چڑیا گھر کے مالی حالات دگرگوں، ناقص خوراک سے جانور لاغراور کمزور، شائقین مایوس 

چڑیا گھر کے مالی حالات دگرگوں، ناقص خوراک سے جانور لاغراور کمزور، شائقین ...

  

  

 لاہور(افضل افتخار، تصاویر، ندیم احمد)لاہور چڑیا گھر کے جانوروں اور پرندوں کی مشکلات بڑھنے لگیں،چڑ یا گھر کی انتظامیہ غفلت اور کرپشن کے گرداب میں اسی گھری کہ کئی ماہ بند رہے چڑیا گھر کے مکینوں کی صحت اور حالات مزید خراب ہوگئے،جانوروں کی خوراک اور ماحول میں فطرت سے دوری اور خوراک کے ٹھیکوں میں گھپلوں نے جانوروں کو لاغر کردیا،کورونا کے دنوں میں بند رہنے کے بعد چڑیا گھر کھلنے سے لاہور اور گردو نواح سے آئے شائقین کو چڑیا گھر میں لاغر جانور اور بجھے ہوئے پرندے نظر آئے۔روز نامہ پاکستان کوذرائع نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے بند چڑیا گھر میں انتظامیہ نے کرپشن کو اپنے عروج پر پہنچایا اور جانو رجیتے جی ہی مر گئے کیونکہ نہ ہی کوئی پوچھنے والا تھا اور نہ ہی دیکھنے والا ملک میں تبدیلی تو آگئی مگر چڑیا گھر کے بے زبان جانوروں کو زندگی کے لالے پڑگئے شیروں کی حالت یہ ہے کہ جیسے بیمار اور لاغر ہوں کیونکہ شیروں کو دئیے جانے والے گوشت اور اس کی مقدار پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں، نہ صرف کرونا کی وجہ سے آمدن کو بریک لگی مگر انتظامیہ نے اپنی کرپشن میں کوئی کمی نہیں کی اب شائقین کو بھوکی نظروں سے دیکھتے جانور سوال کرتے ہیں کہ ہم سے لاہور چڑیا گھر کی انتظامیہ کون سا بدلہ لے رہی ہے۔ روز نامہ پاکستان نے کورونا وباء کے بعد چڑیا گھر اور یہاں آنے والے شائقین کا سروے مرتب کیا تو چونکا دینے والے انکشاف سامنے آئے حالانکہ اسلام آباد چڑیا گھر میں شیر کی موت کے بعد بھی لاہور چڑیا گھر کی انتظامیہ پر کوئی اثر نہیں ہوا حبس اور بارش کے بعد چڑیا گھر میں صفائی کی صورتحال بھی پریشان کن حد تک خراب ہے گوجرانوالہ کے عارف نے بتایا کہ  جانوروں کی حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور مایوس ہیں ٹی وی پر جنگلی جانور دیکھنے والے بچے کہتے ہیں یہا ں تو بیمار اور لاغر جانور کیوں رکھے ہیں۔ بچے عتیق نے کہا کہ کاش میں یہاں نہ آتا انکل نے شیرو ں کو بہت گندا گوشت کھانے کو دیا ہے ایک شہری ماجد نے بتایا کہ دس سال بعد میں چڑیا گھر آیا ہو ں دل پریشان ہے کہ چڑیا گھر میں جانوروں کے یہ حالات ہیں،  راشد نے بتایا کہ چڑیا گھروں والوں کے لئے زندہ جانوروں کی نسبت مرے ہوئے جانور زیادہ عزیز ہیں کیونکہ مرے ہوئے جانوروں کی کھالیں وزیروں، مشیروں اور افسران کو تحفہ میں دی جاتی ہیں جبکہ اسی آڑ میں مرنے والے ہرنوں، بارہ سنگھا حتی کہ شیروں کی کھالیں یہاں سے بیچی جاتی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، ننکا نہ صاحب سے آئی خاتون راحیلہ نے چڑیا گھر کے حالات و انتظامات پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاش چڑیا گھر کی انتظامیہ سے کوئی پوچھنے والا ہو سیالکوٹ سے آئے عامر غفور نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  یہاں آکر بہت تکلیف ہوئی ہے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں چڑیا گھر کے جانوروں کے یہ حالات ہیں نہ پوری خوراک اور نہ ہی ان کے لئے موزوں ماحول بے چارے جانور یہاں صرف زندگی کے دن پورے کررہے ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاہور چڑیا گھر کے حالات پر کوئی کمیشن بنایا جائے تو بہت بڑی کرپشن اور چشم کشا انکشافات سامنے آئیں گے یہاں کیا ظلم کا بازار گرم ہے محکمہ کے اعلیٰ افسران اور مشیر وزیر تو خوش ہیں مگر بے زبان قید جانوروں پر زندگی تنگ کرکے ہم اللہ کے عذاب کو دعوت تو نہیں دے رہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -