لاہور کو ہمیشہ اچھے پولیس افسرکی ضرورت رہی ہے

لاہور کو ہمیشہ اچھے پولیس افسرکی ضرورت رہی ہے
لاہور کو ہمیشہ اچھے پولیس افسرکی ضرورت رہی ہے

  

لمحہ موجود میں ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ جن کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ ہم کسی عجائب خانے میں آ گئے ہیں، کیونکہ پہلے ایسی خبریں کبھی سنی یا دیکھی نہیں گئیں۔ جب سے یہ خبر عام ہوئی ہے کہ لاہور میں نئے تعینات ہونے والے سی سی پی او عمر شیخ کی وجہ سے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے دفتر آنا چھوڑ دیا ہے۔ حیرت ہے کہ ختم نہیں ہو رہی۔ کہاں آئی جی اور کہاں ایک شہر کا سی پی او،دونوں میں کوئی مقابلہ ہے ہی نہیں، مگر سارا میڈیا اس خبر کی دہائی دے رہا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ آئی جی کی منظوری کے بغیر سی پی او تعینات کیا گیا ہے، لیکن میں اس منطق کو نہیں مانتا، ضلعوں کے ڈی پی اوز اور سی پی اوز تو تعینات ہی وزیراعلیٰ کی منظوری سے کئے جاتے ہیں، یہ آج کا معاملہ تو ہے نہیں، شہبازشریف بھی یہی کرتے تھے اور کسی آئی جی کو یہ جرات نہیں ہوتی تھی کہ ان کے منظور کردہ افسر کے خلاف ردعمل ظاہر کرے۔ اندرکی بات یہ ہے کہ سی پی او عمر شیخ اور آئی جی شعیب دستگیر کے درمیان کچھ پرانی عداوتیں اور رنجشیں چل رہی ہیں، سنا ہے کہ لاہور میں افسران کی پہلی میٹنگ میں سی پی او عمر شیخ نے کہا کہ جاؤ آئی جی کو بتا دو کہ جسے وہ سی کلاس افسر کہتے تھے، وہ لاہور کا سی پی او لگ گیا ہے۔ موصوف نے یہ بھی کہہ دیا کہ لاہور میں صرف میرا حکم چلے گا اور آئی جی کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں ہو گی۔

ویسے تو یہ معاملہ انتہائی عجیب نظر آتا ہے کہ ایک فورس میں چین آف کمانڈ کی قلعی کھل گئی ہے۔ آئی جی کا حکم اگر لاہور میں بھی نہیں چلنا تو صوبے میں کیسے چلے گا۔ ویسے یہ بات بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آئی جی شعیب دستگیر معصوم بچوں کی طرح روٹھ کر گھر کیوں بیٹھ گئے۔ اگر ان کے کچھ تحفظات بھی ہیں تو انہیں وزیراعلیٰ سے ملاقات کرکے انہیں سامنے لانا چاہیے۔ ناراض ہو کر گھر بیٹھ جانا اور ایک اہم ترین عہدے کو غیر فعال کر دینا، پہلے کبھی دیکھا نہ سنا گیا۔ سنا ہے عمر شیخ کو ایک خاص ٹاسک دے کر لاہور میں لایا گیا ہے۔ ان کی عمومی شہرت بہت اچھی ہے اور وہ ایک منجھے ہوئے افسر ہیں۔ لاہور میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور قبضہ گروپوں کی آزادانہ سرگرمیاں دارالحکومت کو غیر محفوظ بنا رہی ہیں۔ پولیس کی کارکردگی ناقص ہے اور اس کا براہِ راست الزام عثمان بزدارکی حکومت کو دیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں وزیراعظم عمران خان بھی لاہور آئے تھے تو انہوں نے جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

پھر ایک واقعہ مریم نواز کی نیب دفتر میں پیشی پر بھی رونما ہوا، حکومت کی بڑی جنگ ہنسائی ہوئی کہ اطلاع کے باوجود پولیس خاطر خواہ انتظامات نہیں کر سکی اور مسلم لیگ(ن) کو ایک اچھا شو کرنے کا موقع مل گیا۔یہ آوازیں بھی اٹھیں کہ لاہور پولیس میں شریف خاندان خصوصاً شہبازشریف کے پروردہ  افسر موجود ہیں، جنہوں نے یہ سارا منصوبہ تیار کیا۔ عمر شیخ چونکہ زیادہ تر سندھ میں رہے ہیں اور ایک سخت گیر افسر مشہور ہیں تو ڈسپلن پر کوئی رعائت نہیں دیتے، اس لئے انہیں غالباً سوچ سمجھ کر لاہور لایا گیا ہے۔ اب یہ بات آئی جی پنجاب کو بھی سمجھ آ جانی چاہیے تھی۔ وہ اسے انا کا مسئلہ بنا کر بیٹھ گئے اور یہ انوکھا واقعہ بھی پنجاب میں رونما ہو گیا کہ وقت کا  آئی جی ایک افسر کی تعیناتی پر اختلافات کی وجہ سے گھر بیٹھ گیا ہے۔ اتنا شدید ردعمل ظاہر کرنے کے بعد اب بچا ہی کیا ہے، اگر آئی جی کی بات نہیں مانی جاتی تو ان کی واپسی پر نچلی سطح تک کیا پیغام جائے گا، دوسری طرف اگر ان کی مخالفت پر لاہور کے سی سی پی او کو تبدیل کر دیا جاتا ہے تو عمر شیخ کو لانے والے بے توقیر ہو جاتے ہیں۔

افسروں کی تقرری و تبادلہ حکومت کا اختیار ہے۔ اسے کسی افسر کی پسند یا نہ پسند پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اصولی طور پر آئی جی سے مشاورت ضرور کی جانی چاہیے، لیکن حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ہی کرنا ہے۔ اگر شعیب دستگیر کو عمر شیخ کی تقرری پر اختلافات ہیں تو انہیں قاعدے کے مطابق تحریری شکل میں چیف سیکرٹری کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوانا چاہیے۔ ظاہر ہے اختلافات ذاتی نوعیت کے نہیں ہونے چاہئیں۔ ہاں اگر عمر شیخ کے بارے میں ان کی پروفیشنل کارکردگی سے متعلق آئی جی کے پاس کچھ معلومات ہیں تو ان کی بنیاد پر ان کی بات کو سنا جانا چاہیے، لیکن اب تک جس طرح کی صورت حال سامنے آئی ہے۔ اسے دیکھتے ہوئے یہ لگتا نہیں کہ آئی جی کے پاس کوئی مضبوط جواز ہے، ان کا دفتر نہ آنا بذاتِ خود ان کی جذباتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ حالانکہ عمومی طورپر آئی جی شعیب دستگیر  کی شہرت اور کارکردگی بہت اچھی ہے۔ انہوں نے پنجاب پولیس میں پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں۔ وہ خاموشی سے کام کرنے والے افسر ہیں، لیکن اس معاملے میں نجانے کیوں وہ انا کے زیر اثر آگئے ہیں۔ماضی میں بھی پولیس کے تقریباً ہر آئی جی کو یہ مسئلہ درپیش رہا ہے کہ حکومت کسی اور کو تعینات کرنا چاہتی ہے اور آئی جی کسی اور کے حق میں ہوتے ہیں، تاہم بات آخر میں حکومت کی ہی مانی جاتی ہے۔ سندھ میں کلیم امام کے دور میں کیا کچھ نہیں ہوا، مگر وہ کام چلاتے رہے۔

اب ایک بار پھر پنجاب میں آئی جی کی تبدیلی کے حوالے سے افواہیں سرگرم ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ سی سی پی او لاہور کی تعیناتی کے مسئلے پر آئی جی شعیب دستگیر ڈٹ گئے ہیں اور اس فیصلے کو واپس لینے تک کام کرنے کو تیار نہیں۔ یہ پہلا واقعہ ہے کہ پنجاب پولیس میں اس قسم کا بحران پیدا ہوا ہے۔ وگرنہ ڈسپلن فورس ہونے کے ناتے ایسے معاملات پیدا ہی نہیں ہوتے۔ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے بھی اپنی پہلی میٹنگ میں مبینہ طور پر جو کچھ کہا ہے، وہ ایک پولیس افسر کے شایان شان نہیں۔ کوئی ماتحت افسر یہ نہیں کہہ سکتا کہ صوبائی افسر اس کے کام میں مداخلت نہ کرے۔ مانیٹرنگ اتھارٹی کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ پھر تو سارا نظام ہی منہدم ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور میں جرائم کی صورتِ حال سنگین ہو چکی ہے۔ سٹریٹ کرائمز بھی بڑھ گئے ہیں اور بدمعاشوں نے شرکاء کا جینا عذاب بنا دیا ہے۔ لاہور کے اکثر تھانوں میں تعینات ایس ایچ اوز کروڑ پتی ہیں اور جرائم پیشہ گروہوں سے ان کا گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ سنا ہے عمر شیخ نے پہلی میٹنگ میں چیف ٹریفک آفیسر کو بھی وارننگ دی ہے کہ وہ لاہور میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنائے، کیونکہ اس وقت لاہور ٹریفک کے لحاظ سے ایک جنگل کا منظر پیش کرتا ہے اور اکثر ٹریفک جام رہتی ہے۔ پتنگ بازی کے حوالے سے بھی انہوں نے وارننگ جاری کر دی ہے کہ کوئی پتنگ فروش شہر میں نہ ملے، جس علاقے میں پتنگیں فروخت ہوئیں وہاں کے ایس ایچ او کو سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دیکھا جائے تو لاہور کو ایک ایسے سی سی پی او کی ضرورت تھی۔ اب یہ وقت بتائے گا کہ وہ اپنے ارادوں میں کتنا کامیاب ہوئے یا ان کی باتیں صرف بڑھکیں ہی ثابت ہوئیں۔ تاہم آئی جی کو سربراہِ ادارہ ہونے کی وجہ سے ان کی پیٹھ تھپکنی اور کارکردگی پر نظر رکھنی چاہیے، ناکہ وہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیں۔

مزید :

رائے -کالم -