ٹال ٹیکس میں بھی اضافہ!

ٹال ٹیکس میں بھی اضافہ!

وفاقی حکومت کی طرف سے عائد کئے گئے ٹیکسوں کے ساتھ یوٹیلٹی بلوں میں اضافے کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی عوام پر بوجھ کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس ماہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی گرتی قیمتوں کے حوالے سے پاکستان میں پٹرول، ڈیزل اور تیل مٹی کے نرخ کم کئے گئے ہیں تو نجی ٹرانسپورٹروں کو کرانے بڑھانے کی بھی اجازت دے دی گئی تھی۔ اب حکومت نے موٹر ویز کے ٹول میں دس فیصد اضافہ کر دیا جو یکم ستمبر سے لاگو ہو چکا ہے۔ نئے ٹال کے مطابق لاہور سے اسلام آباد تک کار اور جیپ سے 750 روپے لئے جائیں گے یہ پہلے 688 روپے تھے۔ ویگنوں سے اب 1140 روپے، کوسٹر ویگن سے 1600 روپے، بس سے 2290 روپے، ٹرک سے 3278 روپے، 22 ویلر ٹرالر سے اب 4203 روپے وصول کئے جا رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے ہر روز عوام کو دلاسے دیئے جاتے اور ساتھ ہی ساتھ معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اب بہتری کی طرف مائل ہے لیکن ایسے اقدامات سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ تا حال یہ دعوے تکمیل کی حد تک نہیں جا رہے، کہ مسلسل بوجھ بڑھایا جا رہا ہے۔ اب ٹال کے نرخ بڑھائے گئے تو ٹرانسپورٹر حضرات کو یہ جواز مل گیا ہے کہ پٹرولیم کے نرخ کم ہوئے لیکن ان کے اخراجات میں کمی نہیں ہوئی۔ ٹیکس بڑھ گیا ہے۔ چنانچہ عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔ موٹر ویز پر ٹال فیس میں اس اضافے سے ذاتی کار/ گاڑی والے بھی تو متاثر ہوئے ہیں۔ یوں موٹر ویز کے راستے سفر پر پٹرولیم میں کمی کا فائدہ نہیں ہوا۔ عوام اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو کرنا ہے ایک ہی بار کر لیں یوں سسکا سسکا کر مارنے کی پالیسی ترک کر دی جائے۔ وفاقی حکومت کے اب تک کے اقدامات سے تو عوام کو ریلیف ملنے کی کوئی توقع نہیں وہ کس وعدے پر یقین کریں۔ حکومت کو فیصلے یہ سوچ کر بھی کرنا چاہئیں کہ متاثر تو بالآخر عوام ہوتے ہیں اور مالی بوجھ اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوتا چلا جا رہا ہے۔ حکومت ریلیف کے اقدامات بھی کرے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...