وزیر اعظم عمران خان ڈیم فنڈز اکٹھا کرنے کے لئے ایک اور بڑا کام بھی کریں گے

09 ستمبر 2018 (16:44)

شاہد نذیر چودھری

ملک میں ڈیم کی سیاست نے تین بڑے اداروں کو ایک پیج پر لاکھڑا کیا ہے ۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ کام پہلی بار ہوا کہ پارلیمان میں حکمرا ن پارٹی کے لیڈر وزیر اعظم عمران خان نے فوج کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا بھی اعتمادحاصل کرتے ہوئے بیچ کی انااور ضد کو ختم کردیا ہے اور قومی تعمیر کے ایجنڈے کی کال دے دی ہے ۔اوورسیز پاکستانیوں سے ڈیم فنڈ کے نام پر مدد مانگنا اور چیف جسٹس پاکستان کے ڈیم فنڈ کو باہم جوڑنا ایسی پیش رفت ہے جس کے حیران کن ثمرات مل سکتے ہیں ۔یار لوگوں کو اس اتحاد ثلاثہ پر بے تحاشا مرچیں لگ گئی ہیں ۔کج ناں پچھو،ان کے  سینوں پر سانپ  کیسے لوٹ رہے ہیں۔  انہیں خیرات و چندہ لڑگیا ہے۔ابھی انہوں نے اوورسیز سے مدد مانگی ہے ،آنے والے دنوں میں وہ پاکستان کی کرکٹ  ٹیموں کو  بھی اس محاذ پر کھڑا کرکے کرکٹ میچوں سے پیسہ اکٹھا کریں گے تو پھر دیکھیں حریفان سیاست کا کیا حشر ہوتا ہے۔ 

وزیر اعظم عمران خان جب اقتدار سے کوسوں دور تھے مگر اپنی انفرادی مقبولیت کے بل بوتے اور ساکھ کی مدد سے انہوں نے شوکت خانم سے نمل یونیورسٹی سمیت کئی ایسے پائیدار منصوبوں کوخیرات و چندہ سے بنا کر دکھا دیا تھا ۔گویا سرسوں کو ہتھیلی پر جمادیا تھا لیکن اب جبکہ انہوں نے غیرت اور برابری سے پاکستان کو بدلنے کی قسم کھارکھی ہے اور حقیقت میں اقتدارکو اللہ کی دین سمجھ کر قومی تعمیر کے منصوبوں کو پاکستانیوں کے روپوں سے بنانا چاہتے اور غیر ملکی قرضوں کے شکنجے میں گردن تا پاء خود کو پھنسانے سے باز رکھنا چاہتے ہیں توان پر ہر اس ”محب وطن“ سیاستدان نے تبصرہ و تبرا  شروع کردیا ہے جو کہا کرتے تھے کہ دراصل ملک کو مضبوط کرنے کے لئے جو بھی اچھا کام کرے گا ہم اسکے ساتھ ہیں  ۔لیکن ان کا تعصب باہر نکل آیا ہے۔عمران خان  نے ڈیم بنانے کے اسی لاکھ سے زائد اوورسیزپاکستانیوں سے فی کس ایک ہزار ڈالر چندہ مانگا ہے تو ان پر مراثیوں کی طرح جگتیں کسی جانے لگی ہیں،سوشل میڈیا سے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا تک کوئی ایسا محاذ خالی نہیں رہا جہاں سے ان پر موسلا دھار تنقید نہ کی جانے لگی  اور ٹھٹھے لگا کر یہ  بیان چھوڑے جارہے ہیں   کہ کبھی چندے خیرات سے بھی ڈیم بنے ہیں ۔کھالیں مانگنے والے اب اوورسیز پاکستانیوں سے ایک ہزار چندہ مانگیں گے اور ڈیم بنائیں گے؟ 

وزیر اعظم عمران خان پر بیوروکریٹس بھی حیران اور مذاق اڑارہے ہیں،چند دنوں سے ان سے کی باتیں سن کر حیرانی ہورہی اور پیچ و تاب کھا رہا ہوں یہ سن کر کہ اکنامکس مینجمنٹ پر لاکھوں خرچ کرکے جو لوگ امریکہ سے ڈگریاں لاتے ہیں دراصل وہی بتاسکتے ہیں کہ ڈیم بنانے کے لئے پیسہ کیسے مینج ہوگا؟ عمران خان تو مداری اور اناڑی ہے  جو تماشا لگا کر سرسوں ہتھیلی پر جمانے کا دعویٰ کررہا ہے ۔بات یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اعلی ڈگریاں بڑے کام کی ہوتی ہٰیں لیکن اگر یہ غیرملکی قرضوں سے ہی ملک کی معیشت چلانے کو حتمی طریقہ کہنا شروع کردیں اور کہیں کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تو ان کی نالائقیوں پر غور کرنا چاہئے اور انہیں پاکستان کا یہ ورپ سروپ دیکھانا چاہئے کہ پاکستان میں نجی فلاحی تنظیموں نے چندے خیرات سے ملک کے کونے کونے میں ہسپتال،تعلیمی ادارے ،کنویں ،ہنر کدے بنا کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کیا ہے ۔ورنہ حکومتیں از خود اتنے بڑے کام کہاں کرسکتی ہیں؟اس سے ایک سکول کالج یونیورسٹی اور ہسپتال بنانا اور چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔پاکستان مٰیں چندے اور خیرات کے علاوہ تارکین پاکستانیوں نے کئی ایسے بڑے منصوبوں کو مکمل کرادیا ہے کہ دنیا دنگ ہے ۔ایٹمی ٹیکنالوجی میں   پاکستان نے کیسے کامیابی حاصل کی جبکہ امریکہ سمیت دنیا بھر کی پابندیاں تھیں ،کوئی کام بلیک اینڈ وائٹ میں نہیں ہوسکتا تھا مگر پاکستانی ہنر مندوں نے ملک کے اندر ہی ایسے پرزے بنا لئے اورملک سے محبت کرنے والے بہت سے پاکستانیوں نے یہ میدان مارنے میں مدد دی۔ایدھی صاحب نے دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس اور امدادی تنظیم کوچندے سے بنایا۔ایسے سینکڑوں اور بھی ادارے ہیں۔میاں نواز شریف نے خود اپنے دور میں" قرض اتارو ملک سنوارو " کی تحریک شروع کی اور ملک کو معاشی طور پر اسکے قدموں میں کھڑا کیا تو یہ بھی پاکستانیوں کے چندے سے ہی خواب پورا ہوا تھا۔

مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ترقیاتی پیداواری منصوبوں کو مکمل کرنے کے لئے ہم نے غیر ملکی قرضہ و مدد کو تو لازم سمجھ رکھا ہے لیکن یہی مدد اگر پاکستانیوں کو آمادہ کرکے حاصل کی جائے تو گناہ سمجھ لیا جاتا ہے ؟ ہمارے دانشور اور سیاستدان تو کام اور حوصلہ بڑھانے کی بجائے جگتیں مار کر مورال ڈاوں کرنے کی ہی کوشش کرتے ہیں ۔بندہ پوچھے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان نے چندے اور خیرات سے ڈیم بنا دئےے۔یا ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ اس نے یہ پیسہ توانائی کی دوسری پائیدارٹیکنالوجی میں بھی صرف کرکے بجلی حاصل کرلی تو یہ ناقدین اسکا جواب کیا دیں گے ؟ کیا شرم سے ڈوب مریں گے اور قوم سے مفافی مانگیں گے ؟ انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ دنیا کے طاقتور ترین ادارے ،تنظیمیں پوری دنیا میں بھوک،پانی،امن ،بیماری اور بے گھر لوگوں کے لئے خیرات اور چندے سے اپنے منصوبے مکمل کرتی ہیں ،اس معاملہ میں اہم بات یہ ہے کہ یہ پیسہ فلاح انسانیت کے کام آتا ہے ،اکٹھا جہاں جہاں سے بھی اور جیسے بھی کیا ہو،پاکستان میں ڈیم نہ بنے تو ملک میں بھوک بیماری امن کا جوالہ مکھی پھٹ پڑے گا اور دنیا ہمیں اس عذاب سے بچانے کے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سمیت ساہوکاروں سے مدد مانگنے کی ترغیب دیتی ہے جبکہ پاکستان کے ماہرین اقصادیات کا بھی یہی تقاضا اور دلائل ہیں ۔لیکن اس قرضہ کے عوض پاکستان غیر ملکی قوتوں کا ہی محتاج رہے گا،پابندیوں میں جکڑا رہے گا ،ملک میں اشیائیے صرف کی قیمتوں کا تعین ان بیرونی قوتوں کے دباو پر کرنا پڑے گا،تعلیمی پالیساں ہوں یا میدان صحت میں فلاحی کام کرنے کا منصوبہ،اس کی پالیسیاں بھی غیر ملکی ایجسنیاں ہی بنائیں گی اور ابھی تک ایسا ہی ہورہا ہے ۔جبکہ وزیر اعظم عمران خان اس سارے فساد کو اسکی جڑوں سے اکھاڑنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے انہوں نے خود انحصاری سے ملک کے بنیادی بحرانوں کو حل کرنے کے لئے بڑااور بہترین قدم اٹھایا ہے ۔انہوں نے وزیر اعظم ڈیم فنڈ اور چیف جسٹس ڈیم فنڈ کو اکٹھا کرنے کا عندیہ بھی ایسی وجہ سے دیا ہے۔عمران خان  ،فوج اور عدلیہ کی ضمانت اووسیز پاکستانیوں کو مل چکی ہے اور یقین کرلینا چاہئے کہ پاکستانی اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے اور ان پانچ سالوں میں ہتھیلی پر سرسوں جما ہوا دیکھیں گے۔۔۔

۔۔

ادارے کا بلاگرز کے ذاتی خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں