طالبان کے ساتھ مذاکرات آج نہیں تو کل پھر ہوں گے

طالبان کے ساتھ مذاکرات آج نہیں تو کل پھر ہوں گے

امریکی صدر ٹرمپ نے طیش میں آکر طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کا عمل روک دیا ہے، جو لوگ افغانستان کی تاریخ اور جغرافیئے سے اچھی طرح واقف ہیں انہیں صدر ٹرمپ کے اس یکطرفہ اعلان سے کوئی حیرت نہیں ہوئی، اگرچہ دوحہ میں مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے اور اب لگتا تھا کہ شاید یہ کسی نتیجہ خیز مرحلے کی جانب بڑھنا شروع ہوگئے ہیں، لیکن کابل اور بعض دوسرے شہروں میں چند واقعات ہوگئے اور اگلے ہی لمحے صدر ٹرمپ نے مذاکرات کی معطلی کا اعلان کردیا اور یہ کہہ دیا کہ لگتا ہے طالبان کو ان تمام گروہوں پر پوری طرح کنٹرول نہیں ہے جو افغانستان میں طالبان کے نام سے لڑ رہے ہیں۔ یہ خیال بھی افغانستان کی تاریخ سے بے خبری کی علامت ہے کیونکہ افغانستان میں تو افغان حکومت کا پورے ملک پر کنٹرول نہیں ہے جسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے اور ان تمام ملکوں کے فوجی بھی افغانستان میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ افغان حکومت کابل سے باہر کہیں نظر آتی ہے اور کہیں اس کا وجود بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

ایسے میں طالبان سمیت کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کا پورے افغانستان پر کنٹرول ہے، یہی تو وہ مشکل کام ہے جس کا افغانستان میں وجود آسان نہیں ہے۔ اس لئے اگر امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کئے ہیں تو انہیں صبر و تحمل کے ساتھ جاری بھی رکھنا ہوگا۔ جس طرح افغانوں کے ساتھ لڑائی ایک مشکل کام ہے اور یہ برسوں تک جاری رہ سکتی ہے اسی طرح افغانوں کے ساتھ مذاکرات بھی کوئی آسان کام نہیں ہے، افغان اگرسال ہا سال تک بلا تکان لڑ سکتے ہیں تو کسی شش و پنج میں پڑے بغیر لمبے عرصے کے لئے مخالفوں کے ساتھ مذاکرات بھی کرسکتے ہیں۔ ان مذاکرات میں دو چار نہیں، درجنوں سخت مقامات بھی آتے ہیں اور ضروری نہیں ایسے کسی مرحلے کے بعد مذاکرات ناکام ہی ہو جائیں۔ مایوسی کے اس ماحول کے بعد اچانک آپ کو معلوم ہوگا کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ افغانوں کے ساتھ جس کسی نے بھی مذاکرات کرنے ہیں اسے افغانوں کی ان اداؤں سے اچھی طرح باخبر ہونا چاہئے۔ زلمے خلیل زاد چونکہ خود افغان نژاد ہیں اس لئے انہیں معلوم ہوگا کہ افغانوں کے ساتھ مذاکرات کیسے کرنے ہیں اور بالآخر انہیں کھینچ تان کر کامیابی کی جانب دھکیل کر کیونکر لے جانا ہے، اس لئے یہ مذاکرات جو اب ختم ہوگئے ہیں اگر چند ہفتوں کے بعد دوبارہ شروع ہو جائیں تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے اور اگر مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے میں زیادہ دیر بھی لگ جائے تو بھی زیادہ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

صدر ٹرمپ کا مزاج چونکہ سیلانی ہے اس لئے وہ کبھی مذاکرات سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں اور کبھی اچانک مذاکرات ملتوی کردیتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اب کیا ہے، لیکن جلد ہی آپ کو اگر خبر ملے کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں تو اس پر بھی خوشی کے شادیانے بجانے کی زیادہ ضرورت نہیں اور نہ ہی تازہ التوا سے پریشان ہونے کی چندان ضرورت ہے، یہ مذاکرات ایسے ہی ہوں گے۔ امریکیوں کو جو ان مذاکرات میں شریک ہیں معلوم ہے اور خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ جس طرح افغانوں سے لڑنا مشکل ہے اسی طرح ان کے ساتھ مذاکرات کرنا بھی آسان کام نہیں، وہ ہر لحاظ سے مشکل لوگ ہیں، لڑتے وقت بھی اور مذاکرات کرتے وقت بھی، اس لئے یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ جلد نہیں تو بدیر ہوں گے، ویسے ایک اہم سوال یہ ہے کہ مذاکرات اگر نہیں ہوں گے تو پھر امریکہ کے پاس آپشن کون کون سے ہیں، لڑائی تو اٹھارہ سال لڑ کے دیکھ لی، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔کھربوں ڈالر سنگلاخ پہاڑوں کی نذر ہوگئے، لیکن افغان باقی ہے اور افغان کہسار بھی باوقار انداز میں کھڑے ہیں، کیا صدر ٹرمپ اس مرحلے پر مزید امریکی دستے افغانستان بھیج کر جنگ کو فیصلہ کن اختتام کی طرف لے کر جانا پسند کریں گے؟

صدر اوباما کے دور میں ایک لاکھ تیس ہزار فوجی افغانستان میں موجود تھے اور یہ زیادہ سے زیادہ تعداد تھی جو افغانستان میں موجود رہی۔ امریکی کمانڈروں کا خیال تھا کہ اگر اتنے فوجی افغانستان میں موجود ہوں تو افغانستان میں فتح ہو جائے گی۔ جس کے بعد امریکہ فاتحانہ انداز میں وہاں سے نکلے گا، لیکن امریکیوں کو شاید معلوم نہیں تھا کہ آج تک کوئی سپر طاقت افغانستان سے فتح یاب ہوکر نہیں نکلی، سکندر اعظم سے لے کر آج تک کی تاریخ تو یہی ہے، کیا صدر ٹرمپ یہ تاریخ بدلنے کی صلاحیت اور قدرت رکھتے ہیں؟ ان کا یہ اعلان افغانوں نے بھی سن لیا اور طالبان نے بھی ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا کہ ایک کروڑ افغان مار کر ایک ہفتے میں افغان جنگ کو فیصلہ کن بنایا جاسکتا ہے۔ اگر صدرٹرمپ ایسا کرسکتے ہیں تو کر دیکھیں، لیکن افغانستان کے بارے میں جو بات یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جاپان نہیں ہے، صدرٹرمپ کو اگر افغانستان کے بارے میں کچھ جاننا ہے تو وہ برطانیہ سے پوچھ لیں، اور اگر اس کے بعد کسی ملک کو معلوم ہے تو وہ سوویت یونین کا جانشین روس ہے، وہ امریکہ کو بتا سکتا ہے کہ افغانستان میں جنگ کیا ہے اور وہاں فتح و شکست کیا چیز ہوتی ہے۔

مذاکرات تو پھر بھی ہو جائیں گے آج نہیں تو کل، کل نہیں تو چند ہفتوں بعد، امریکہ کے پاس مذاکرات کے بعد کون سا آپشن بچا ہے،ٹرمپ ایک کروڑ افغانوں کو مار کر افغان مسئلہ حل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی فوج میں کوئی میکارتھر تلاش کرلیں جنہوں نے جاپان کے دوشہروں کو راکھ کا ڈھیر بنانے کے بعد بھی اپنی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ ابھی مزید ایٹم بم بھی چلائے جاسکتے ہیں۔ کمبوڈیا کا قصہ بھی تمام کر دیا جائے، جس کے جواب میں ان کو برطرف ہونا پڑا تھا، اگر امریکی فوج میں کوئی دوسرا میکارتھر ہے تو وہ افغانستان کی جنگ کو آکر فیصلہ کن بنالے، اور صدر ٹرمپ کا کلیجہ ٹھنڈا کردے۔ آج صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کردیئے ہیں تو کل انہیں پھر مذاکرات کی میز دوبارہ بچھانا ہوگی، اگر آج نہیں تو پھر کوئی اگلا صدر مذاکرات کرے گا، افغانوں کا کیا ہے وہ جنگ میں بھی ہتھیار نہیں ڈالتے اور مذاکرات میں بھی جلد بازی نہیں کرتے۔ وہ مذاکرات سے مایوس ہوکر میدان جنگ کا رخ کرتے ہیں تو میدان جنگ سے اٹھ کر مذاکرات کی میز پر جا بیٹھتے ہیں، یہ بات زلمے خلیل زاد کو تو معلوم ہے مائیک پامپیو کو نہیں، صدر ٹرمپ کو بھی نہیں، اس لئے وہ آج نہیں توکل مذاکرات کی جانب لوٹیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...