلطیاں سہواً رہ گئی ہیں، جنہیں یا تو اگلے ایڈیشن میں دور کر دیا جائے گا یا پھر اغلاط نامہ تیار کرنا پڑے گا، جہاں تک اپنے رہائشی علاقے دھرم پورہ کا تعلق ہے تو اس مقصد کے لئے ایک علیحدہ کتاب درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ پی ایچ ڈی کے بعد پندرہ بیس ریسرچ آرٹیکلز تحریر کروں اور پاکستان میں پبلک سیکٹر میڈیا یونیورسٹی قائم کرنے کے لئے کام کیا جائے گا۔ میری یہ بھی جدوجہد رہی کہ تین چار فارن کوالیفائیڈ پروفیسر ڈاکٹر اکٹھے کرکے ایک اعلیٰ سطح کا ادارہ چلاؤں، لیکن انتظامی ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں، ایک چھٹی بھی نہیں کرتا، ابھی میں نے اپنے ادارے کے فیکلٹی ممبران کو دس دس روز کی موسم گرما کی تعطیلات دی ہیں، لیکن خود بدستور دفتر آرہا ہوں۔

92 نیوز کے گروپ ایڈیٹرسید ارشاد عارف نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین کی کتاب صحافت کے طلبا کیلئے مشعل راہ ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں، سید تاثیر مصطفی نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین نے سیاسی و سماجی تحریکیوں کوجلا بخشی،ڈاکٹر نوید چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹرمغیث نے اداروں کی تعلیم وترقی کیلئے بھرپور کردار ادا کیا، مذہب اور وطن سے محبت انکا خاصہ ہے،ڈاکٹر مغیث نے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔سلمان عابد نے کہا کہ ڈاکٹر مغیث الدین جہد مسلسل پر یقین رکھتے ہیں،ڈاکٹر مغیث نے کتاب میں تعلیمی پسماندگی اور اسکے گرتے معیار کا ذکر کیا ہے، ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی نے ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی خود نوشت پر منظوم تبصرہ کیا جس میں کہا کہ کتاب میں ڈاکٹر مغیث الدین نے زندگی کے حالات و واقعات بیان کئے ہیں.ڈاکٹرندیم الحسن نے ڈاکٹر مغیث کو اپنی یہ نظم پورٹریٹ کی شکل میں پیش کی۔

***

مزید : ایڈیشن 2