زرعی منصوبے کے حوالے سے قطر کے نمائندوں اور حماس کے درمیان اختلافات

زرعی منصوبے کے حوالے سے قطر کے نمائندوں اور حماس کے درمیان اختلافات

دوحہ (این این آئی)قطر کی جانب سے اسرائیل کے ذریعے حاصل ہونے والی بجلی کے بل کا ایک حصہ ادا کرنے کے باوجود غزہ پتی میں قطر کے حماس تنظیم کے ساتھ تعلق پر کشیدگی چھائی ہوئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق قطری سفیر محمد العمادی کا حماس کی قیادت کے ساتھ اختلاف ایک تجارتی زرعی منصوبے پر ہے۔ قطر نے منصوبے کی فنڈنگ اس شرط پر کی تھی کہ اس کی آمدنی دوحہ کو جائے گی اور اس کے مقابل منصوبے میں سیکڑوں فلسطینیوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔اس اختلاف کی خبر غزہ میں پھیل جانے کے بعد اسرائیلیوں تک بھی پہنچ گئی۔بیرگر کے مطابق اختلاف کی وجہ قطری سفیر العمادی کا سبزیوں کے فارم کا منصوبہ منسوخ کرنے کا اقدام ہے جو کروڑوں ڈالر کی خطیر رقم سے چلایا جا رہا تھا۔ یہ اقدام حماس کی جانب سے اس مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں آمدنی کا کچھ حصہ تنظیم کو دیے جانے پر زور دیا گیا تھا۔ حماس تنظیم نے غزہ پٹی کے شمال میں بیت حانون کے علاقے میں 300 ایکٹر اراضی مذکورہ کھیت قائم کرنے کے لیے مختص کی تھی۔ منصوبہ بندی کے مطابق کھیت کی پیداوار کی بیرون ملک مارکیٹنگ قطر کے ٹریڈ مارک کے تحت انجام پانا تھی اور اس کے بدلے فلسطینیوں کو روزگار کے واسطے بھرتی ہونا تھا۔ قطر اس بات کا خواہش مند تھا کہ اس زرعی منصوبے کی سالانہ آمدنی کو مقبوضہ فلسطینی اراضی یا اسرائیل میں اپنی سرگرمیوں کی فنڈنگ کے واسطے استعمال میں لایا جائے۔قطری سفیر نے اس خبر کی تصدیق یا تردید کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

مزید : عالمی منظر


loading...