گیس ٹیکس کی معافی اور واپسی سے اٹھنے والا سوال!

گیس ٹیکس کی معافی اور واپسی سے اٹھنے والا سوال!
گیس ٹیکس کی معافی اور واپسی سے اٹھنے والا سوال!

  


خبردار کیا گیا کہ دیکھو تمھیں کسی فرد، گروہ یا قوم کی عداوت بے انصافی پر آمادہ نہ کردے۔ فرمایا سچ میں نجات اور جھوٹ میں ہلاکت ہے۔ابنِ عیسیؑ نے حواریوں سے کہا کہ سچ تمھیں آزاد کرے گا۔ وطنِ عزیز میں مگر حد رویے بغض ،عناد اور بے انصافی پر مبنی ہو چکے۔جھوٹ سے کراہٹ ہٹ چکی ہے۔ معاشرہ گروہوں میں بری طرح تقسیم ہے۔ نفرت کا راج ہے۔ افراتفری کا وہ عالم ہے کہ کھلی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھتے ہیں مگر اپنے اپنے گروہی حصاروں میں ڈٹے کھڑے ہیں کہ یہی اب وفاداری اور بہادری کا پیمانہ ٹھہرا۔ فرمایا یہ نا دیکھ کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھ کہ کیا کہہ رہا ہے! متحارب جتھوں کو اس حکمت سے مگر اب سروکار نہیں۔ بے اثر سے مخالف کے منہ سے ڈھنگ کی بات سننے کو روادار نہیں۔ وابستگیاں کھل کر اس طرح سامنے آچکی ہیں کہ بہت کم رہ گئے کہ جو میانہ روی کا مظاہرہ کریں وگرنہ وکیل ہوں، معاشی ماہر ہوں یا تجزیہ کار ، بس نام ہی کافی ہے۔ کوئی بھی معاملہ ہو، کوئی بھی الجھن درپیش ہو، رائے سب کی پہلے سے معلوم ہے۔ اب تو اخباری رپوٹرز بھی کھلم کھلا سیاسی و گروہی وابستگیاں رکھتے ہیں۔ ان کی رپورٹیںپڑھے بغیر صرف نام دیکھ کر رپورٹ کے متن کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اداروں سے پرخاش رکھنے والے ناقدین ہر دور میں موجود رہے بالعموم بائیں بازو کے دانشور اور قوم پرست۔چار عشرے قبل ضیاءالحق کے مارشل لائی دور میں لفٹین کوئٹہ کینٹ میں تعینات تھا کہ بلوچستان کی کسی دورافتادہ بستی میں قوم پرست نوجوانوں کے جلسے میں کی گئی تقریروں کے متن کا ترجمہ انگریزی میں کرنے کا حکم ملا۔ معلوم ہوا کہ نوجوان قوم پرست پنجابی فوج سے نالاں ہیں۔حکومت سے بلوچستان کی آزادی اور روس سے گوادر کی بندر گاہ تعمیر کرکے ان قوم پرستوں کے حوالے کرنے کے مطالبات کررہے تھے۔ سابق صوبہ سرحد میں سرخ پوش افغانستان سے نمو پاتے تھے۔ بھلا ہو خاتون کے سوشل میڈیا سیل کاکہ اب اداروں کے خلاف پنجابی جتھے بھی کارفرما ہیں۔ اکثر بے روز گار اور نیم خواندہ معاشرے کی نچلی پرتوں سے آنے والے کتابیں نہیں پڑھتے، سوشل میڈیا پر زندگی بسر کرتے ہیں۔جمہوریت اور سول بالادستی کے نام پر جن کے دلوں میں کدورت بھردی گئی ہے۔ ویسے بھی سوشل میڈیا ہمارے معاشرے کو خوب موافق ہے۔ تحقیق سے بے زار لوگوں کا معاشرہ کہ جن کی معلومات و ترغیبات کچی پکی پوسٹوں پر استوار ہیں ۔ موجودہ حکومت کو یہ جنگجواداروں کا ہی چہرہ قرار دیتے ہیں۔ میں ناتو معاشیات کا ماہر ہوں اور ناکوئی دانشور ہوں، ناہی اس حکومت کا ترجمان ہوں۔ گیس سے چلنے والی صنعتوں پر صدر زرداری کے دور، حکومت میں لاگو ترقیاتی ٹیکس کے معاملے سے مگر بنیادی آگاہی رکھتا ہوں۔ حالیہ صدارتی آرڈینینس کے نتیجے میں اٹھے طوفان پر انگشتِ بدنداںہوں۔ سوشل میڈیا کی غیرسنجیدگی تو قابلِ فہم ہے۔ مگر حیران ہوں کہ مین سٹریم میڈیا پر بھی لوگ حقائق چھپاتے ہیں۔آدھا سچ بولتے ہیںیا تو پھر سچ سے آگاہ نہیں۔ اپنے دو ادوار ملا کر دونوں بڑی سیاسی جماعتیں صنعتوں بشمول سی این جی سیکٹر پر گیس پائپ لائن بچھانے کی خاطر عائید کردہ ٹیکس کی وصولی میں ناکام رہیں، بے بسی سے عدالتوں کو دیکھتی رہیں کہ صنعتوں نے سٹے آرڈرز لے رکھے تھے۔ 700ارب روپے کے لگ بھگ ادائیگیوں کا معاملہ طے کرنے کیلئے شاہد خاقان عباسی صاحب کے صنعتوں سے آوٹ آف کورٹ معاہدے کے تحت جون 2018ءمیں ایک ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت سال 2015ءتک واجب الادا ٹیکس میں سے نصف کی ادائیگی معاف کر دی گئی۔ بشرطیکہ صنعتیں اور سی این جی سیکٹر بقیہ نصف تین ماہ کے اندر حکومت کو ادا کرتے ہوئے تمام سٹے آرڈرر واپس لے لیں۔بھاری تعداد مین اس مراعت سے فائدہ اٹھایا گیا تاہم کچھ عناصر جو نصف دینے کو بھی تیار نہیں تھے دوبارہ کورٹ سے سٹے آرڈر لے کر بیٹھ گئے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں اسد عمر صاحب نے 2015سے 2018ءتک کے عرصے کیلئے بالکل اپنی شرائط پر صنعتکاروں اور سی این جی سیکٹر سے ایک بار پھر معاملات طے کیئے۔ ان کی وزارت چلی گئی مگر معاہدہ برقرار رہا کہ جسے حال ہی میں ایک صدارتی آرڈینینس کے ذریعے لاگوکر دیا گیاکہ جابجا عدالتوں میں بکھرے مقدمات سمیٹے جاسکیںاور حکومت کو ٹیکس کی مدد میں نصف رقم وصول ہوسکے اور سب سے بڑھ کر کہ ٹیکس کا مناسب نرخ لاگو کرکے عوام پر بوجھ کو آئندہ کے لیے نصف کیا جا سکے۔طوفان کی ابتداءسوشل میڈیا سے ہی ہوئی۔جانے پہچانے چہرے کہ جن میں سیاست دان، صحافی اور تجزیہ کار سبھی شامل تھے حکومت پر چڑھ دوڑے۔ ریاستِ مدینہ کو آڑے ہاتھوں لیا جانے لگا کہ جہاں بااثرصنعتکاروں کو نوازنے کے لیے اربوں روپے کے ٹیکس معاف کر کے قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالا چکا تھا۔یہ وہی واجب الادا ٹیکس ہے کہ جس کی وصولی کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالتیں صنعتکاروں اور سی این جی سیکٹرکے حق میں فیصلہ دے چکی ہیں ۔ سرِشام جیسا کہ متوقع تھا ، سارا دن سوشل میڈیا پرسرگرم رہنے والے اب اپنے اپنے سٹوڈیوز میں آکر محاذ سنبھال چکے تھے کئی جیّدمیزبانوں نے تو حد کر دی جب انہوں نے واجب الادا ٹیکس کو ’قرضوں‘میں بدل دیا۔ وزیراعظم کا پرانا کلپ ڈھونڈ کر نکالا گیا کہ جس میں وہ قرضوں کی معافی کو قومی جرم قرار دے رہے تھے۔ اس ہنگام میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ٹیکس اور قرضے کو گٹرمٹر کرنے والے اصل حقیقت سے آگاہ نہیںہیں یا کہ وہ جان بوجھ کر ناانصافی برت رہے ہیں! دباﺅ میں آکر حکومت نے صدارتی حکم نامہ واپس لے لیااور معاملہ اب واپس سپریم کورٹ میں چلاگیاہے۔جناب احسن اقبال نے ٹویٹر پیغام میں اس کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے حکومت کی نااہلی پر اسے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اگرچہ فی الاوقت سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر اٹھنے والا طوفان تھم چکا ہے۔متحارب جتھے کسی اور شکار کی تلاش میں اب کسی اور سمت کو نکل چکے ہیں مگر جی آئی ڈی سی کا معاملہ ایک بار پھر اندھے کنویں میں جا گرا ہے۔ عدالتوں سے کوئی فیصلہ آنے تک عوام سو فیصد شرح سے ٹیکس ادا کرتے رہیں گے۔’ٹایم منی ویلیو‘ کے اصول کے تحت صنعتکار اور حکومت بالترتیب فائدہ اور خسارہ سمیٹتے رہیں گے۔اس سب کے باوجود میں نفع ونقصان کا کوئی حتمی میزانیہ ترتیب دینے سے خود کو قاصر پاتا ہوںکہ یہ معاشی آمور پر گہری قدرعت رکھنے والے افراد کا کام ہے۔ تاہم میں ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے صرف یہ جانناچاہتا ہوں کہ موجودہ حکومت کا صنعتکاروں سے طے کردہ معاملہ صرف ایک برس قبل سابقہ حکومت کے اپنی صنعتکاروں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے مختلف کیسے ہے؟ اگر موجودہ حکومت معاف کردہ ٹیکس عوام کے خزانے پر ڈاکہ ہے تو جناب شاہد خاقان عباسی صاحب کی ایماءپر جاری ہونے والا ایکٹ آف پارلیمنٹ (جو کہ ہوبہوانہی شرائط پر استوار تھا)قابل، قبول کیوں ٹھہراتھا؟ہے کوئی جو شخصی گروہی اور جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر بات کرے! وہ جو کہ نفرت کے بیانیے میں غرق ہیں، ان کی دشمنی تو قابلِ فہم ہے، مگر وہ کہ جن کا جینا مرنا اس ملک سے وابستہ ہے کیا ان کو بھی تاسف ہوگا کہ جب کسی متوقع عدالتی حکم کے نتیجے میں حکومت کوواجب الادا نصف رقم کی وصولی سے دستبردار ہو کر وصول کردہ 228ارب روپے واپس کرنے کے کسی حکم پر لینے کے دینے پڑھ جائیں! فرمایادیکھو کسی فرد، گروہ یا قوم کی دشمنی تمھیں بے انصافی پر آمادہ نا کر دے!

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ


loading...