معاون خصوصی عارف احمد زئی کا  مہمند ماربل مائنز جائے حادثہ کا دورہ

  معاون خصوصی عارف احمد زئی کا  مہمند ماربل مائنز جائے حادثہ کا دورہ

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی نے منگل کے روز علی الصبح ضلع مہمند میں واقع زیارت ماربل مائنز حادثہ کی جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر معاون خصوصی کے ہمراہ ضلع مہمند سے منتخب ممبر قومی اسمبلی ساجد مہمند اور ڈائریکٹر جنرل مائنز اینڈ منرلز خیبرپختونخوا حمیداللہ بھی تھے۔معاون خصوصی عارف احمدزئی نے جائے حادثہ کا تفصیلی دورہ کیا جبکہ وہاں پر جاری آپریشنز اور دیگر چیلنجز کے حوالے سے محکمہ معدنیات اور ریسکیو حکام نے معاون خصوصی کو تفصیلی بریفنگ دی۔ معاون معدنیات اس موقع پر مقامی لوگوں سے ملے اور ان سے حادثے کے حوالے سے گفتگو کی۔جائے وقوعہ پر موجود میڈیا پرسنز سے بات چیت کرتے ہوئے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے کہا کہ جائے حادثہ پر آپریشن بہترین انداز سے جاری ہے۔ امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی غرض سے چیف انسپکٹر آف مائنز خیبرپختونخوا فضل رازق کل سے یہاں پر موجود ہیں۔ تاکہ امدادی کارروائیوں سے متعلق کوئی شکایت سامنے نہ آئے۔حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے معاون معدنیات عارف احمدزئی نے کہا کہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر حادثہ راک سلائیڈنگ کے باعث ہوا۔ مذکورہ ماربل کان کو پہلے سے خطرناک ڈکلیئر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماربل کان میں کوئی مائننگ کا کام نہیں ہو رہا تھا۔واقعے پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے کہا کہ جائے حادثہ پر مقامی لوگ چھوٹے پتھر اکٹھا کرنے آئے تھے۔ جبکہ حالیہ برساتی بارشوں نے مذکورہ کان کو مزید نرم کر دیا تھا جس کے باعث راک سلائیڈنگ کا حادثہ سامنے آیا۔ جو انتہائی افسوس ناک ہے۔مقامی لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے کہا کہ مذکورہ جگہ اب خطرے سے خالی نہیں ہے۔ مقامی لوگ جائے حادثہ پر جانے سے گریز کریں کیونکہ مزید راک سلائیڈنگ بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام محکمہ معدنیات کی جانب سے بند کی گئی کان پر نہ جائیں اور نہ ادھر کام کریں۔اس موقع پر معاون معدنیات عارف احمدزئی کو بتایا گیا کہ اب تک 19 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔ جبکہ مزید لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ اسی طرح سات افراد زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دئیے گئے ہیں۔زخمیوں کو ریلیف دینے کے حوالے معاون خصوصی عارف احمدزئی نے کہا کہ زخمیوں کو تمام تر ریلیف فراہم کیا جارہا ہے جبکہ ملبے کے اندر دبے افراد کو ہر صورت پر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ریسکیو، ضلعی انتظامیہ، ہسپتال سمیت تمام متعلقہ حکام ریسکیو کاروائی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں محکمہ معدنیات کان کنوں کی فلاح وبہبود کے لیے سرگرم ہے اور جانی و مالی نقصان سے دوچار خاندانوں کی بھرپور مدد کی جائے گی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -