تشدد واقعات میں ملوث پولیس افسر،اہلکار کسی رعائیت کے مسحق نہیں:آئی جی پنجاب

تشدد واقعات میں ملوث پولیس افسر،اہلکار کسی رعائیت کے مسحق نہیں:آئی جی پنجاب

لاہور(کرائم رپورٹر) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے کہا ہے کہ شہریوں پر تشدد کے واقعات میں ملوث افسران واہلکار کسی رعائیت کے مستحق نہیں اور اختیارات سے تجاوز کے مرتکب غیر ذمہ دارافسران واہلکارکے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے تاکہ ایسی کالی بھیڑوں کو سخت سے سخت سزا دے کر باقی فورس کو پیغام دیا جا سکے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ آئندہ کسی بھی ضلع سے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی، پرائیویٹ لاک اپ بنانے یازیر حراست ملزمان کے ساتھ تشدد کا واقعہ سامنے آیا تو سرکل افسران کے ساتھ ساتھ سینئر افسران کو بھی جواب دہ ہونا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وہاڑی میں خاتون پر تشدد کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے افسران کو ہدایات دیتے ہوئے کیا۔آئی جی پنجاب کے نوٹس پر آرپی او ملتان وسیم احمد خان نے ہفتے کی رات وہاڑی کے علاقے لڈن میں پولیس کی جانب سے تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کے گھر دورہ کیا اورمتاثرہ خاتون کو ہر ممکن تعاون اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کی یقین دہا نی کروائی جس کے بعد ایس پی انویسٹی گیشن وہاڑی کی سربراہی میں بننے والی ٹیم نے متاثرہ خاتون ظہور الہٰی کے بیان پر ایف آئی آر درج کر لی ہے اور پولیس ٹیم نے ریڈ کرتے ہوئے تیرہ ملزمان سے آٹھ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جن میں ڈی ایس پی، ایس ایچ او، انچارج سی آئی اے، انچارج آئی ٹی، محررسمیت تین دیگر افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ بقیہ افراد کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے ایس ڈی پی او صدر،وہاڑی طارق پرویز کو غیر ذمہ دارانہ رویہ اور نا اہلی کے الزامات پر معطل کرتے ہوئے فوری طور پر سنٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کے احکاما ت بھی جاری کر دئیے ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...