پنجاب پولیس محافظ کی بجائے خوف کی علامت بن گئی

پنجاب پولیس محافظ کی بجائے خوف کی علامت بن گئی
پنجاب پولیس محافظ کی بجائے خوف کی علامت بن گئی

  


یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم کسی صورت پولیس تشددکی حمایت نہیں کر سکتے۔ہم جب کسی ظلم کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ جہاں ظلم ہوا وہاں کے معاشرے کا مجموعی رویہ یا کلچر کیا ہے کیونکہ پولیس سے لے کر سیاسی قیادت تک اسی معاشرے سے منتخب کی جاتی ہے۔ ہمارا معاشرہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ کراچی میں چوری کرنے والے چودہ سالہ ریحان شہریوں کے ہاتھوں مارا گیا، چند برس قبل سیالکوٹ میں دو بھائی جس طرح وحشی ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے، یوحنا آباد لاہور میں شہریوں نے 3 لڑکوں کو زندہ جلا دیا، شیخوپورہ میں جیب کترے فیصل کو عوام نے ہی ڈنڈے مار مار کر قتل کیا، پشاور کی یونیورسٹی میں مشعال خان کو پڑھے لکھے نوجوانوں نے جس طرح قتل کیا اس کا کرب اس کی ماں کے اس جملہ میں پنہا ہے کہ:میں اپنے بیٹے کا ہاتھ کیسے چومتی کہ اس ہاتھ کی سبھی انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں،گوجرانوالہ میں سعید نامی شخص کو محض کیلے چوری کرنے کے الزام میں مار مار کر قتل کر دیا گیا۔ ایسی درجنوں مثالیں پاکستان کے ہر قابل ذکر شہر میں موجود ہیں جوسنتے ہی کئی ہفتے تک نیند اڑا دیتی ہیں۔ معاشرے میں یہی پارسا لوگ لڑکی سے تعلقات کے شبہ میں خود ہی عدالت لگا کر نوجوان کے بال، بھنویں مونڈ کر اورمنہ کالا کر کے انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں۔ کھیتوں سے گزرنے پر معصوم بچوں پر کتے چھوڑ دینے والے بھی یہیں بستے ہیں۔ معذرت چاہتا ہوں لیکن مجھے کہنے کی اجازت دیجئے کہ ہم درندوں کے معاشرے میں بستے ہیں اور یہ درندے ان پولیس والوں سے زیادہ وحشی ہیں جن کی زیر حراست کوئی ملزم ہلاک ہوا۔ ایک ویڈیو بہت وائرل ہوئی جس میں صلاح الدین پوچھتا ہے کہ مارو گے نہیں تو ایک سوال کروں؟ آپ نے مارنا کس سے سیکھا ہے؟اگر وہ معصوم زندہ ہوتا تو میں اسے بتاتا کہ ان لوگوں نے مارنا اسی وحشی معاشرے سے سیکھا ہے کیونکہ ان کو اسی معاشرے سے بھرتی کیا گیا ہے۔ہم نے صلاح الدین کیس میں پولیس پر بہت سوال اٹھائے ہیں لیکن کسی ایک دانشور نے بھی یہ سوال نہیں اٹھایا کہ صلاح الدین کو پولیس کے حوالے کرنے سے پہلے کوفہ مزاج کے جو مہذب اور پارسالوگ بنک کے باہر اس پر تشدد کر رہے تھے وہ سب کیا تھا؟ صلاح الدین کیس میں ہسپتال کے بورڈ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس کی ہلاکت تشدد سے نہیں ہوئی۔ صلاح الدین کی جنازے سے قبل کی جو تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں وہ پوسٹ مارٹم کے دوران کی گئی سرجری اور لیبارٹری کوبھجوانے کے مقصد سے لئے گئے نمونوں کی ہے۔ یہ تصاویر اس کی وفات کے کافی بعد کی ہیں اور یقینا ہم سب جانتے ہیں کہ جب انسان وفات پا جائے تو اس کا جسم نہ صرف پھولنے لگتا ہے بلکہ جلد خراب ہونے کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق یہ تصاویر اسی حالت کی ہیں۔ یہ تھرڈ پارٹی آڈٹ ہے کیونکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس نہیں بناتی اور کوئی ڈاکٹر کسی پھنس جانے والے پولیس افسر کی خاطر اپنی نوکری داؤ پر نہیں لگاتا۔ یہ طے ہے کہ ہم ایسے وحثی معاشرے میں رہتے ہیں جہاں شہریوں کے ہاتھ کوئی چور یا ڈاکو لگ جائے تو وہ اسے شاہراہ پر ہی مار مارکر قتل کر دیتے ہیں یا پھر پیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیتے ہیں۔ یہی لوگ پولیس حراست میں کسی ہلاکت پر آنسو بہاتے ہیں تو سوچتا ہوں کیا یہ آنسو مظلوم مقتول کے لئے بہائے جا رہے ہیں یا پھر انہیں دکھ ہے کہ وہ خود اسے نہ مار سکے؟ سچ کہوں تو یہ محض ریٹنگ گیم کا کھیل چل رہا ہے۔ مجھے اس معاشرے سے امید نہیں لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ دو لاکھ کے قریب پنجاب پولیس میں سے اگر دس پندرہ افراد کسی کے قتل میں ملوث ہیں تو ان قاتلوں کی وجہ سے پوری فورس کو قاتل نہیں کہا جا سکتا۔ ہم بے گناہ اور قاتل کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانک سکتے۔ اس کے باوجود یہ چند کالی بھیڑیں ٹیسٹ کیس ہیں۔ میں نے اس بارے میں معلومات اکٹھی کیں تو معلوم ہوا کہ پولیس فورس میں بھی ان کی حمایت نہیں کی جا رہی۔ موجودہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اور لاہور پو لیس کے سر براہ بی اے ناصر صوبے کے اب تک کے واحد پولیس آفیسر ہیں جن کا اس حوالے سے باقاعدہ ویڈیو میسج جاری ہوا کہ اختیارات کے غلط استعمال کے مرتکب پولیس ملازمین کے خلاف سخت کاروائی ہو گی۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ پانچ برس تک خیبرپختونخوا میں اپنی حکومت کے دوران اس نے پولیس کلچر تبدیل کر دیا اور پولیس کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں قانونی راستہ اختیار کرنے میں آزاد چھوڑ دیا۔تحریک انصاف نے اپنے اس کارنامے کا اس حد تک چرچا کیا کہ جب اْسے وفاق اور پنجاب کی حکومت ملی تو اس نے خیبرپختونخوا کے اسی افسر کو پنجاب کا کلچر تبدیل کرنے کا کام بھی سونپا،لیکن ایک ہی مہینے میں یہ صاحب استعفا دے کر گھر چلے گئے،کیونکہ پنجاب میں اوپر سے نیچے تک ہر کوئی اْن کے کام میں رکاوٹ ڈال رہا تھا،اس لئے انہوں نے اپنا ”مشن“ ادھورا ہی چھوڑ دیا، پاکپتن کا واقعہ بھی اسی دوران پیش آیا جب ایک افسر کو آدھی رات کے وقت تبدیلی کے آرڈر تھما دیئے گئے اور ایک ”اجنبی“ وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھ کر ان پولیس افسروں کو ”احکامات“ جاری کرتا رہا،ان حالات میں کسی ایک شخص کی موت یا حادثے پر فوری طور پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی نہیں،بلکہ مجموعی طور پر پنجاب کا پولیس کلچر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔اگر عثمان بزدار صاحب یہ کر سکتے ہیں تو انہیں آگے بڑھ کر اس کا بیڑہ اٹھانا چاہئے، ویسے بھی اْنہیں بڑی توقعات کے ساتھ پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا، اب اْن کی آزمائش ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کر جائیں جو اْن کی یاد اْن کے جانے کے بعد دلاتا رہے، تھانوں میں بندے مارنے کا کام تو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے اور یہ ذمے داری آئی جی کی ہے،انہوں نے تھانے میں سی سی ٹی وی کیمرے تو لگوا دیئے،لیکن جو نجی عقوبت خانے ہیں اْن کا خاتمہ کون کرے گا؟

مزید : رائے /کالم


loading...