یومِ دفاع اور ہم! (1)

یومِ دفاع اور ہم! (1)
یومِ دفاع اور ہم! (1)

  

6ستمبر کو قوم نے انڈو پاک وار کی 55 ویں سالگرہ منائی۔ سوچتا ہوں وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے۔ 6ستمبر 1965ء کا دن میرے لئے اس حوالے سے بھی یادگار ہے کہ میں ان ایام میں اپنے ننھال قصور میں تھا۔ نوجوانی کی عمر تھی۔ گورنمنٹ کالج ملتان میں موسمِ گرما کی تعطیلات تھیں۔ وہاں میرے کالج کے زمانے کے ایک دوست شمیم حیدر ترمذی لیکچرار تھے۔ ان سے گاہے بگاہے ٹیلی فون پر بات ہو جایا کرتی تھی۔ یہ شائد ستمبر کے پہلے ہفتے کی بات ہے۔ان کا فون آیا کہ سرحدوں پر کشیدگی بڑھ رہی ہے اس لئے شائد تعطیلات میں توسیع ہو جائے۔ میں نے 7ستمبر کو پاک پتن واپسی کا ارادہ کر لیا۔ لیکن کیا خبر تھی کہ 6اور 7ستمبر کی درمیانی شب قصور۔ لودھراں سیکشن پر کوئی ٹرین نہیں چلے گی۔

5ستمبر کی سہ پہر، میں کوٹ مراد خان میں اپنے نانا کے گھر بیٹھا تھا کہ ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا۔ لوگ باہر سڑکوں پر نکل آئے۔ معلوم ہوا کہ قریب کے ایک دھوبی گھاٹ پر انڈیا نے دو تین بم برسا کر اہلیانِ قصور کو آنے والے خطرے سے خبردار کر دیا ہے۔ میں بھی دوسرے لوگوں کی طرح جائے حادثہ پر پہنچا۔ دھوبی گھاٹ کے نزدیک دو تین گڑھے لوگوں کی نگاہوں کا مرکز تھے۔کچھ معلوم نہ تھا کہ بھارتی فضائیہ نے قصور کے اس غیر اہم سے علاقے میں یہ بمباری کیوں کی ہے۔ بہر کیف شام ہوئی تو شہر میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ پاکستانی مسلح دستے درگاہ بابا کمال چشتی کی جانب سے ہوتے ہوئے سرحد کی جانب جا رہے ہیں۔ جوں جوں شام گہری ہوتی گئی کھیم کرن، قصور سرحد پر توپخانے کی فائرنگ کی وجہ سے پورا علاقہ جھلملانے لگا۔ وقفے وقفے سے سارا علاقہ روشن ہو جاتا، دھماکے ہوتے اور پھر دوچار لمحوں کے لئے خاموشی چھا جاتی۔

میرے ایک کزن جعفر شاہ، بابے بلھے شاہ کے مزار کے نزدیک واقع ایک پولیس چوکی کے انچارج تھے۔ وہ تقریباً صبح تین بجے گھر آئے اور ایک گھنٹے کے نوٹس پر سب اہلِ خانہ کو قصور چھوڑنے کی ہدائت کر دی۔ یہ بھی کہا کہ پوری بس ہمارے لئے بک کروا دی گئی ہے۔ ماہِ ستمبر میں صبح 5بجے خاصی روشنی ہو جاتی ہے۔ ہم چار بجے صبح جب بابا کمال چشتی کی درگاہ کے نزدیک والی سڑک سے ہو کر پاک پتن جانے والی سڑک پر رواں دواں تھے تو بس کے شیشوں میں کھیم کرن محاذ کی توپوں کی نہ صرف گھن گرج سنائی دے رہی تھی بلکہ گولہ فائر ہونے کی چمک سے لے کر گولہ ٹارگٹ پر لگنے کی گرج تک کے عبوری لمحات بار بار آنکھوں اور کانوں میں دکھائی اور سنائی دے رہے تھے۔صبح سات بجے جب بس پتوکی پہنچی تو معلوم ہوا گویا آدھا شہر قصور باہر نکل کر اس روڈ پر آ گیا ہے۔

قارئین محترم! یہ پیراگراف اس بیانیے کا ابتدائیہ تصور کیجئے جو میں ذیل کی سطور میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔(یاد آ رہا ہے کہ یہ ابتدائیہ میں نے پہلے بھی 6ستمبر کا احوال بیان کرتے ہوئے اپنے کسی کالم میں تحریر کیا تھا)…… پھر 23ستمبر کو یہ جنگ تو بند ہو گئی لیکن اس کی مدح سرائی اور قصیدہ گوئی کا وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ بند نہ ہوا جو آج 55 برس گزر جانے کے بعد بھی کہیں کہیں پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ 1965ء کی جنگ نے ملٹری کا امیج بہت بلند کر دیا۔ قومی ترانوں کی بھرمار ہو گئی۔ وہ ترانے آج بھی ستمبر کے انہی ایام میں ہر سال ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ریکارڈ روموں سے نکال کر نشر کئے جاتے ہیں اور سرورِ گوش و نظر کا سامان بنتے ہیں۔

میں نے ستمبر 1965ء کی جنگ کے پورے تین سال بعد ستمبر 1968ء میں پاکستان آرمی جوائن کی۔ 1968ء میں بھی میرے دل و دماغ پر ستمبر 1965ء کی جنگ کی وہ کوریج مسلط تھی جس کا 95% حصہ اردو میں تھا۔ لیکن اس جنگ کے بارے میں فارن میڈیا نے کیا تجزیہ کیا اور خود انڈیا کے لکھاریوں نے کیا لکھا اس سے پاکستان کے سوادِ اعظم کو کوئی سروکار نہ تھا…… یہ تو جب میں نے 1968ء میں آرمی جوائن کی تو آرمی کی زبان (آفیسرز کی سطح پر) یعنی انگریزی میں لکھی جانے والی اس جنگ کی ملٹری ہسٹری کی چند نگارشات پڑھنے کو ملیں۔ لیکن میں تو اردو اور فارسی کا دلدادہ تھا اور اگرچہ انگریزی سے کوئی کدورت نہیں تھی لیکن نجانے کیوں میں اسے ’کافروں‘ کی زبان سمجھتا تھا اور خیال یہ بھی تھا کہ اس میں مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ تحاریر کا ایک انبار ہوتا ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں۔ لیکن جوں جوں ملٹری ہسٹری کی کتابوں سے پالا پڑا، حقیقت اور معروضیت کے دریچے کھلنے لگے۔ اردو زبان کے اسلوب نگارش کی افسوں طرازی جو گزشتہ کئی برس سے دماغ پر مستولی تھی اس کی گَرد آہستہ آہستہ چھٹنے لگی اور…… میری اکثر شامیں ملٹری اسٹیشن لائبریریوں میں گزرنے لگیں ……

ایک بڑی مشکل جو دوران مطالعہ سدِ راہ بنی وہ عسکری اصطلاحات تھیں۔ میں نے تو نسیم حجازی کے ناول پڑھے تھے جن میں مسلم شمشیروسناں کی کار فرمائیاں تھیں۔ عسکری لغت کا ایک مخصوص اور محدود ذخیرۂ الفاظ تھا جس میں ہمارے اردو لٹریچر میں شعر و ادب اور حسن و عشق کے قصے کہانیاں تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ باقی چند علوم و فنون کی اصطلاحات بھی تھیں جو آج بھی کسی نہ کسی لیول پر ہمارے مدرسوں میں پڑھائی جا رہی ہیں اور انہیں سرمایہ ء افتخار گردانا جاتا ہے لیکن آج بھی حدیثِ دفاع، جنگ و جدال اور کشت و قتال کے وہی معرکے ہیں جو حفیظ جالندھری کے شاہنامے کی چار جلدوں میں محفوظ ہیں۔ اردو نثر کی کوئی ایسی کتاب نہ تھی جس میں کاروبارِ حرب و ضرب کی حکایات بیان کی جاتیں، افواج کی تنظیم و تشکیل سے لے کر صف بندی اور صف آرائی کی تفاصیل قلم بند ہوتیں، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کی بات ہوتی، جدید وار ٹیکنالوجی کے تدریجی ارتقائی ادوار کے تذکرے ہوتے اور ساتھ ساتھ ان میں قاری کی دلچسپی کا بھی کوئی بندوبست کیا جاتا…… میں آپ کو اس طرف لے جانا نہیں چاہتا کہ یہ بتاؤں کہ ایسا کیوں ہوا، مسلم امہ نے کہاں ٹھوکر کھائی، شعر و ادب اور حسن و عشق کی داستانوں کو آمناّ و صدقناً کیوں کہا اور دھاوا، حملہ، گھات، شب خون، ہر اول، پیشاول، پسپائی، پس قدمی، قلبِ لشکر، بازوئی گھیراؤ اور اس طرح کی سینکڑوں انگریزوں عسکری اصطلاحات کے اردو یا فارسی مترادفات سے کنارہ کشی کیوں اختیار کی…… یہ ایک وسیع اور دلخراش باب ہے۔ لیکن اس باب کی تفصیل آج بھی اتنی ہی دلدوز ہے جتنی اس وقت تھی جب ہم پر انگریز مسلط تھا۔ اس نے اپنی حربی حکایات اور جنگی داستانوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ ان کو جاننے کے لئے ہمیں ناچار اس کی تصنیف کردہ انگلش ملٹری ڈکشنری کا سہارا لینا پڑا!

جنرل ہسٹری اور ملٹری ہسٹری میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہم آج بھی ایم اے ہسٹری اور ایم اے جغرافیہ کے امتحانات دیتے ہیں اور ان مضامین کو اپنے تعلیمی اداروں میں تدریس کرتے ہیں …… لیکن ملٹری ہسٹری اور ملٹری جیوگرافی کی تشریح کرنے لگوں تو ایک طویل مقالہ بن جائے گا…… اور اس کو پڑھے گا کون؟…… کوئی پڑھائے گا بھی تو اس کی سمجھ کسے آئے گی؟…… اس کے اساتذہ کہاں ہیں اور اس کے کورسز کدھر ہیں؟ جن قوموں نے ترقی کی ہے ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں، آپ کو معلوم ہو گا کہ انہوں نے اپنی تاریخ بنانے کے لئے سب سے زیادہ جس موضوع کو گلے لگایا وہ ان کی اپنی قومی زبان میں لکھی گئی ملٹری ہسٹری تھی۔ اسی سے ملٹری علوم و فنون کی باقی شاخیں پھوٹیں اور شگوفے کھلے!

ہم نے 6ستمبر کو یومِ دفاع منایا۔ آرمی چیف نے ایک بڑی تقریب سے خطاب کیا، گزشتہ برس کے شہیدوں کی یادیں تازہ کیں اور ان کے لواحقین میں تمغے تقسیم کئے۔ لیکن کیا ان کارناموں کو کبھی احاطہ ء تحریر میں بھی لایاگیا؟ کتنی کتابیں ہم نے اس انسرجنسی پر لکھیں جس میں ہمارے یہ سارے جوان اور آفیسرز شہید ہوئے؟…… دیکھ لینا اگلے برس یہی 6ستمبر 2021ء آئے گا، ہم اسی طرح کی ایک تقریب GHQ میں (آرمی آڈیٹوریم میں) منعقد کریں گے، شہدا کے لواحقین کو اس تقریب میں بلایا جائے گا، شہداء کی خواتین ماؤں،بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کے سر پر دستِ شفقت رکھا جائے گا، ان کو تسلیاں دی جائیں گی، ان میں کچھ چھوٹے بڑے مالی اور مکانی انعامات بھی دیئے جائیں گے…… اور بس…… مجھے حضرت ضمیر جعفری مرحوم کی وہ نظم یاد آ رہی ہے جو انہوں نے کسی یوم اقبال پر سنائی تھی اور جس کا ایک شعر تھا:

بپا ہم سال میں اک مجلسِ اقبال کرتے ہیں 

اور اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوّال کرتے ہیں 

کچھ برس پہلے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ صرف 6ستمبر کو ہی یومِ دفاع منائیں گے اور اس میں 1965ء کی جنگ میں فضائیہ اور بحریہ کے کارناموں کی کوریج بھی ہوگی۔ لیکن اس برس ہم نے اپنی تینوں سروسوں میں ایک بار پھر تقسیم کر دی۔ 7ستمبر کو یومِ فضائیہ منایا گیا اور 8ستمبر کو یومِ بحریہ منایا گیا۔ لیکن پاک بحریہ نے 1965ء کی جنگ میں دوارکا پر جو ایکشن کیا گیا تھا کیا اس کی کہانی بھی کسی کتاب میں (اردو زبان میں) شائع کی؟ ہماری 95%آبادی اردو سمجھتی ہے۔ لیکن جدید بحریہ کی زبان اردو نہیں۔ ہم نے اپنے ملاحوں (Sailors) اور افسروں کو انگریزی میں ٹریننگ دینے کا اہتمام کر رکھا ہے۔ پاکستان بحریہ پر کوئی ایک کتاب بھی اردو میں نہیں لکھی گئی حالانکہ بحری امور کے بارے میں ہماری بحریہ کے اربابِ اقتدار جو بات چیت کرتے ہین، وہ ساری اردو میں ہوتی ہے۔ لیکن جب بحریہ کے ٹیکنیکل اور پروفیشنل امور پر بات کی جاتی ہے تو اس کی ساری اصطلاحات (Terminology) تو انگریزی زبان میں ہے۔ ہم نے اس اختلافی عمل (Anamaly)کا کیا علاج کیا ہے؟

اگلے روز ایک معروف ٹی وی چینل نے بظاہر ایک گھنٹے کے دورانیئے کا ایک پروگرام پاک بحریہ کے ایک آپریشن پر آن ائر کیا۔ لیکن اس پروگرام میں ہر سات آٹھ منٹ کے بعد سترہ اٹھارہ منٹ کی کمرشلز پر مشتمل ایک ریل (Real) چلا دی جاتی تھی…… یعنی نام بحریہ کا اور کام اپنی جیب بھرنے کا!!…… ایک اینکر کو ایک جنگی شپ پر دکھایا گیا (نام لینا مناسب نہیں ہوگا)…… ایک لیفٹیننٹ کمانڈر (فوج میں میجر کے برابر) اور ایک کمانڈر (فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے برابر)کو سکرین پر لا کر اس جہاز پر بریفنگ دیتے دکھایا گیا۔ جہاز (Ship) کا نام ذوالفقار تھا۔ تعارفی کلمات میں بتایا گیا کہ اس وارشپ پر مختلف آپریشنوں کی تفصیل بتائی جائے گی اور اس کے ساتھ ہی اس آپریشن کے زندہ (LIVE)حصے بھی دکھائے جائیں گے۔

لیکن جو کچھ ناظرین کو دکھایا گیا اس میں اس شپ (ذوالفقار) کے بالائی عرشے پر بنے ایک ہیلی پیڈ پر ایک ہیلی کاپٹر کے اترنے کی مشق(ایکسرسائز) تھی اور ساتھ ہی اس میں ذوالفقار سے تیل بھرنے کی کارروائی بھی دکھائی گئی۔ اس سے پہلے دشمن کے کسی وارشپ کو اپنے وارشپ کے قریب آنے سے روکنے کا عمل بھی دکھایا گیا کہ کس طرح اس ’دشمن‘ جہاز کو خبردار کیا جاتا ہے کہ ایک حد سے آگے نہ بڑھو اور اگر بڑھے تو گرفتار کر لئے جاؤ گے۔ بحریہ کا یہ مشن دشمن کی ایک آبدوز کو زیرِ آب ٹریک کرنے اور ڈیپتھ چارج  (Depth Charge)مار کر آبدوز کو غرق کرنے کا ٹاسک بھی تھا۔

لیکن جس آفیسر نے ٹی وی اینکرز کو اس مشن کی بریفنگ دی وہ اگرچہ اردو میں تھی لیکن اس میں انگریزی اصطلاحات بکثرت استعمال کی گئیں جن کے معانی اور مفہوم کا اندازہ کسی بھی سویلین کو نہ تھا…… سوال یہ ہے کہ جب تک نیول ہیڈکوارٹر ایک ایسی ڈکشنری شائع کرنے کا انتظام نہیں کرے گا جس میں نیول وار فیئر کی جملہ اصطلاحات کی تشریحات (اردو میں) ہوں گی تب تک کسی ٹی وی چینل کو دعوت دے کر اس قسم کے جدید نیول وار آپریشنز دکھانے کا عمل بالکل رائیگاں اور بے فائدہ ہوگا…… کیا پاک نیوی کے اربابِ اختیار اس طرف توجہ فرمائیں گے؟…… (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -