مہمند، پتھر کی کان میں حادثہ

مہمند، پتھر کی کان میں حادثہ

  

مہمند ایجنسی خیبرپختونخو ا میں ایک افسوس ناک حادثے کے دوران اب تک کی اطلاع کے مطابق 18 مزدور جاں بحق اور10 زخمی ہو گئے،ابھی تک11مزدور لاپتہ  ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ یہ المناک حادثہ پتھر کی ایک کان میں پیش آیا، مزدور کھدائی کے ذریعے پتھر نکال رہے تھے کہ اچانک کان بیٹھ گئی اور مزدور نیچے دب گئے۔ ریسکیو ٹیموں اور مقامی حضرات نے امدادی کارروائیوں سے دبے مزدوروں کو نکالا، ابتدا میں 17نعشیں نکلیں ان میں ایک کا اضافہ ہو گیا، پتھرکی کان کے اس حادثے نے علاقے میں سوگ کی کیفیت پیدا کر دی ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا حادثہ ہے۔ ایسے حادثات کبھی کبھار پیش آتے رہتے ہیں اور بلوچستان میں کوئلے کی کانوں کے ذخائر نکالنے کے مواقع پر بھی حادثات پیش آ جاتے ہیں، ایسے حادثات کی تحقیق ہو تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے جدید ترین دور میں بھی تازہ ترین حفاظتی اقدامات نہیں کئے جاتے اور پرانے دور کی کان کنی کا سلسلہ جاری ہے، حالانکہ کھیوڑہ میں نمک کی کان کی مثال موجود ہے، جہاں بہتر حفاظتی اور جدید کان کنی کی وجہ سے سیاحوں کو کان کی سیر تک کرائی جاتی ہے،لیکن پتھر اور کوئلہ کی کانوں میں جدید طریقہ اور مشینری اختیار نہیں کی جاتی اور حادثات ہوتے ہیں،ہم مہمند کے حادثے پر دُکھ کا اظہار کرتے، جاں بحق ہونے والوں کے لئے مغفرت اور زخمیوں کے لئے صحت کی دُعا کرتے ہیں، ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی توجہ دلاتے ہیں کہ معدنیات ملکی سرمایہ ہیں،ان کی برآمدگی کے لئے جدید آلات، تکنیکی مہارت اور پورے تحفظات سے کام ہونا چاہئے کہ انسانی جان ہر شے سے بالاتر ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -