اللہ والوں کے قصّے۔۔۔ قسط نمبر 4

اللہ والوں کے قصّے۔۔۔ قسط نمبر 4
اللہ والوں کے قصّے۔۔۔ قسط نمبر 4

  

کسی شخص کی دینار کی تھیلی کھو گئی۔ اُس نے حضرت جعفر صادقؓ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا۔ ’’ میرے تھیلی تم نے ہی چرائی ہے۔‘‘

حضرت جعفر صادقؓ نے اس سے سوال کیا کہ ’’ اس میں کتنی رقم تھی۔‘‘

اس نے کہا۔ ’’ دو ہزار دینار ۔‘‘

چنانچہ آپؓ نے اُسے گھر لے جا کر دو ہزار دینار دے دیئے۔ کچھ دنوں بعد جب اس شخص کو اپنی کھوئی ہوئی تھیلی کسی دوسری جگہ سے مل گئی تو اُس نے آپؓ کو پورا واقعہ سناتے ہوئے معافی چاہی اور رقم واپس لینے کی درخواست کی لیکن آپؓ نے فرمایا۔ ’’ ہم کسی کو دے کر واپس نہیں لیتے۔‘‘

پھر جب لوگوں کی زبان سے اس شخص کو آپؓ کا اسمِ گرامی معلوم ہوا تو وہ اپنے آپ میں سخت شرمندہ ہوا۔

***

اللہ والوں کے قصّے۔۔۔ قسط نمبر 3پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

حضرت لقمانؒ سوڈان کے رہنے والے ایک بہت بڑی بزرگ گزرے ہیں۔ یہ بہت بڑے حکیم اور دانا آدمی تھے۔ ان کی حکمت اور دانش مندی کے بہت سے قصے مشہور ہیں۔

ایک مرتبہ کسی نے حضرت لقمانؒ سے پوچھا۔ ’’ دنیا میں سب سے بڑا مالدار کون ہے؟‘‘

فرمایا، ’’ سب سے بڑا مالدار وہ ہے جو اپنے مال پر سب سے زیادہ قناعت کرنے والا ہو۔ اور جسے ذرا لالچ نہ ہو۔‘‘

پھر پوچھا ، ’’ دنیا میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟‘‘

فرمایا سب سے عالم وہ ہے جو دوسروں کے علم سے اپنے علم میں اضافہ کرتا رہے۔ ‘‘

***

کہتے ہیں ، نہاوند میں ایک امیر تھا ۔ جو بغداد میں آیا اور چند لوگوں کے وسیلہ سے دربار شاہی میں پہنچ کر انعام حاصل کیا۔ واپس کے وقت امیر کو چھینک آئی تو اُس نے خلعت سے ناک صاف کرلیا۔

بادشاہ نے یہ حال دیکھ کر اُسی وقت خلعت کو واپس لے لیا اور سخت ناراض ہو کر اس کو دربار سے نکال دیا۔

جب یہ حال حضرت ابو بکر شبلیؒ کو معلوم ہوا تو اپنے دل میں خیال کیا کہ جو شخص ایک انسان کی بخشی ہوئی خلعت کو خراب کرتا ہے۔ اس پر اس کو ذلت اور رسوائی اُٹھانا ہوتی ہے تو جو شخص احکم الحاکمین کی عطا کی ہوئی خلعت کو خراب کرے گا وہ کس قدر عتاب کا مستحق ہوگا۔

چونکہ آپ بادشاہ وقت کے ہاں ملازم تھے اس لیے آپ اُسی وقت بادشاہ کے دربار میں گئے اور اُس سے کہنے لگے:۔

’’ اے بادشاہ باوجود مخلوق ہونے کے تو اپنی عطا کی ہوئی خلعت کی بے ادبی گوارانہیں کرتا۔ حالانکہ تیری خلعت کی قدر وقیمت سب کو معلوم ہے ۔ پس خداوند عالم کس طرح گوارا کر سکتا ہے میں اس کی عطا کی ہوئی خلعت دوستی اور ولایت کو تجھ جیسے کی خدمت سے خراب کردوں۔‘‘

یہ کہہ کر باہر نکل آئے اور بادشاہی ملازمت کو ترک کردیا۔

***

ایک دفعہ حضرت ابراہیم ادھمؒ کے پاس ایک شخص ایک ہزار درہم لایا اور کہا۔ ’’ قبول فرمالیجئے‘‘۔

آپ نے فرمایا۔ ’’ میں محتاجوں سے کچھ نہیں لیا کرتا۔‘‘

اُس نے کہا، ’’ میں محتاج نہیں دولت مند ہوں۔‘‘

آپ نے فرمایا ، ’’ کیا تو اپنی ولایت میں زیادتی کا خواہش مند نہیں۔ ‘‘

اُس نے کہا، ’’ ضرور ہوں۔‘‘

پھر آپ نے فرمایا، ’’ درہم اُٹھالے کیونکہ محتاجوں کا سردار تو ہی ہے۔‘‘

***

ایک بار لوگوں نے حضرت ابراہیم ادھمؒ سے پوچھا کہ ’’ آپ اپنی زندگی کیسے بسر کرتے ہیں۔‘‘

آپ نے فرمایا۔ ’’ میرے پاس چار سواریاں ہیں۔ جب مجھ پر کوئی سختی آتی ہے تو شکر کی سواری پر بیٹھ جاتا ہوں۔ جب کوئی طاقت ظہور میں آتی ہے تو اخلاص کی سوار اختیار کر لیتا ہوں۔ اگر گناہ سرزد ہوتا ہے تو توبہ کی سواری کام میں لاتا ہوں۔ جب کوئی بلا نازل ہوتی ہے تو صبر کی سواری کام آتی ہے۔ ‘‘

***

ایک دفعہ لوگوں نے حضرت ادھمؒ سے پوچھا۔ ’’کیا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دعاؤں کو قبول نہیں کرتا۔‘‘

’’ خداتعالیٰ کو جانتے ہو لیکن اس کی اطاعت نہیں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ کو پہنچانتے ہو مگر اُن کی پیروی نہیں کرتے۔ قرآن کریم پڑھتے ہو مگر اس پر عمل نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمت کھاتے ہو مگر شکر ادا نہیں کرتے ۔ جانتے ہو کہ دوزخ گناہ گاروں کے لیے ہے مگر اس سے ذرا نہیں ڈرتے۔ شیطان کو دشمن سمجھتے ہو مگر اس سے نہیں بھاگتے نہیں۔ موت کو برحق سمجھتے ہو مگر کوئی سامان نہیں کرتے۔ خویش و اقارب کو اپنے ہاتھوں دفن کرتے ہو لیکن عبرت نہیں پکڑتے۔ جو شخص اس طرح کا ہو ، اُس کی دُعا کیوں کر قبول ہو سکتی ہے۔‘‘

***

(جاری ہے۔۔۔اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے