افغان امن مذاکرات کی منسوخی، خطرے کی نئی گھنٹی

افغان امن مذاکرات کی منسوخی، خطرے کی نئی گھنٹی
افغان امن مذاکرات کی منسوخی، خطرے کی نئی گھنٹی

  


کیا طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کی وجہ وہی ہے جو امریکی صدر ٹرمپ نے بیان کی ہے؟ کابل میں حملے تو پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، مگر مذاکرات جاری رہے۔ ایسے حملے بھی ہوئے، جن میں سو ڈیڑھ سو افراد لقمہئ اجل بنے لیکن مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔ اب گیارہ افراد کی ہلاکت جن میں ایک امریکی فوجی بھی شامل تھا، کیا انوکھا اور پہلا واقعہ تھا کہ امریکی صدر کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ سنا ہے گیارہ ستمبر کو نائن الیون کی یاد کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کو ایک سرپرائز گفت دینے کا فیصلہ بھی کر رکھا تھا، جسے اب منسوخ کر دیا ہے اور تل ابیب میں طالبان کے ساتھ ہونے والی خصوصی ملاقات بھی اب نہیں ہو گی۔ یہ سب کچھ تو ایک بڑے یوٹرن اور بڑے غصے کو ظاہر کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹس میں طالبان کے خلاف سخت زبان بھی استعمال کی ہے اور یہ تک کہا ہے کہ وہ اپنی قیمت بڑھانے کے لئے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں انہوں نے گیارہ بے گناہوں کی جانیں لیں تاکہ اپنے مطلب کا سودا کر سکیں۔ اپنے ٹویٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف طالبان مذاکرات میں شریک تھے اور دوسری طرف انہوں نے اس دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کی، جو بہت بڑی دو عملی ہے، ان حالات میں صاف لگ رہا ہے کہ جن طالبان سے مذاکرات جاری ہیں، ان کا طالبان گروپوں پر مکمل کنٹرول نہیں اس لئے ان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔

امریکہ نے طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کی بساط لپیٹنے کے لئے جو چارج شیٹ تیار کی ہے، بظاہر وہ بڑی منطقی نظر آتی ہے۔ اب یہ تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں کہ جنگ بندی کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا کہ طالبان حملے روک دیتے، لیکن ایک عام سا اصول ہے کہ جب بات چیت شروع ہو جاتی ہے تو لڑائی روک دی جاتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں ساتھ نہیں چل سکتیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات میں وزن ہے کہ یہ حملہ بارگیننگ پاور میں اضافے کے لئے کیا گیا۔ لیکن اس طریقے سے کوئی باہمی معاہدہ کیسے ترتیب پا سکتا ہے، جب ایک طرف حملے ہو رہے ہوں اور دوسری طرف مذاکرات جاری ہوں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اب مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کیا ہے، تاہم پچھلے ہفتے امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد نے واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان نہیں آئیں گے کیونکہ معاہدے کے بارے میں امریکی صدر کے حکم کا انتظار ہے، غالباً بڑی سوچ بچار کے بعد امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کیا ہے اور یوں اس سارے معاملے میں ایک بڑا ڈیڈ لاک آ گیا ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ابھی ایک دن پہلے چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں ملاقات میں یہ مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے لئے تینوں ملک مشترکہ کوششیں کریں گے۔ لیکن اسی رات امریکی صدر نے یہ بڑا دھماکہ کر دیا۔ اب ان تینوں ممالک کی کوششیں کیا معنی رکھتی ہیں؟ جب امریکہ ہی پیچھے ہٹ گیا ہے، جو اس سارے معاملے کا سب سے بڑا فریق اور اسٹیک ہولڈر ہے۔ بڑی جدوجہد اور طویل کوششوں کے بعد طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے۔ اس کے گیارہ دور ہوئے اور کہا یہ جار ہا تھا کہ دونوں فریق معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور کسی وقت بھی یہ تاریخی معاہد ہو سکتا ہے! کابل کا حملہ اس کے راستے کی دیوار بن جائے گا، یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ لگتا یہی ہے کہ پس پردہ کچھ اور معاملات بھی ہیں، جن کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی منسوخی کا فیصلہ کیا ہے۔ وگرنہ اتنی محنت اور طویل سفارتی کوششوں پر بیک جنبشِ قلم پانی نہیں پھیرا جا سکتا۔

مَیں نے چند روز پہلے ایک کالم لکھا تھا، جس میں کہا تھا کہ جوں جوں افغان امریکہ امن معاہدہ قریب آ رہا ہے، بھارتی قیادت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں کیونکہ پرُ امن افغانستان کسی بھی طرح بھارت کے مفاد میں نہیں۔ پھر طالبان کی اقتدار میں شرکت بھی اسے وارہ نہیں کھاتی، کیونکہ طالبان کا پاکستان کی طرف جھکاؤ واضح ہے۔ کوئی بعید نہیں کہ یہ دھماکہ ”را“ نے کرایا ہو اس کا تیر نشانے پر لگا اور معاہدے تک رسائی نا ممکن ہو گئی۔ کیا ان مذاکرات کی منسوخی میں مودی سرکار کا بھی کوئی کردار ہے اور کیا اس کا کشمیر کی صورت حال سے بھی کوئی تعلق جڑتا ہے۔؟ موجودہ صورت حال میں ان سوالات کو غیر متعلق قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو اعتماد میں نہیں لیا، حالانکہ وہ دورہ امریکہ کے موقع پر افغان مسئلے کے حل میں پاکستانی کردار کی اہمیت کو تسلیم کر چکے ہیں، اس کے بعد بھی انہوں نے ٹیلی فون پر وزیر اعظم عمران خان سے اس موضوع پر گفتگو جاری رکھی۔ پاکستان تو مسلسل کہتا آیا ہے کہ افغان مسئلے کا پرُ امن حل پاکستان کے مفاد میں ہے اور اس میں ہر موقع پر بھرپور کردار ادا کیا جائے گا۔

یہ بھی واضح ہے کہ جب امریکی سفارت خانے کے قریب حملہ ہوا تو پاکستان نے اس کی شدید مذمت کی اور اسے افغان معاہدے کے خلاف سازش قرار دیا۔ یکطرفہ طور پر مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کئی شکوک و شبہات چھوڑ گیا ہے۔ کیا امریکہ نے اپنا منصوبہ تبدیل کر لیا ہے، کیا وہ افغانستان سے انخلا کی اپنی پالیسی تبدیل کر رہا ہے، کیا خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر اس نے افغانستان میں مزید رہنے کی حکمت عملی اپنالی ہے؟ یہ اور ایسے بہت سے سوالات اب جنم لیں گے۔ چاہے کچھ بھی ہو، امریکی صدر کے اس اعلان سے بھارت خوش ہوگا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے ایشو پر اس کی پوری دنیا میں مخالفت ہو رہی ہے۔ افغانستان میں اگر بد امنی جاری رہتی ہے تو کشمیر ایک سنگل فلش پوائنٹ نہیں ہوگا، بلکہ افغانستان کی دہشت گردی اور طالبان کی امریکی فوج سے جنگ دنیا کی توجہ بانٹ دے گی۔ پھر بھارت کا ایک دوسرا مقصد بھی ہے، وہ پاکستانی فوج کو مغربی بارڈر پر مصروف رکھنا چاہتا ہے تاکہ ساری توجہ مشرقی بارڈر پر نہ دے سکے اور کشمیر پر جنگ کی صورت میں اسے دوسرے محاذ پر لڑنا پڑے۔

یاد رہے کہ بھارت کو افغان معاہدے سے بالکل آؤٹ کر دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے ضامنوں میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ گویا اس کی اہمیت ایک خاموش تماشائی جیسی رہ گئی تھی۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ امریکہ نے طالبان سے مذاکرات ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس میں بھارت کا ہاتھ ہے یا نہیں البتہ بالواسطہ طور پر اسے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے خوشی ہوئی ہو گی۔ اب ایک بار پھر پاکستان کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کو بحال کرائے اور ٹوٹا ہوا سلسلہ وہیں سے جوڑے، جہاں یہ اب رک گیا ہے۔ بہت کچھ ان مذاکرات میں طے پا چکا تھا۔ ٹائم فریم، انتخابات، حکومت سازی اور امریکہ کی طرف سے وسائل کی فراہمی وغیرہ، اگر ڈونلڈ ٹرمپ ان سب پر قلم پھیر دیتے ہیں تو معاملہ بہت دور جا پڑے گا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ طالبان کے نمائندوں کو یہ یقین دلانا پڑے گا کہ وہ افغانستان کے تمام طالبان گروپوں کے نمائندہ ہیں، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ الزام بہت اہمیت رکھتا ہے کہ دوران مذاکرات حملے اس امر کو ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان کا افغانستان کے عسکری طالبان گروپوں پر کنٹرول نہیں۔

ظاہر ہے اس کی ضمانت بھی پاکستان کو ہی دینا پڑے گی، کیونکہ پاکستان ہی اس معاملے میں دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کو جنم دے سکتا ہے۔ بہر حال یہ افسوسناک امر ہے کہ لڈو کے کھیل، سانپ اور سیڑھی کی طرح اچھے بھلے اختتام کی طرف بڑھتے بڑھتے پھر آغاز پر آ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ جلد بحال نہ ہوا تو حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔ امریکی آپریشن میں تیزی بھی آ سکتی ہے اور طالبان کی طرف سے حملوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان کے دورہئ امریکہ کے موقع پر کہا تھا کہ افغانستان کو فتح کرنا امریکہ کے لئے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اس میں ایک کروڑ افغان مارے جا سکتے ہیں، اس لئے وہ اس کا پرُ امن حل چاہتے ہیں۔ اب انہوں نے خود ہی پرُ امن حل کی طرف پیش رفت کو روک دیا ہے۔ اس کے خطے کے امن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔؟ اس تشویشناک سوال کا جواب شاید ابھی کوئی بھی نہ دے سکے۔

مزید : رائے /کالم


loading...