خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم قرضہ مل رہا ہے: سینیٹ خزانہ کمیٹی کا انکشاف

  خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم قرضہ مل رہا ہے: سینیٹ خزانہ ...

  

  اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں انکشاف ہوا ہے کہ خیبر پختونخوا کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم قرضہ مل رہا ہے کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں قرضوں کی تقسیم پر گورنر سٹیٹ بینک کو طلب کرلیا اور ہدایت کی کہ کمرشل اور کمیونٹی بینکوں کی تفصیلات بھی سٹیٹ بینک فراہم کرے کمیٹی نے  سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ایف ای ڈی کی وصولی پرفاٹا میں فیکٹریوں کی تعداد اور ایف ای ڈی سے موصول ہونے والی رقم کی تفصیلات آئندہ اجلاس میں طلب کرلیں کمیٹی نے ضمنی گرانٹس کو قرارداد کی بجائے منی بل میں شامل کرنے کی سفارش کر دی جبکہ وزارت خزانہ کو ضمنی گرانٹس پر وضاحتی دستاویز پیش کر نے کی بھی ہدایت کر دی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا،اجلاس میں کمیٹی ارکان کے علاوہ وزارت خزانہ،ایف بی آر کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے سیمنٹ کلنکر پر 2 روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کے معاملے پر غور کیا گیا ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سیمنٹ پر فی کلو 1 روپیہ50 پیسے ایف ای ڈی  عائدکردی گئی ہے،کوئٹہ میں کلنکر درآمد کیا جاتا ہے اور وہ چاہتے ہیں اس پر ایف ای ڈی ختم کی جائے کمیٹی رکن سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ کیش فلو کا ایشو ہے ایف بی آر بتائے کہ ایڈجسٹ کتنے وقت میں کیا جاتا ہے،جس پر ایف بی آر حکام نے بتایا کہ یہ ماہانہ بنیادوں پر ایڈجسٹ ہوجاتا ہے کمیٹی میں سینیٹر شیری رحمان کی جانب سے وفاقی حکومت کی جانب سے ضمنی گرانٹس کے اجرا کی روک تھام کیلئے آئینی ترمیمی بل پر بھی غور کیا گیا   222 ارب روپے سے زائد کی ضمنی گرانٹ گزشتہ سال جاری کی گئیں اس حوالے سے آئین کی شق 84 میں ترمیم ضروری ہے سپیشل سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے ضمنی گرانٹ بند کردی ہیں اب کورونا سے نمٹنے کیلئے ضمنی گرانٹ جاری کی جائیگی زارت خزانہ حکام نے بتایا کہ اب ضمنی گرانٹ کابینہ کی منظوری سے جاری کی جاتی ہے۔ چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ گرانٹ جاری کرنے کی منظوری پارلیمان سے لازم ہے کمیٹی رکن سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایمرجنسی صورتحال میں پارلیمان سے منظوری لیکر ضمنی گرانٹ خرچ کرنا ممکن نہیں  وزارت خزانہ ضمنی گرانٹ پر وضاحتی دستاویز پیش کرے اجلاس میں وزارت خزانہ اور وزارت سے متصل محکموں میں بلوچستان کے ملازمین کے کوٹہ کے معاملہ پر بھی غور کیا گیا۔ سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہا کہ وزارت خزانہ اور متصل محکموں میں بلوچستان کے ملازمین کوٹہ سے کم ہیں، سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ اس پر 5 سال کی رپورٹ کے بجائے زیادہ عرصے کا ڈیٹا دیا جائے جس پر کمیٹی نے  بلوچستان کے آفیسرز سے متعلق رپورٹ پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو طلب کرلیا کمیٹی نے وزارت خزانہ سے 5 سال میں دیگر بھرتی کئے گئے ملازمین کی رپورٹ بھی طلب کرلیں کمیٹی اجلاس میں فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ایف ای ڈی کی وصولی پر بھی غور کیا گیا۔سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ انضمام کے بعد فاٹا کے علاقوں میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نہیں ہونی چاہیے کمیٹی رکن سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو پورے ملک کے مقابلے میں صرف 1.05 فیصد قرضہ مل رہا ہے،5 بڑے بینکوں کے حکام کو اس اجلاس میں بلایا جائے۔ سینیٹر مصدق ملک نے کہا کہ بینکوں کو ڈیپازٹ اور قرضوں کی تفصیل دینا ہوگی۔کمیٹی نے اگلے اجلاس میں قرضوں کی تقسیم پر گورنر سٹیٹ بینک کو طلب کرلیا اور ہدایت کی کہ کمرشل اور کمیونٹی بینکوں کی تفصیلات بھی سٹیٹ بینک فراہم کرے۔

 قائمہ کمیٹی برائے خزانہ

مزید :

صفحہ آخر -