سینیٹ میں جانیوالا ہر بل رک جاتا اسلئے صدارتی آرڈیننس لانا پڑتا ہے:اسد قیصر

سینیٹ میں جانیوالا ہر بل رک جاتا اسلئے صدارتی آرڈیننس لانا پڑتا ہے:اسد قیصر

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصر نے کہا کہ قانون سازی کے معاملے پر سینٹ سے مسئلہ آرہا ہے  چیئرمین سینیٹ کو اپنے ارکان سے بات کرنے چاہیے ایسا نہ ہو ڈیڈ لاک آجائے جو بل سینیٹ جاتا ہے رک کر رہ جاتا ہے آرڈینینس جاری ہونے کی اصل وجہ بھی یہی ہے،وزیر قانون کو نیب کی مجوزہ ترامیم پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ اتفاق رائے کی کوشش کرے تاکہ سینیٹ میں آسانی سے منظور ہو جائے۔انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے مشترکہ کمیٹی کو اپنا کام موثر انداز میں کرنا چاہیے۔ اتوار کی شب ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سپیکراسد قیصر نے کہاکہ پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر کلیدی کردارادا کررہی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بڑھ گئی ہیں، پلوامہ سمیت کشمیر کے خصوصی سٹیٹس کو ختم کرنے کے خلاف پوری پارلیمنٹ ایک نظر آئی اور متفقہ قرارداد منظور ہوئی۔ اہم ممالک کے سپیکرز کو خطوط لکھے۔ عمان، افغان وفود سے ملاقات ہوئی، مالدیپ  میں ڈپٹی سپیکر کو اہم کامیابی ملی پارلیمنٹ  نے ہر سطح پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے۔ جلد ترک، ملائیشیاء، ایران کے پارلیمان میں مسئلہ کشمیر  پر قراردادیں منظور ہوں گی۔ پاکستانی سفارتکاری  کو تیز کررہے ہیں کوشش کررہے ہیں دونوں امریکی ایوانوں  کے سپیکر چیئرمین سے اکتوبر میں ملاقات ہو، وزارت خارجہ سے  رابطہ کیا گیا ہے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں گے۔ ہر پارلیمانی کانفرنس میں مسئلے کو اٹھایا جائے گا، بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھارہے ہیں۔ سفارتکاری کے حوالے سے موثر لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سفارت کاروں مستقل مشنز کو متحرک کیا جائے گا، تمام جماعتوں کے مسئلہ کشمیر پر عبور اور ادراک رکھنے والے ارکان کو بیرون ملک بجھوایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ رانا ثناء اللہ کیلئے پروڈکشن آرڈر کے بارے میں وزارت قانون سے رائے مانگی  ہے  میں نے سب سے زیادہ پروڈکشن آرڈر جاری کیے، کسی کی پروا کئے بغیر آزادانہ  یہ فیصلے کیے،آئندہ بھی آزادانہ  حیثیت سے فیصلے  کروں گا۔ اسد قیصر نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی تقرری کا معاملہ مسئلہ عدالتی بن گیا ہے۔ عدالت جو فیصلہ کرے گی سب کیلئے قابل قبول ہوگا۔ عدالتی معاملے پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔قانون سازی سے متعلق سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایک سال میں ناکامی کامیابی کا تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ ہمیں سینٹ سے مسئلہ آرہا ہے ایوان بالا میں منظور نہیں ہوہے ہیں۔ بعض بلز کمیٹیاں مسترد کررہی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کو ارکان کی اکثریت پسند کرتی ہے، اس لئے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے، چیئرمین سینیٹ سے قانون سازی کے معاملے پر بات کروں گا کہ وہ اپنے ارکان سے بات کریں ایسا نہ ہوکہ ڈیڈ لاک آجائے، کیونکہ وہاں ہر جانے والا بل  رک جاتا ہے، حکومت بہت زیادہ قانون سازی کرنا چاہتی ہے، اصل پریشانی سینیٹ کی وجہ سے ہے۔ آرڈیننس جاری ہونے کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ مسئلہ کے حل کے لئے میں نے سینئر ارکان کی کمیٹی بنا دی ہے،200پرائیویٹ ممبر بلز آئیں گے اور آئندہ پرائیویٹ ممبرز ڈے پر یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ یہ سال قانون سازی کا سال ہوگا سینیٹ جانے ان کا کام۔نیب قانون میں سقم ہوسکتا ہے بہتری کی گنجائش کیلئے ترامیم آسکتیں ہیں مگر موثر احتساب کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیے اور یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ کسی کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وزیر قانون کو نیب کی مجوزہ ترامیم پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ اتفاق رائے کی کوشش کرے تاکہ سینیٹ  میں آسانی سے منظور ہو جائے۔ 

 اسد قیصر

مزید : صفحہ اول


loading...