محرم الحرام ، تجدید پاسداری دین و احترام آدمیت

محرم الحرام ، تجدید پاسداری دین و احترام آدمیت
محرم الحرام ، تجدید پاسداری دین و احترام آدمیت

  


محرم الحرام اسلامی سال کا ایسا اہم مہینہ ہے جس میں نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وا ٓلہ وسلم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہہ کی شہادت عظمی کی یاد تازہ ہو جاتی ہے ۔ دین اسلام اور رسول اللہ کی دین کے لئے تبلیغ اور قربانیوں کو آج اگر کسی نے زندہ رکھا ہے تو وہ واقعہ کربلا ہی ہے جس نے اکسٹھ ہجری سے لیکر قیامت تک کے لئے حق و باطل میں تفاوت کی ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے ۔

آج یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جو بھی امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو مانتا اور ان کی محبت دل میں رکھتا ہے خواہ اسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو وہ با ضمیر انسان ہے اور جس نے آل محمد (ص) کے در کو چھوڑ کر سرکشی اختیار کی وہ یقینا ضمیر فروش اور حق سے روگردانی کرنے والا ہے ۔

محرم الحرام کا پیغام آفاقیت کا پیغام ہے ، دنیا میں کوئی بھی شخص کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھتا ہو امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی سب کی بقا کے لئے تھی اور ہے ، امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے احترام آدمیت کا درس دیا ، انھوں نے انسانیت کی تحقیر کی مذمت کی اور یزیدی غرور کو خس و خاشاک میں بدل ڈالا ۔

امام عالی مقام نے یزید سے جنگ نہ کی بلکہ اسلام دشمنوں اور انسانوں کے دشمن یزید کو للکارا ۔ آپ نے امر بالمعروف اور نہی المنکر کا حکم دیا اور اس کا حق سب سے زیادہ اہل بیت نبوت صلی اللہ و علیہ وا ٓلہ وسلم کو ہی حاصل تھا کہ وہ دین اسلام کی ترویج کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو اپنی جان کی اپنے خاندان کی قربانیاں دے کر دور کر دیں ۔

لہذا محرم الحرام شہید کربلاسے تجدید عہد کا مہینہ ہے کہ آقا ہم آپ کے مشن کو ہمیشہ جاری و ساری رکھیں گے اور ہر دور کے یزید کی آواز کو دبائیں گے ، آج یمن ، فلسطین ، شام ، عراق ، مقبوضہ کشمیر کہاں ظلم نہیں ، طاغوتی قوتیں پھر اپنا سر اٹھا رہی ہیں اور یہ سب واقعات کربلا کے واقعہ کا ہی تسلسل ہیں ۔

محرم کا تعلق صرف لباس کی تبدیلی سے نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ مظلوم کربلا سے وعدہ کیا جائے کہ ہم ہر واجب کام کو دلجمعی سے انجام دیں گے ، برائیوں کے حصار سے خود کو محفوظ رکھیں گے ، اپنے ہمسائیوں اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کریں گے ، غیبت سے گریز اور حسد سے بچیں گے اور حتی الامکان اپنے تزکیہ نفس کی کوشش کریں گے ۔

محرم صرف ایک مہینے کا نام نہیں ، یہ ایک انقلاب کا نام ہے ، یعنی ہمارے کردار اور گفتار میں بھی یک رنگی ہو ، قرآن پاک میں بھی ارشاد باری تعالی ہے کہ تم وہ کیوں نہیں کرتے جو تم کہتے ہو یعنی قول و فعل میں تضاد کی شدید مذمت کی گئی ہے ۔تو محرم اپنے کردار ۔ لب و لہجے اور دوسروں کے ساتھ سلوک کو بہتر بنانے کا نام بھی ہے ۔

اتحاد و یگانگت اس ماہ کی خاصیت ہے ، کیونکہ حسینیت کے جھنڈے تلے ہر مذہب کے لوگ بلا رنگ و نسل موجود ہیں ، لہذا غم حسین کسی ایک فرقے کی اجارہ داری نہیں بلکہ ہر ایک اپنے اپنے انداز سے امام عالی مقام کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے ،کوشش کی جائے کہ کسی کی بھی کسی حوالے سے دل آزاری مت کی جائے ، امت مسلمہ کو اس وقت اتحاد کی ضرورت ہے ، مسلم دنیا کے مسائل کے حل کے سب کا یک زبان ہو کر بولنا اور ہمارے سربراہان کا مسلم دنیا کا ایک اہم ملک ہونے کے ناطے کشمیر ، فلسطین ، شام ، یمن ، عراق کے مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ضروری ہے ۔

محرم خواب غفلت سے بیداری کا نام بھی ہے ، محرم صرف سرسری انداز میں نہیں بلکہ حقیقت کربلا اور روح مقصد حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو سمجھنے کا نام ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے درمیان نفاق پھیلانے کی موجودہ دور میں باقاعدہ سازش ہو رہی ہے اہل علم کا فرض ہے کہ وہ اس پروپیگنڈے کو اپنی تحریر اور تقریر سے ناکام بنائیں تاہم اہل علم کا اہل علم اور باعمل ہونا ضروری ہے ۔

واقعہ کربلا کے تناظر میں ہمیشہ یاد رکھئیے کہ اس واقعہ نے تو دین اسلام کو پناہ دی ، دین کو تاقیامت محفوظ کر دیا ، آج اگر امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اپنے اہل و عیال جن میں چھ ماہ کے معصوم علی اصغر رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے قربانی نہ دیتے تو آج کہیں مساجد میں اذانوں کی صدا نہ ہوتی ، کہیں بھی نماز ادا نہ ہو رہی ہوتی ہے ۔

یہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی کا ثمر ہے کہ آج یزید اور یزدیت ایک گالی بن کر رہ چکی ہے اور تمام لوگ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے دامن میں پناہ لئے ہوئے ہیں ۔ کربلا امن کا پیغام ہے کربلا مودت اہل بیت رضی اللہ تعالی عنہم کا عزم ہے ، کربلا اتحاد و یگانگت کی جانب ایک قدم ہے ۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے

غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم

نہایت اسکی حسین ابتدا ہے اسماعیل

اللہ تعالی ہم سب کو روح کربلا درست معنوں میں سمجھنے کی توفیق عطا کریں آمین ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...