صدر ٹرمپ کا بڑا یوٹرن،طالبان،امریکہ مذاکرات منسوخ،معاہدہ معطل،افغان صدر اور طالبان کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ ملاقات بھی ختم کر دی

صدر ٹرمپ کا بڑا یوٹرن،طالبان،امریکہ مذاکرات منسوخ،معاہدہ معطل،افغان صدر ...

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ، نیوز ایجنسیاں) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شام اچانک یہ ڈرامائی انکشاف کیا کہ انہوں نے اتوار کے روز طالبان لیڈروں اور افغان صدر اشرف غنی کو امریکہ بلا کر ان کے ساتھ خفیہ مذاکرات کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جسے انہوں نے اب منسوخ کر دیا ہے اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کو بھی  منسوخ کردیا ہے۔ اپنے متعددٹویٹس پیغامات میں انہوں نے بتایا کہ میری لینڈ ریاست کے شہر کیمپ ڈیوڈ میں صدارتی تفریح گاہ میں ہونے والے مذاکرات کو انہوں نے اس وقت منسوخ کیا جب طالبان نے کابل میں ہونے والے ایک بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ایک امریکی فوجی سمیت بارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ہفتے کی شب تمام اہم امریکی میڈیا نے صدر ٹرمپ کے پیغامات کے حوالے سے یہ خبر نشر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے دوحہ میں طالبان کے ساتھ طویل مذاکرات کے نو دور ہونے کے بعد طے ہونے والے معاہدے کو بھی معطل کر دیا ہے جس کے بارے میں اطلاع تھی کہ اس پر واشنگٹن میں دستخط کرنے کی تقریب ہونی تھی جس پر تمام اتفاق ہونے کے بعد امریکی نمائندوں کے ساتھ ساتھ افغان لیڈروں نے بھی شرکت کرنی تھی۔ طالبان لیڈروں کو امریکی سرزمین پر آنے کی دعوت دینا ایک ایسا اقدام تھا اور ایک ایسی اہم پیش رفت تھی جس کی افغانستان کی طویل جنگ کے دوران مثال نہیں ملتی اور یہ ملاقات نائن الیون کو دہشت گرد حملے کی برسی سے چند روز پہلے ہونے والی تھی۔ قبل ازیں گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان سے ہزاروں فوجیوں کو واپس بلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جبکہ کم از کم وقتی طور پر وہاں 8600 امریکی فوجی موجود رہیں گے۔ صدر ٹرمپ کے پیغام کے مطابق افغان لیڈروں نے پہلے پروگرام کے مطابق ہفتے کے روز امریکہ کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ سی این این ٹی وی چینل کے فوجی تجزیہ کار ریٹائرڈ نیوی ایڈمرل جان کرجی نے جو محکمہ خارجہ اور پنٹا گون کے ترجمان رہ چکے ہیں اس خبر کو چونکا دینے والی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے طالبان کو جائز حیثیت کا دعویٰ کرنے کا موقع ملے گا جس کے وہ اس مرحلے پر حقدار نہیں ہیں کہ وہ صدر سے براہ راست مذاکرات کو اپنے زبردست پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی فتح قرار دیں اور یقیناً اس طرح وہ افغان حکومت اور افغان صدر اشرف غنی کو ایک طمانچہ رسید کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے طالبان لیڈروں پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ شاید ان کی سوچ ہو گی کہ ایسے حملوں کے ذریعے وہ مذاکرات کی میز پر اپنی پوزیشن بہتر کر لیں گے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ پیغام میں مزید لکھا ہے کہ کس طرح کے یہ لوگ ہیں جو اپنی سودے بازی کی حیثیت کو مضبوط بنانے کیلئے اتنے لوگوں کو ہلاک کر سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ان کی حیثیت مضبوط نہیں بلکہ خراب ہوئی ہے۔ اس دوران سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان حکومت نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے مذاکرات کی تنسیخ کی ذمہ داری طالبان پر ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کا افغانوں کے خلاف تشدد بڑھانے کا ڈھیٹ پن امن مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے اپنا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں حقیقی امن اس وقت ہی قائم ہو گا جب وہ افغانوں کو ہلاک کرنا ترک کر دیں گے۔ انہیں جنگ بندی اور افغان حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات بھی کرنا ہوں گے۔ کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ کی طرف سے افغان صدر اور طالبان سے خفیہ ملاقات منسوخ کرنے کے چند گھنٹے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے طالبان کو امریکہ مدعو کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ این بی سی ٹی وی کے پروگرام میٹ دی پریس کے میزبان چک ٹوڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ایک مناسب فیصلہ تھا کہ طالبان کو کیمپ ڈیوڈ جیسے تاریخی اہمیت کے مقام پر مدعو کیا جاتا۔ افغان امن عمل پر بحث کے دوران صدر ٹرمپ نے بالآخر انہیں آگاہ کیا کہ میں صدر غنی سے بات کرنا چاہتا ہوں ان کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح ہمیں ان سے براہ راست وعدہ مل سکے گا جس کے نتیجے میں ایک متفقہ حکومت وجود میں آ سکے گی تو اس طرح ہمیں اعتماد حاصل ہو سکے گا کہ دونوں اطراف کے افغان لیڈر اپنے عہد کو نبھائیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ نے فوکس نیوز کے پروگرام میں بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا اور دوسرے ٹی وی چینلوں کو بھی اس موضوع پر ایسے ہی جوابات دیئے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ اگر افغان امن سمجھوتے پر دستخط افغانستان کی بجائے امریکہ میں ہوں تو یقیناً معاہدے کی وقعت میں اضافہ ہو گا۔۔دوسری طرف  افغان طالبان نے امریکی صدر کی جانب سے امن مذاکرات منسوخ کر نے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تھے، معاہدے پر دستخط کی تاریخ 23ستمبر طے تھی، مذاکرات  منسوخ کر نے سے سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا، اس پر اعتبار نہیں رہے گا، ہم اب بھی مفاہمت کی پالیسی کے موقف پر قائم ہیں،یقین ہے امریکہ دوبارہ مذاکرات کا راستہ اپنائیگا۔مذاکرات جاری رکھنے سے طالبان نے دنیا پرثابت کر دیا کہ لڑائی ان پر زبردستی تھونپی گئی ہے اور یہ کہ لڑائی کو سیاسی عمل سے ختم کر نے کا معاملہ ہو تو طالبان اپنے اس موقف پر قائم ہیں۔ معاہد ے کے اعلان سے پہلے کابل میں ایک دھماکے کی بنیاد پر مذاکراتی عمل روکنا غیر منطقی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔بیان میں کہاگیاکہ کابل میں دھماکے سے پہلے امریکی اور ان کے حمایتی افغان سکیورٹی فورسز نے بہت سے حملوں میں سینکڑوں افغانوں کو شہید کیا۔صدر ٹرمپ کی جانب سے زلمے خلیل زاد کے ذریعے طالبان کو اگست مہینے کے آخر میں امریکہ کے دورے کی دعوت دی گئی تھی لیکن طالبان نے معاہدے پر دستخط تک یہ دعوت معطل رکھی تھی۔طالبان کی غیر متزلزل اور پختہ موقف ہے کہ ہم نے پہلے بھی مفاہمت کی بات کی تھی اور آج بھی اس موقف پر قائم ہیں، ہمیں یقین ہے کہ امریکہ بھی دوبارہ مذاکرات کا راستہ اپنائیگا۔  جبکہ افغان صدر اشرف غنی  نے     امن کے حوالے سے اپنے اتحادیوں کی مخلص کوششوں کو سراہا   تے ہوئے کہا ہے کہ اصل امن تب ہوگا جب طالبان جنگ بندی کے لیے راضی ہوں گے۔ اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کے اعلان کے بعد افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے، امن کے حوالے سے افغان حکومت اپنے اتحادیوں کی مخلص کوششوں کو سراہتا ہے اور امریکہ اور دوسرے دوست ممالک کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں  نے کہا کہ اصل معنوں میں امن صرف تب ممکن ہے جب طالبان دہشت گردی روک کر حکومت کے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں۔اشرف غنی کی انتظامیہ کے افسران نے کہا ہے کہ اصل امن تب آئے گا جب طالبان جنگ بندی کے لیے راضی ہوں گے۔امریکی صدر کی افغان طالبان کے ساتھ ملاقات منسوخی پر دفتر خارجہ نے درعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان طالبان کے ساتھ ملاقات منسوخی کا علم ہوا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ تشدد کی مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ تمام فریقین کو امن عمل جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان افغان امن عمل میں نیک نیتی سے سہولت کاری فراہم کر رہا ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تمام فریقین کو مخلصانہ اور صبر کے ساتھ ا?گے بڑھنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ پاکستان امن عمل میں ہونے والے پیش رفت کو مانیٹرکرتا رہیگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اصولی موقف پر قائم ہے کہ افغان مسئلہ کا حل فوجی نہیں ہے، ترجمان پاکستان فریقین پر جاری سیاسی عمل کے ذریعے امن عمل کو ا?گے بڑھانے پر زور دیتا ہے۔ پاکستان جلد مذاکرات کی بحالی اور رابطوں کے لیے پرامید ہے۔

 مذاکرات منسوخ

مزید : صفحہ اول


loading...