ریٹائرمنٹ

ریٹائرمنٹ
ریٹائرمنٹ

  


خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبائی سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 63 سال کر دی ہے۔ جو ملازمین اگلے چند سالوں میں ریٹائرہو رہے تھے وہ تو خوشی سے پھولے نہیں سمارہے لیکن جنہوں نے مستقبل قریب میں ریٹائر نہیں ہونا تھا وہ پریشان ہیں۔ ایک کی خوشی اور دوسرے کی پریشانی سمجھ میں آتی ہیں۔

دراصل ہمارے ہاں فلاحی ریاست کا تصور اس حد تک پختہ نہیں ہوا ہے کہ ہم اپنے بزرگ شہریوں کو وہ سہولتیں دے سکیں جو ترقی یافتہ ممالک میں اُن کو میسر ہوتی ہیں۔ وہاں 60 سال سے زیادہ عمرکے افراد کوبلامعاوضہ مقامی سفرکرنے اور علاج کی سہولتیں ملتی ہیں۔ ان کو ٹیکس میں بھی رعایت دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بزرگ پبلک ٹرانسپورٹ بلا معاوضہ استعمال کر سکتے ہیں نہ اُن کو ٹیکس میں کوئی رعایت ملتی ہے۔علاج کی کچھ سہولتیں اُن کو ملتی ہیں جن کے پاس صحت کارڈ ہو تاہم یہ سب کے پاس نہیں ہے۔

وہ نہ صرف اپنے رہن سہن اور علاج معالجے کے ذمہ دار ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات اپنے بچوں اور اُن کے بچوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ کئی حضرات ایسے بھی ہیں جن کوسرکاری ملازمت کے دوران اختیارات کے استعمال کاایسا چسکا پڑ جاتاہے کہ اُن کے لئے کرسی چھوڑنا ایک سانحے سے کم نہیں ہوتا۔ کچھ اپنی طویل ملازمت کے دوران ایک خاص معمول کے ایسے عادی ہو جاتے ہیں کہ ان کے لئے انتہائے ملازمت دفتر کو چھوڑنا اور گھر بیٹھنا آسان نہیں ہوتا۔اس لئے زیادہ تر سرکاری ملازمین ریٹائر ہونے سے خوف زدہ رہتے ہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ اُن کی ملازمت جانے سے ان پر رزق کے دروازے بند ہو جائیں گے اورعزیز و احباب بھی ان سے منہ موڑ لیں گے۔ اس لئے مدتِ ملازمت میں توسیع ان کے لئے ایک اچھی خبر ہے۔

ریٹائرمنٹ کے لئے عمر کی حد میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔اکثرترقی یافتہ ممالک میں لوگ ساٹھ سال کے بعد ریٹائر ہوتے ہیں۔ برطانیہ اور کئی دیگر مغربی ممالک میں ریٹائرمنٹ کی عمر60سال اور ناروے میں 67 سال ہے۔ امریکہ میں ریٹائر ہونے کے لئے عمر کی حد نہیں ہے جب تک ایک ملازم کام کر سکتا ہے کرتارہے اور جب آرام کی ضرورت محسوس کرے تو پنشن پر چلا جائے۔پاکستان میں ریٹائرمنٹ کی عمر پہلے 55 سال تھی پھر 60کر دی گئی۔اب ملک میں اوسط عمر بڑھ چکی ہیں۔ ساٹھ سال کے بعد بھی لوگ صحت مند اور کام کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ کوئی سٹھیا گیا ہے۔ اَب ایسا نہیں ہے۔لیکن ہمارے ہاں آبادی میں اضافے کی شرح بہت زیادہ ہے۔دنیا کی آبادی میں یہ شرح 1.07فیصد ہے جبکہ ہمارے ہاں 2.4 فیصد ہے۔ عمر کے تناسب سے ہماری آبادی میں 63 فیصد نوجوان 29 سال سے کم عمر کے ہیں۔یعنی ہمارے ہاں بچے زیادہ اور بوڑھے کم ہیں۔اس کے مقابلے میں ترقی یافتہ ممالک میں بوڑھوں کی تعدادبڑھ رہی ہے اور بچے کم ہیں۔بالفاظ دیگرٹیکس دینے والوں کی تعدادکم اورمالی مراعات لینے والوں کی بڑھ رہی ہے۔ہمارے ہاں کام کرنے والے نوجوان زیادہ ہیں جبکہ ملازمتوں کے مواقع کم ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں مسئلے کا حل پنشن کے لئے عمر کی حد بڑھانے میں اور ہمارے ہاں گھٹانے میں ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو روزگار چا ہئے مگر روزگار کے ذرائع کم ہیں۔ملکی معیشت قرضوں کے سہارے چل رہی ہے۔ملک میں سرمایہ کاری کرنے اپنے آتے ہیں نہ پرائے۔ جن کے پاس سرمایہ ہے وہ زمینیں اور جائیدادیں بنا رہے ہیں۔

زرخیز زمینوں پر گھر اور کالونیاں بن رہی ہیں۔یہ پیداواری سرگرمیاں نہیں ہیں جن سے معیشت کاپہیہ درست سمت میں چلے۔معیشت جامد ہوجائے تو ملازمتیں کہاں سے آئیں گی؟ لوگ مجبوراً سرکاری ملازمتوں کی تلاش میں ہونگے۔ لیکن خیبر پختونخوا میں تویہ راستہ تین سال کے لئے بند ہو گیا ہے۔نہ کوئی ریٹائر ہوگا اور نہ کوئی آسامی خالی ہو گی۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، لیکن یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے سے حکومت کو تین سال کے لئے پنشن کی مد میں تقریباً ساٹھ ارب روپے کی بچت ہوگی جو وقتی طور پر حکومت کے مالی بوجھ کوکم کر دے گی۔

خیبر پختونخوا کے بعد وفاقی حکومت اپنے ملازمین کے لئے ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ایسا ہونا چاہیئے لیکن بلاامتیاز نہیں۔ ریٹائرمنٹ کی عمر کا تعین کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیئے۔ جن ملازمین کا کام اَچھا ہواور جو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ملک کی ترقی اور خوشحالی میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہوں، اُنہیں ترقی ملنی چاہیئے اور اُنکی ریٹائرمنٹ کی عمر بھی بڑھنی چاہیئے اور جو آگے نہیں بڑھ سکتے، معیشت پربو جھ ہیں اُن کو فارغ کر دینا چاہیئے تاکہ نئے اُمیدواراُن کی جگہ لیں۔ اس طرح سزا اور جزا کا نظام بھی قائم ہو جائے گا اور ملازمین میں صحت مند مقابلے کا رجحان بھی جنم لے گا۔ مزید برآں سول سروس میں کئی بنیادی اصلاحات بھی ضروری ہیں تاہم ایسی کسی بھی منصوبہ بندی کے لئے ایک مناسب عرصہ درکار ہوگا ورنہ ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے غلطیوں کا احتمال بڑھنے اور منصوبے ناکام ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

ہمیں ایسے منصوبے چاہییں جن میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور بزرگ تجربہ کار اور محنتی سرکاری ملازمین کے طویل اور قیمتی تجربے سے فائدہ بھی اُٹھایا جائے۔ یہ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ہمتِ مرداں مددِ خدا۔ سب سے بڑی مثال وزارت خارجہ ہے جہاں تیس سال دنیا کے کونے کونے کی خاک چھان کر ایک سفارت کار سفیر بنتاہے۔اس کے مقابلے میں 20سال کا ایک نوجوان جو اختیارات بے پناہ کی غلام گردشوں میں صحیح مقام تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو سفیر بنا دیا جاتا ہے۔اگر کرکٹ کے میچ کے دوران تماشائیوں میں سے کسی کو اُٹھا کر ایک ٹیم کا کپتان بنایا جائے تو میچ جیتنے کے لئے فقط دعاؤں پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے لوگوں میں جوھر نایاب بھی ملتے ہیں جو بطریق احسن اپنے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن ہر ایک جوہر نایاب کہاں ہوتا ہے۔

صوبائی حکومت کے مقابلے میں مرکزی حکومت نے وفاقی ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز وقتی طور پر موخرکردی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ 60سال سے اُوپرملازمت میں توسیع اعلیٰ کارگردگی کی بنیاد پر ہوگی اور ملازمین کی استعداد اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے وقت درکار ہے۔ حکومت نے سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین کی سربراہی میں سول سروس اصلاحات کے لئے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے جس کی مرتب کردہ سفارشات حکومت کے زیر غور ہیں۔سابق گورنر نے اس طرح کی ایک رپورٹ پہلے بھی بنائی تھی جس میں وفاقی ملازمتوں کے مختلف گروپس میں تفاوت مٹانا،سٹاف کی تعداد میں کمی کرنا، سزا و جزا کاکارآمدنظام ترتیب دینا او ر ”لیٹر ل انٹری“ کی تجاویز شامل تھیں۔ جہاں تک ملازمتوں میں ’لیٹرل اِنٹری‘ کا تصور ہے تو یہ ہمارے ہاں نہیں چلتا۔اس نے ماضی میں ملازمتوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔اس سے سفارش اور اقرابا پروری کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور موجودہ ملازمین کی حق تلفی ہوتی ہے۔ سرکاری ملازمین کے سلسلے میں عشرت حسین کے پیش کردہ سفارشات کا جائزہ لینا چاہئے۔

اس طرح کے اصول و ضوابط تو موجودہ نظام میں بھی ہیں لیکن ان پر عمل کون کرائے؟ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ یہ تو جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لگتا تو یہ ہے کہ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔

جیسے موت کا ایک دن معین ہے ایسے سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کا دن بھی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ موت بتا کر نہیں آتی اور ریٹائرمنٹ کا دن، مہینہ اور سال ہر ایک کو معلوم ہوتا ہے۔ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور ہر سرکاری ملازم کو ضروری نہیں کہ ریٹائرمنٹ تک پہنچے۔ کئی لوگ یہ تلخ گھونٹ پینے سے پہلے یا تو راہی ملک عدم ہوجاتے ہیں یا معاش کے فکر سے آزاد ہو جاتے ہیں اور یا راستے میں روک لیے جاتے ہیں۔کئی خوش نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جو سالہاسال سے انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ آ جائے اور وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ وہ صبح اپنی مرضی سے جاگیں اور شام اپنی مرضی سے سو جائیں۔ دن میں وہ جہاں جانا چاہتے ہوں چلے جائیں اور اگر گھر پر پڑے پڑے وقت بسر کریں تو کوئی مسئلہ نہ ہو۔

مزید : رائے /کالم


loading...