خبردار پاکستان!

خبردار پاکستان!
خبردار پاکستان!

  


سوشل میڈیا ایک ایسی گلی ہے جس میں چھوٹوں کے علاوہ بہت بڑے بڑے لوگوں سے بھی ملاقات ہوجاتی ہے،انتظامیہ سے شکایات لئے، ظلم کی داستانیں بیان کرتے، قومی اور بین الاقوامی معاملات پر بات کرتے ہوئے رہنما اور مدبر لوگ بھی،ہمت و غیرت کی زندگی گذارنے والے، باہمت معذور بھی، تنگ و تاریک گلیوں میں حسرت و یاس کی تصویر بنے شہری، اور اپنے اپنے مختلف کرتب دکھانے والے بھی۔ دُنیا بھر کے خوبصورت مقامات کی سیر بھی ہوجاتی ہے اور زندگی میں آگے بڑھنے کی تمنا اور عزم رکھنے والوں کو نئے نئے آئیڈیاز بھی مل جاتے ہیں۔انسان نت نئی اختراعات و ایجادات سے بھی آگاہ ہوتا رہتا ہے۔ آج کشمیر میں ہمارے مسلمان بھائی جس طرح کے مظالم اور عذاب کو بھگت رہے ہیں،

ہزار پابندیوں کے باوجود اس کے بہت سے مناظر اور اس سب کچھ کے ردعمل میں ہونے والے عالمی احتجاج اور مظاہروں کے علاوہ قوت ایمانی سے بھر پور بعض گروہوں کے بندوقیں اٹھائے جہاد شروع کرنے کی تمنا کی جھلک بھی کہیں کہیں نظر آجاتی ہے۔ ایسے مناظر جس طرح ہمارے دلوں کو انڈین آرمی اور حکمرانوں کے خلاف نفرت سے بھر رہے ہیں، اور جس طرح ہم میں بے اختیار اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے جوش و جذبہ پیدا ہوجاتا ہے، اس کو قابو میں رکھ کر درست سمت دینا اور دشمن کی چالوں پر نظر رکھنا ہمارے لئے اس وقت اہم ترین مسئلہ ہے۔

اس وقت ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ملک میں سیاسی سطح پر اپوزیشن اور حکومت میں بہت دوری پیدا ہوچکی ہے، دشمن کے مقابلے میں قوم بالعموم ایک ہے، لیکن سیاسی اختلافات اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں سے کم از کم ان رہنماؤں کے قریبی اور وفادارسیاسی کارکن ضرور حکومت مخالفت میں انتہا پسندی سے کام لے رہے ہیں۔ غلط غلط ہے اور صحیح صحیح یہ دونوں صورتیں ملکی سیاست میں ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں غلط اور صحیح فیصلہ ہی ذاتی اور گروہی مفاد کی بنیادوں پر کیا جائے، وہاں ایک دوسرے کے خلاف انتہاء پسندی کو ختم کرنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن قوم نے ہر دور میں ثابت کیا ہے کہ امتحان کے وقت ہم سب اپنی افواج کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔

یہ بات ہم لیبیا، شام، اور عراق میں دیکھ چکے ہیں کہ ان اسلامی ملکوں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے دشمن نے کس طرح ان کے اندر اسلام ہی کے نام سے اپنے ایجنٹ پیدا کئے اور ان کو کس طرح خانہ جنگی سے دورچار کر کے اپنے مقاصد حاصل کئے۔ ہمارے ہاں بھی دشمن طویل عرصہ تک ہمیں دہشت گردی کا نشانہ بناتا رہا ہے اور اس کے لئے وہ افرادی قوت خود پاکستان اور ا افغانستان سے خریدتا رہا ہے۔ اندرونی خطرات ہمارے لئے ہمیشہ زیادہ مہیب ثابت ہوئے ہیں۔ ان دنوں ہم نے عالمی اور علاقائی سطح پر دشمن کو اس طرح زک کیا ہے کہ وہ اب ہمیں چاروں طرف سے گھیر کر ہمارے ساتھ آخری معرکے کی تیاریوں میں ہے، لیکن اللہ کی مدد سے وہ خود ویسے اندرونی انتشار اور توڑ پھوڑ کا شکار ہوچکا ہے جیسا کہ وہ ہمارے اندر چاہتا ہے۔ اب اس کا ہم پر ہر وار مکر اور فریب کا وار ہوگا۔

اہم بات: اس ضروری تمہید کے بعد میں قارئین اور قومی دفاع کے ذمہ داروں کی توجہ بھارت کے اس اہم منصوبے کی طرف دلانا چاہتا ہوں، جس کی نشاندہی فیس بک پر نظر آنے والی ایک خاتون کی تقریر سے ہوئی۔ شکل صورت میں مریم نواز سے ملتی جلتی اور اسی عمر کی ایک خاتون کشمیریوں (مقبوضہ کشیر والوں) کو خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ (کشمیر کی کسی نام نہاد تنظیم کی طرف سے اعلان کے بعد) اب تمام کشمیریوں کا یہ فرض ہے کہ وہ چار اکتوبر کو جوق در جوق گھروں سے نکلیں اور کنڑول لائن کو پار کریں۔ آزادی حاصل کرنے کا یہ موقع اس کے بعد پھر نہیں آئے گا۔ اس خاتون کی تصویر (تقریر) کے ساتھ کسی طرح کا کیپشن نہیں تھا، جس سے واضح ہوتا کہ وہ کون ہے اور کس جگہ سے تقریر کر رہی ہے۔

دیکھتے ہی دیکھتے یہ تقریر فیس بُک سے غائب ہو گئی پھر کوشش کے باوجود اسے دوبارہ نہیں دیکھا جا سکا،لیکن تقریر سے واضح تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انڈین حکومت کی کسی کٹھ پتلی تنظیم کی لیڈر تھی اور اس خواہش کا اظہار کر رہی تھی کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد جا کر کنٹرول لائن پار کرے، اور آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود کنٹرول لائن کو ختم کرکے آزادی حاصل کر لے۔بظاہر یہ بہت احمقانہ خواہش ہے،لیکن یہ صرف اس عورت ہی کی نہیں انڈین منصوبہ سازوں اور مکار ذہن کی منصوبہ بندی معلوم ہوتی ہے۔

ان کے لئے اس سے زیادہ آسان دوسرا کوئی آپشن نہیں کہ وہ کشمیریوں کی موجودہ جد و جہد آزادی کا رخ اپنے مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر کی طرف پھیر دیں اور کشمیریوں کو متحد ہو کر اپنے ملک کے دونوں حصوں کو ایک کر لینے کا لالچ دے کر کنفیوژ کر ڈالیں۔ اس ضمن میں مجھے ان دس ہزار کے لگ بھگ کشمیری نوجوانوں کا خیال آرہا تھا، جنہیں ان کے گھروں سے اغوا کرکے کسی نامعلوم مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔ ان کی ابھی تک کوئی خبر نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ پروگرام یہی لگتا ہے کہ چار اکتوبر کو ان نوجوانوں کے درمیان انڈین کمانڈوز کو شامل کرکے دکھاوے کے لئے کچھ خواتین اوربچوں کو ساتھ ملا کر ہزاروں کی تعداد میں انڈین فوجی آزاد کشمیر میں داخل کئے جائیں۔

انڈین حکومت کے زیر اثر کام کرنے والے نام نہاد کشمیری رہنما چار اکتوبر کو کشمیر کے یوم آزادی کی حیثیت دیتے ہیں اور اس دن کے ساتھ کشمیریوں کی جذباتی وابستگی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔یہ بھی پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ آزادی کا اعلان کرنے والی اصل کشمیری قیادت وہی تھی جس نے چار اکتوبر کو آزادی کا اعلان کیا تھا، یہ قیادت دونوں طرف کے کشمیر کو متحد رکھنا چاہتی تھی۔ظاہر ہے کہ دونوں حصوں کو متحد کرکے آزاد ملک بنانے کا خواب بہت سے کشمیریوں کا خواب ہے، لیکن زمینی حقائق سامنے رکھتے ہوئے جو لوگ اس کے متعلق تفصیل سے سوچتے ہیں وہ اسے قابل عمل نہیں سمجھتے یہی وجہ ہے کہ کشمیری صرف انڈیا سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں، جس طرح کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو آزاد کرانے والوں نے برضا و رغبت پاکستان کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی ہے اور وہ اپنی آزاد و خود مختار حیثیت کے بجائے پاکستان کے ساتھ مکمل الحاق کا مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں (، لیکن ایسا ابھی کشمیر کے کسی حتمی فیصلے سے پہلے ممکن نہیں)۔

تاہم انڈیا کی طرف سے بہت کچھ جھوٹا سچا مواد تیار کرکے اب کشمیر کو متحد کرنے کی طرف کشمیریوں کی توجہ دلائی جارہی ہے، جبکہ کشمیری سمجھتے ہیں کہ انہیں انڈیا سے آزادی حاصل کرنا ہے، اپنے وطن پاکستان سے نہیں …… لیکن انڈین منصوبہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زوردار پراپیگنڈا کی آڑ میں چار اکتوبر کو بہت سے کشمیریوں کو ہانکتے ہوئے کنٹرول لائن پر لائیں اور ان کے ساتھ ہزاروں انڈین کمانڈوز کو بھی پاکستان دھکیل دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ کنٹرول لائن پر لائے گئے ہزاروں نہتے حقیقی کشمیری مسلمانوں بچوں اور خواتین کے ساتھ پاکستانی افواج وہ سلوک نہیں کر سکتیں جو کہ ان کے ساتھ بھارت میں ہورہا ہے۔ بھارت کی طرف سے ایسی مکارانہ کوشش ہمارے لئے انتہائی خطرناک ہو گی،اس کوشش کا موثر جواب ہم کشمیری عوام کو قبل از وقت خبردار کرکے اور خود خبرادار رہ کر اور مکمل تیاری کے ساتھ ہی دے سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...