ہم آخری حد تک جائیں گے!

ہم آخری حد تک جائیں گے!
ہم آخری حد تک جائیں گے!

  


حکومت اور فوج کا بیانیہ یہ ہے کہ ہم کشمیر کے تنازعے کے حل کے لئے آخری حد تک جائیں گے…… یہ آخری حد کیا ہے اس کی تعریف (Definition) کسی بھی سیاسی شخصیت یا فوج نے نہیں کی۔ ویسے اس کی تشریح کا اجتماعی اور عمومی مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ پاکستان کے پاس جو جوہری اسلحہ جات ہیں ان کے استعمال سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن کیا ان ہتھیاروں کا استعمال قابلِ عمل بھی ہے یا نہیں، اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جوہری بم کی ایجاد نے آنے والی کسی بھی فیصلہ کن جنگ کا خاتمہ کر دیا تھا۔ 9اگست 1945ء کو جاپان کے دوسرے شہر ناگاساکی پر جو حملہ کیا گیا تھا وہ آخری جوہری حملہ تھا۔ اس کے بعد آج تک کے 74برسوں (1945ء تا 2019ء) میں متعدد خونریز جنگیں ہوئیں لیکن اس بم کو استعمال کرنے کے نوبت نہ آئی۔

دنیا بھر کی افواج اس کو ایک ڈراوا (Deterrent) تو مانتی ہیں لیکن اس کے استعمال کا جب سوچتی ہیں تو خدا یاد آ جاتا ہے۔ سوویت یونین جو 1990ء تک دنیا کی دوسری سپرپاور بنا رہا، ایک لادین معاشرہ تھا لیکن وہ بھی اس ہتھیار کے استعمال سے لرزاں و ترساں رہا۔ روائتی جنگیں ہوتی رہیں لیکن کسی بھی دو جوہری قوتوں کا آپس میں براہِ راست ٹکراؤ نہ ہوا۔ اب پاکستان اور انڈیا جنہوں نے قبل ازیں چار روائتی جنگیں لڑی ہیں پانچویں روائتی جنگ لڑنے سے گریزاں ہیں۔ راقم السطور نے 5اگست کے بعد سے لے کر آج تک جتنے بھی کالم کشمیر کی صورتِ حال پر لکھے ہیں ان میں استدلال کیا ہے کہ مستقبل قریب یا بعید میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہو گی۔ دونوں فریق ”آخری حد“ تک جانے کی دھمکیاں تو ضرور دیں گے لیکن دونوں کو معلوم ہے کہ ان کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا۔

پاک فوج، جوہری بم کی کسٹوڈین ضرور ہے۔ لیکن آخری فیصلہ تو سویلین حکومت نے کرنا ہے۔ اگر جنگ شروع ہوئی تو یہ ذمہ داری فوج کی ہے کہ وہ اپنے سویلین کمانڈر (وزیراعظم) کو یہ بتائے کہ یہ بم کب گودام سے نکالنا اور کب فائر کرنا ہے۔ یہ فیصلہ الل ٹپ اور اضطراری نوعیت کا نہیں ہو گا بلکہ نہائت غور و فکر کے بعد فوج اور حکومت کو مل کر یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ یہ خودکش اقدام کب اٹھانا ہے۔ پاکستان نے جو نیشنل کمانڈ اتھارٹی اور آرمی سٹرٹیجک فورسز کمانڈ قائم کر رکھی ہیں ان کی ذمہ داری نہائت بھاری اوراہم ہے۔ مثلاً اسے درج ذیل منظر ناموں (Scenerios) پر غور کرنا ہو گا:

1۔اپنی اور دشمن کی بربادیوں کا سکیل کیا ہوگا؟

2۔انڈیا کے ساتھ روائتی جنگ کے نتائج کیا مرتب ہو رہے ہیں؟

3۔ہم نے جوہری بم داغنے میں پہل کرنی ہے یا دشمن کے جوہری حملے کا انتظار کرکے سیکنڈ سٹرائیک اہلیت (Capability) کی طرف جانا ہے۔

4۔ جوہری وارہیڈز کو فائرنگ سے پہلے فعال کرنے کی ایک طویل ایکسرسائز درکار ہوتی ہے، اس کا آغاز کب کرنا ہے؟

5۔فائرنگ اور لانچنگ پیڈ کہاں کہاں ہوں گے؟

6۔ ان کے اہداف کیا کیا ہوں گے؟…… کیا یہ اہداف صرف ملٹری اہداف ہوں گے یا سٹرٹیجک سویلین اہداف کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

7۔ان اہداف پر جوہری حملہ کس شدت کا ہو گا؟ اور چونکہ دونوں ممالک کے مابین کوئی وسیع و عریض ’نومین لینڈ‘ نہیں اس لئے کم سے کم محفوظ ترین فاصلہ کیا ہو گا جس کے مابعدِ حملہ اثرات خود پاکستانی علاقے پر پڑیں گے؟

8۔ائر، آرمر اور آرٹلری کی ضائعات (Losses) کا کس وقت اور حد تک انتظار کیا جائے گا؟

9۔سویلین انسانی ضائعات کی طرف بھی کوئی توجہ دی جائے گی یا ایسا کرنا ”جوہری جنگی ماحول“ میں ناممکن ہو جائے گا؟

10۔اس مجوزہ اور ممکنہ جوہری جنگ میں تیسرا خارجی فریق کون ہو گا اور کس کی طرف سے شریکِ آپریشنز ہو گا؟

یہ سارے سنریوز اور سوالات نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے زیرِ غور رہے ہوں گے اور اربابِِ اختیار کو ان پر تفصیلی بریفنگ بھی دی جائے گی۔میری معلومات کے مطابق وزیراعظم کو اب تک ان تفصیلات و جزئیات کی بریفنگ نہیں دی گئی۔ یہ ایک وقت طلب (Time Consuming) ایکسرسائز ہے اور عمران خان کو اپنے منصب کی دوسری سیاسی اور انتظامی ذمہ داریوں کے انباروں ہی سے فرصت نہیں ملتی کہ وہ اس خارزار میں قدم رکھیں۔ اس لئے میں نے کئی بار سوچا ہے کہ انہوں نے کشمیر کے مسئلے پر ’آخری حد‘ تک جانے کا جو آموختہ یاد کیاہوا ہے اس کے نشیب و فراز کا بھی انہوں نے کوئی جائزہ لیا ہے یا نہیں۔ جنگی وعظ (War rhetoric) ایک بات ہے لیکن اصلی جوہری جنگ کی طرف جانا اگر اتنا ہی آسان ہوتا تو امریکی صدر ٹرمپ جیسا سیماب صفت لیڈر جس کے جوہری ترکش میں دوسرے لاتعداد اسلحہ جات کے علاوہ 8،10ہزار جوہری بم بھی ہیں،اب تک شمالی کوریا اور ایران پر یہ قیامت وارد کر چکا ہوتا۔ اگر نہیں کی تو اس کے اسباب جاننے کے لئے پاکستان اور انڈیا کی لیڈرشپ کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس حد تک جانے کی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔

میرے ذہن میں پاک بھارت جنگ کا جو سنریو ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں پہلے ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے، ائر اور میزائلوں کا استعمال کریں گے اور سابقہ روائتی جنگوں کی طرز پر ایک دوسرے سے زور آزمائی کریں گے۔ مثل مشہور ہے کہ ہر جنگ، گزشتہ جنگ کے طریقِ جنگ سے شروع ہوتی ہے کیونکہ فریقینِ جنگ کی ٹریننگ مستقبل کی جنگ کے لئے نہیں کی جاتی، انڈیا اور پاکستان کے پاس جو انسانی لڑاکا فورس ہے (آرمی، نیوی، ائر فورس) اس کی ساری تربیت سابق جنگ (یا جنگوں) کی Footingsپر استوار ہے۔ دونوں کے پاس جو اسلحہ جات ہیں ان کا علم دونوں فریقیوں کو ہے اور دونوں انہی اسلحہ جات کو سامنے رکھ کر جنگی تیاریاں کرتے رہے ہیں۔ جوہری اسلحہ، ایک نیا عنصر ہے۔ اس کا تذکرہ فوج کے تدریسی اداروں میں ایک عرصے سے ہو رہا ہے۔ آرمی کے سکول آف انفنٹری سے لے کر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی تک کے نصابوں میں نیوکلیئر، بیالوجیکل اور کیمیکل (NBC) وارفیئر کا ایک باب بھی شامل ہے۔ یہ باب 1950ء کے بعد سے لے کر اب تک مسلسل فوجی افسروں کو پڑھایا جا رہا ہے لیکن اس کی صرف تھیوری پڑھائی اور بتائی جاتی ہے، پریکٹس اور عملی ایکسرسائزوں کو’ہاتھ‘ نہیں لگایا جاتا۔ جوہری حملوں کی چھاؤں میں جو ماحول تخلیق ہو گا، اس کا ذکر تو کیا جاتا ہے لیکن اس کے لئے 6اگست اور 9اگست 1945ء کو جو حملے جاپان کے شہروں پر کئے گئے تھے ان کی صرف تفصیلات ہی بتا دی جاتی ہیں۔ اس سے آگے کچھ نہیں بتایا جاتا اور نہ کسی کو ان کا تجربہ ہے۔

فرض کریں انڈیا اگر جوہری حملے میں پہل کرتا ہے اور ہمارے فوجیوں کو اس سے بچاؤ کی کوئی خاص ٹریننگ نہیں۔ کیا اس سے بچاؤ کے لئے زیر زمین خندقیں کھودی جائیں گی، کیا کوئی خاص قسم کا لباس (یونیفارم) پہنا جائے گا، کیا فوج نے اینٹی نیوکلیئر وارفیئر کے لئے کوئی سپیشل ماسک بنائے ہوئے ہیں یا ان کو یونٹوں میں ایشو کیا ہوا ہے، کیا شدید تابکاری سے بچنے کے لئے کوئی خصوصی ساز و سامان (Equipment) پاک فوج کے پاس ہے اور اگر ہے تو کن کن یونٹوں کے پاس ہے اور کیا دشمن انہی یونٹوں پر حملہ کرے گا؟…… اس جوہری ماحولِ جنگ میں تو ٹرانسپورٹ سے لے کر سولجر کے ذاتی اسلحہ جات تک کی سپیشل اقسام تیار کی جاتی ہیں۔ وارسا پیکٹ اور ناٹو نے عشروں تک اس مہنگے سامانِ جنگ کو بنایا، اپنے ہزاروں سولجرز کو ان پر Train کیا اور باقاعدہ جنگی مشقیں کیں۔ لیکن آخر میں یہ نتیجہ نکالا کہ جوہری حملے سے کسی کو مفر نہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ ’آخری حدوں‘ تک جانے کا مطلب فوج کے ہاں کچھ اور ہے اور سویلین کے ہاں اس کا مفہوم بالکل مختلف ہے۔ ویسے تو جنرل مشرف نے بھی اپنے جوہری اسلحہ جات کو شبراتی پٹاخوں اور شُرلیوں کے حوالے سے یاد کیا تھا لیکن انہوں نے شائد شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کر ایسا کہا ہوگا وگرنہ ان کو معلوم ہے کہ نیوکلیئر وارفیئر کا کیف و کم کیا ہوتا ہے۔ لیکن یہ جو ہمارے شیخ رشید صاحب آئے روز شب برات کو یاد کرتے رہتے ہیں، ان کو ملٹری ہسٹری کا وہ باب ضرور پڑھنا چاہیے جو جوہری جنگ و جدل پر لکھی گئی درجنوں کتابوں میں موجود ہے۔ عامتہ الناس کو انفارم اور ایجوکیٹ کرنے کا وہ طریقہ جو شیخ صاحب کے کینڈے کے سیاستدان کو بتانا چاہیے وہ اپنی مجوزہ حدود سے باہر نکل نکل جاتا ہے۔ پاکستان کے عوام کے مورال کو اونچا کرنے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے اور بھی کئی طریقے ہیں۔ ہر بار جوہری قرولی دکھا کر داد وصول کرنا ایک آدھ بار تو ٹھیک ہے، بار بار اس کا اعادہ، میاں کھوجی کی یاد دلاتا ہے!

مزید : رائے /کالم


loading...