کراچی ٹرانسفارمیشن پلان 

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان 
کراچی ٹرانسفارمیشن پلان 

  

ہمارے ایک دوست ہیں۔ قیوم صاحب۔انتہائی خوبصورت سوچ اوراچھے کردار کے مالک ہیں۔ویسے دیکھنے میں بھی خوبصورت ہیں کارپوریٹ اور پبلک سیکٹر میں اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں آجکل ایک سرکاری کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر اور کمپنی سیکرٹری کے طور پر مصروف عمل ہیں۔عبدا لقیوم بابری کے ساتھ بحث مباحثے میں اچھا لگتا ہے وہ ایک غیرسیاسی،محب وطن پاکستانی ہیں عامل مسلمان،پیروں فقیروں کے متلاشی اور با خبر شہری کے طور پر ان کے ساتھ مجلس  میں  بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملتا ہے۔گزشتہ دنوں کراچی کے مسئلے پر ان کے ساتھ سیر حاصل گفتگو ہوئی انہوں نے کراچی کی قومی معیشت میں اہمیت کا خوب ذکر کیا سیر حاصل معلومات دیں لیکن ایک اہم نقطہ جس نے ہمیں یہ کالم لکھنے پر اکسایا وہ کراچی کے مستقبل بارے خوش کن اور ہمت افزا ء باتیں ہیں انہوں نے ہمیں سوچنے کے ایک انوکھے اور منفرد زاویے سے روشناس کرایا کہنے لگے کراچی پر ایک آفت کچر ا اور گندگی کے ڈھیروں کی صورت میں پہلے ہی نازل ہو چکی تھی کراچی کچرا کنڈی بن چکا تھا گندگی کے لحاظ سے کراچی دنیا کا پانچواں بڑا گندہ شہر قرار پا چکا تھا ایسے میں شدید بارشوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے کچرا دلدل میں تبدیل ہو گیا ہے باران جو رحمت کہلاتا ہے کراچی کیلئے زحمت بن گیا ہے پورا نظام معطل ہو کر رہ گیا ہے تباہی و بربادی سامنے نظر آنے لگی ہے عبدالقیوم بابری کا کہنا ہے کہ بارش درحقیقت کراچی کیلئے باران رحمت ہے کیونکہ پانی نے کوڑا کرکٹ بہادیا ہے اسے نمایاں کر دیا ہے اب اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ دھلے ہوئے کراچی کو دریافت کریں اس سے پہلے کوئی بھی پارٹی کچرا اُٹھانے اور کراچی کو صاف ستھرا کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آئی تھی لیکن اب بارشوں نے جب ہر شے معطل کر کے رکھ دی ہے تو ہمارے پاس اس کے  سوا کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں رہ گیا کہ صفائی ستھرائی کرکے شہر کو دوبارہ قابل رہائش بنائیں۔اب یہ کام ہو کر رہنا ہے گویا قدرت نے بارش برسا کر ہمیں کراچی کو صاف کرنے اور قابل بودوباش بنانے کی ترغیب دی ہے راستہ دکھا یا ہے“۔

یہ باتیں سن کر ہمارے دماغ میں ایک بجلی کوندی،اللہ سبحان وتعالیٰ نے فی  الاصل کراچی کو ایک بار پھر عروس البلاد بنانے کی حتمی راہ دکھا دی ہے۔قیوم صاحب آپ کا شکریہ۔امید و روشنی دکھانے کیلئے آپ کا شکریہ۔اللہ آپ کو حفظ و ایمان میں رکھے (آمین) 

قیوم صاحب کی باتیں سن کر مجھے اشتراکی روس کے اس جرنیل کی باتیں یاد آئیں جو جنگ عظیم دوم میں ماسکو /لین گراڈ کی حفاظت کیلئے مامور تھا جب ہٹلر کی افواج نے ماسکو کے گرد گھیرا تنگ کر دیا تھا اور شہر کے نواح میں دست بدست جنگ ہو رہی تھی تو اس جرنیل نے ایک غیر ملکی صحافی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا   “ اس جنگ میں ہم ضرور کامیاب ہونگے 100فی صد کامیاب،کیونکہ ہم حق پر ہیں ہم اپنے وطن کی زمین اور اپنی آزادی کی خاطر لڑ رہے ہیں جبکہ ہٹلر صرف فتوحات اور غلبے کے حصول کیلئے اقوام کو غلام بنانے میں مصروف ہے اس کی جنگ ہوس پر مبنی ہے جبکہ ہم اصول اور اخلاق کی بنیادوں پر لڑ رہے ہیں اس لئے ہمارے فتح یقینی ہے“کیا خوب باتیں تھیں پھر ہم نے دیکھا ہٹلر کی افواج قاہرہ مقاصد کے حصول میں کامیاب نہ ہو سکیں اور روسی کامران قرار پائے“یہ اس یقین محکم کے باعث ممکن ہوا جو ا شتراکی جرنیل اور اس کی سپاہ کے دل اور دماغ میں راسخ تھا۔ہمارا مسئلہ اعتماد دو یقین کی کمی ہے۔نا امیدی ہے،بے عملی ہے۔

ذرا سرکس اور جنگل کے شیروں کی مثال لیجئے۔ان دونوں کی ظاہری شکل و صورت اعظاء وجوارح سب کچھ ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن سرکس کا شیر رنگ ماسٹر کی چھڑی کے اشاروں پر چلتا ہے چھڑی جس طرف اور جس طرح اشارہ کرتی ہے سرکس کا شیر ویسے ہی حرکت کرتا ہے لیکن جنگل کا شیر آزادانہ ماحول میں اپنی مرضی سے زندگی گزارتا ہے جب دھاڑتا ہے تو سننے والوں  کے دل خوف سے تیز تیز دھڑکنا شروع کر دیتے ہیں دونوں شیر ہیں ان کی شکل و صورت ایک جیسی ہوتی ہے لیکن جو چیز دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے وہ سوچ ہے سرکس کے شیر کی سوچ محدود ہوتی ہے وہ صرف چھڑی کی حرکت تک محدود ہوتی ہے لیکن جنگل کے شیر کی سوچ آفا قی اور فطری ہوتی ہے وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے وہ اپنی سوچ کے باعث بھی جنگل کا بادشاہ بنتا ہے جبکہ اپنی پست سوچ کے باعث دوسرا شیر سرکس کا نمائشی و درشنی شیر بن کر رہتا ہے۔ایسی ہی صورتحال قوموں کی ہوتی ہے جو قومیں آزاد فکری اور امید کے ساتھ رہتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں وہ ملائشیا،ترکی،تائیوان،جاپان اور سنگا پور بنتی ہیں ترقی کرتی ہیں تاریخ اقوام میں نام اور مقام پاتی ہیں لیکن جو قومیں فکری طورز پر پست اور کمزور ہوتی ہیں ان کا عمل بھی ویسا ہی ہوتا ہے وہ غر بت و افلاس کا شکار ہوتی ہیں دیگر اقوام کی رہین منت ہوتی ہیں۔

ہم اگر اپنے مادر وطن پاکستان کی مثال لیں۔تو بہت کچھ بہتر،اچھا اور حوصلہ افزاء دیکھنے کو ملتا ہے پاکستان میں سالانہ 3سو ارب ڈالر کی اشیاء و خدمات پیدا ہوتی ہیں یاد رہے 300ارب ڈالر کو 1000سے ضرب دیں پھر اس کے 167سے ضرب دیں تو اتنے روپے کے برابر رقم بنتی ہے یہ کوئی چھوٹی موٹی پیدا وار نہیں ہے بہت معقول اشیاء و خدمات ہیں۔ ہمارے لاکھوں ورکرز،انجینئرز،ڈاکٹرز اور ماہر سائنسدان دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرتے ہیں اربوں ڈالر سالانہ زر مبادلہ یہاں  پاکستان بھیجتے ہیں ہماری فیکٹریوں اور کارخانوں میں پیدا ہونے والی اشیاء مختلف ممالک کی طرف ایکسپورٹ کی جاتی ہیں ہماری زمین اشیاء خورد و نوش کے علاوہ ایسی اشیاء بھی اگلتی ہے جو ایکسپورٹ کر کے ہم زر مبادلہ کماتے ہیں ہمارے د ہقان،ہمارے ورکر خوب محنت کرتے ہیں تو اس قدر اشیاء و خدمات پیدا ہوتی ہیں۔اس ملک میں 230ملین نفوس بستے ہیں آبادی کی اکثریت یوتھ پر مشتمل ہے یہ ایک اور بہت بڑی دولت و قوت ہے جس کی پذیرائی اور قدر کے ذریعے یہاں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے ہماری ریاست،ہمارے سرکاری ادارے کام کر رہے ہیں تو یہ سب کچھ وقوع پذیر ہو رہا ہے ہم اقوام عالم میں سر ہی نہیں سینہ بھی تان کر کھڑے ہیں۔ہماری مسلح افواج ہر گھڑی تیار ہیں تو انڈیا کو جارحیت کی جرات نہیں ہو رہی ہے وگرنہ ہندو بنیا تو ہمیں کب کا صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے تلا بیٹھا ہے۔بہت سی علامات اور بھی ہیں جو پاکستان کے قد کاٹھ کو بلند ثابت کر سکتی ہیں لیکن طوالت کے ڈر سے آگے بڑھ رہا ہوں۔

لیکن ایک دوسری صور ت بھی ہے جو ہمیں ہر روز ہر لمحہ دیکھنے و سننے کو ملتی ہے کہ یہاں کوئی بھی چیز درست نہیں ہے عوامی خدمات کا کوئی بھی شعبہ اپنے فرائض پورے کرتا نظر نہیں آ رہا ہے سرکاری محکموں اور ان سے متعلق اہلکاروں کے بارے میں ایک رائے مستحکم کر دی گئی ہے کہ وہ سب چور ہیں،نا اہل ہیں،بد نیت ہیں،قومی خزانے پر بوجھ ہیں وغیرہ وغیرہ وقفے وقفے سے سیاستدانوں کے احتساب کا نعرہ بلند کر کے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے عوام کو یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہمارے مسائل کی اصل جڑ سیاست اور سیاستدان ہیں انکی حماقتیں اور بد دیانتیاں ہیں،کچھ عر صہ یہ ٹیپ چلتی ہے پھر ایک نئی کہانی اور نیا باب سامنے آتا ہے گزرے 72سالوں کے دوران ایساہی ہو رہا ہے قوم مایوسی کا شکار ہے نہ کرنی کا شکار ہو چکی ہے اسکی حیثیت سرکس کے شیر کی طرح ہو چکی ہے حالانکہ ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جو ایک کامیاب اور کامران قوم بننے کیلئے درکار ہوتا ہے  لیکن اگر ہم سرکس کا شیر بنے بیٹھے ہیں تو اس کی وجہ ہماری پست ہمتی ہے پست سوچ ہے نا امیدی ہے اگر ہم اپنا زاویہ نظر تبدیلی کر لیں۔اپنی سوچ میں یقین و ایمان پیدا کر لیں تو ہمیں دنیا کی کوئی طاقت عظیم ملک و قوم بننے سے روک نہیں سکے گی ۔

مزید :

رائے -کالم -