یوم دفاع پھر سے جوش بھری تقریب بن گئی

یوم دفاع پھر سے جوش بھری تقریب بن گئی
 یوم دفاع پھر سے جوش بھری تقریب بن گئی

  

پاکستان ان دِنوں جن معاشی اور اندرونی بحرانوں سے دوچار ہے، اسی انداز سے بیرونی خطرات کا بھی سامنا ہے، قومی سلامتی کے حوالے سے مسلح افواج دہشت گردی کی باقیات سے نبرد آزما ہیں تو ازلی حریف کی ریشہ دوانیاں بھی بڑھ  گئی ہیں،بھارتی انتہا پسند، متعصب حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے ہڑپ کرنے کی پوری کوشش کی ہے، بلکہ مقبوضہ کشمیر کے 90لاکھ مسلمانوں کو ایک سال سے زیادہ عرصہ سے محصور رکھ کر ان پر ظلم و تشدد میں اضافہ کر دیا ہے اور دُنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے کنٹرول لائن پر جنگی نوعیت کے حالات پیدا کر رکھے ہیں، ایسے ملک کے اندر سیاسی استحکام کی صورت بھی نہیں بن پا رہی،انہی حالات میں یوم دفاع کا دن آ گیا۔ 6ستمبر 1965ء کو بھارتی افواج نے تاریکی میں واہگہ کی سرحد پار کی ڈیوٹی پر معمور رینجرز نے وطن پر جان نچھاور کی اور اپنے دفتر کو بھی اطلاع دی۔ 6ستمبر کا دن نئی صورتِ حال لے کر نکلا تھا اور ہمارے نوجوان افسروں اور بہادر سپاہیوں نے دشمن کی یلغار کو روک لیا تھا، اور وہ اپنی بھارتی جمعیت اور ٹینکوں کے باوجود بی آر بی کے پار رہ گیا تھا، آج کے حالات میں یہ یوم دفاع زیادہ توجہ کا باعث بن گیا اور ایک بارپھر سے عوام نے بھرپور جذبات کا اظہار کیا اور پوری قوم نے اپنے محافظوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔

لاہور میں مناواں، جلو نہر اور برکی میں قائم یادگاروں پر صبح ہی سے فاتحہ خوانی کرنے والوں کا ہجوم تھا۔ پاک فوج کے دستوں نے تو سالانہ روایت کے مطابق دن چڑھے ان یاد گاروں پر حاضری دی اور سلام پیش کر کے پھولوں کی چادریں چڑھائیں، جبکہ موجود شہریوں نے نعرہئ تکبیر لگا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے اپنے اپنے طور پر حاضری دی۔ مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق، رانا ثناء اللہ اور دیگر کے ساتھ یادگاروں پر آئے، اہالیان پاکستان نے جلوس اور مظاہروں کے ذریعے بھی جذبات کا اظہار کیا،مفکر ِ  پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے مزار پر حفاظتی گارڈ کی تبدیلی والی پُروقار تقریب بھی منعقد کی گئی اور لاہور میں ہلالِ استقلال کا روائتی اجتماع بھی ہوا۔ لاہوریوں کے جذبہئ حریت اور حب الوطنی کو خراج تحسین کے لئے دیا گیا یادگار  ہلال  استقلال  لہرا دیا گیا۔

ہفتہ رفتہ میں وزیراعظم عمران خان بھی مختصر دورے پر لاہور آئے اور یہاں ایک اجلاس کی صدارت کی، اس میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے دو سالہ کارکردگی رپورٹ سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ کسی تنقید یا مخالفت کی پرواہ کئے بغیر عوامی، فلاحی منصوبوں پر کام جاری رکھا جائے۔اس سے اگلے روز وزیراعلیٰ نے میڈیا کو دعوت دی اور90 شاہراہ پر ایک بھرپور تقریب بن گئی۔ سردار عثمان بزدار نے ان سب کو دو سالہ کارکردگی سے آگاہ کیا، ان کے اندر اعتماد نظر آیا، بلکہ وہ کچھ زیادہ ہی بااعتماد طریقے سے دو سالہ کارکردگی پر روشنی ڈال رہے تھے۔انہوں نے مستقبل کے لئے جاری یا منظور کئے جانے والے منصوبوں کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔یوں وسیم اکرم پلس کی کارکردگی کے باعث اعتراضات اور تنقید کی شدت بھی کم نظر آئی۔

مسلم لیگ(ن) ان دِنوں عدالتی پیشیوں، احکام اور نیب کی کارکردگی کی وجہ سے مشکل میں نظر آتی ہے تاہم اس کے مرکزی رہنما اعتماد کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہفتہ رفتہ ہی کے دوران ماڈل ٹاؤن میں مرکزی صدر اور قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کی صدارت میں اجلاس ہوا،اس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم پر غور کیا گیا کہ رہبر مسلم لیگ(ن) محمد نواز شریف9ستمبر کو ملک میں آ کر ”سرنڈر“ کریں۔ دوسری صورت میں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔یہ حکم جماعت کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے،تاہم تمام اراکین نے طویل مشاورت سے طے کیا کہ  محمد نواز شریف کے حوالے سے جو حکم ہوا، اس کے لئے عدالت ہی سے رجوع کیا جائے۔ اجلاس میں ایک آدھ رائے یہ بھی تھی کہ ان کو واپس آ کر عدالت کا سامنا کرنا اور پھر سے اجازت لے کر جانا چاہئے، تاہم اجتماعی رائے یہ تھی کہ وہ علاج کے لئے گئے،ان کی جان زیادہ عزیز ہے،اس لئے وہ مکمل صحت یابی کے بعد آئیں، پھر مشاورتی تجویز ہی کے مطابق لندن سابق وزیراعظم سے بات کی گئی، تو انہوں نے واپس آنے کا ارادہ ظاہر کیا اور  کہا کہ وہ علاج کے بغیر ہی آ جاتے ہیں کہ تاخیر ان کی نہیں۔کورونا وبا کے باعث ڈاکٹر حضرات کی تجویز کے باعث ہوئی ہے، تاہم وہاں موجود حضرات نے فوری طور پر یہ پیشکش رد کر دی اور ان کو اجلاس کے فیصلے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاج مکمل کرا کے آئیں۔

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشیح کا معمول ہے کہ وہ ہفتے میں ایک روز ضرور لاہور آتے اور یہاں بھی میڈیا سے بات کر کے اپنے غبار کو ہلکا کرتے ہیں، اِس بار انہوں نے ایک پنتھ دو کاج والا کام کیا،دورہ معمول کا تھا، اسے بڑھا کر اپنی کتاب کی تقریب رونمائی تک توسیع دے دی۔انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے ”لال حویلی سے اقوام متحدہ تک“ کے عنوان سے کتاب لکھی ہے۔ میڈیا سے گفتگو تو انہوں نے مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے ہی کی تھی، کہ نواز آئے تو بھی، نہ آئے تو بھی مسلم لیگ(ن) ہی کو نقصان ہو گا، ان کے مطابق وہ آتے ہیں تو محمد شہباز شریف کا پتا صاف اور اگر نہیں آتے تو مسلم لیگ(ن) تقسیم ہو جائے گی۔ بہرحال تقریب رونمائی بھرپور تھی۔ان کی پبلک ریلیشنگ(تعلقات) کی وجہ سے مجیب الرحمن شامی، عارف نظامی، سہیل وڑائچ اور سلمان غنی کے علاوہ بھی بہت حضرات شامل ہوئے اور گورنر چودھری محمد سرور مہمان خصوصی تھے۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

مزید :

رائے -کالم -