ایبٹ آباد،ڈی آئی جی کی  تمام ڈی پی او ز کو کھلی کچہری  منعقد کرنے کی ہدایت

ایبٹ آباد،ڈی آئی جی کی  تمام ڈی پی او ز کو کھلی کچہری  منعقد کرنے کی ہدایت

  

ایبٹ آباد(نامہ نگار)ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ ریجن قاضی جمیل الرحمن نے ہزارہ ریجن پولیس کو ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ڈی پی اوز ”عوام رابطہ مہم“کو فروغ دینے کیلئے ایک ماہ میں ایک دفعہ عام عوام کے ساتھ کھلی کچہری کریں  گے، جبکہ علماء کیساتھ دو ماہ میں ایک دفعہ،ٹریڈرز کیساتھ تین ماہ میں ایک دفعہ، اقلیتی رہنماؤں سے مہینہ میں ایک دفعہ، تعلیمی اداروں کے سربراہان و طلباء سے مہینہ میں ایک دفعہ اور پبلک لیزان کونسلز کے عہدیداران و ممبران سے تین ماہ میں ایک دفعہ میٹنگ کا انعقاد کریں گے۔ اس طرح ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ او ز عام عوام سے مہینہ میں ایک کھلی کچہری کریں گے،علماء اور ٹریڈرز اور پبلک لیزان کونسلز کے عہدیداران و ممبران سے مہینہ میں ایک دفعہ میٹنگ کا انعقاد کریں گے جبکہ مساجد اور تعلیمی داروں کا پندرہ دن میں ایک دفعہ دورہ کریں گے اور مساجد کے خطیب حضرات و سکول کالجز کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے جبکہ صحافی برداری اور ضلعی بار کونسل کے عہدیداران و ممبران سے روابط کو مزید مستحکم کیا جائے اور وقتاً فوقتاً ان سے بھی میٹنگ کا انعقاد کرتے ہوئے انکی جانب سے دی جانیوالی تجاویز پر عملدرآمد کروایا جائے۔ تاکہ عوام اور پولیس کے درمیان دوریوں کو دور کیا جا سکے اور عام لوگوں کا پولیس پر اعتماد بحال ہو سکے۔ڈی آئی جی ہزارہ نے کہا کہ”عوام رابطہ مہم“ سے عوام دوست پولیس کو فروغ ملے گا پولیس افسران اپنے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے جائز مسائل کو حل کریں گے، ڈی پی او پولیس اور عوام میں باہمی اعتماد و تفاق کے قیام کیلئے کام کریں تاکہ عوام کا پولیس پر اعتماد مزید مستحکم ہوسکے۔ تھانہ سطح پر معززین علاقہ، سیاسی و سماجی قائدین، علماء اور دیگر سوشل ورکرز کیساتھ روابط کو تیز کیا جائے تاکہ جرائم کے خاتمہ اور قیام امن کیلئے ان کی مدد حاصل کی جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسطرح پولیس افسران کو عام عوام کی جانب سے محکمہ پولیس کے حوالے سے درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل ہوگی اور وہ ان کو حل کرنے کیلئے بہتر اقدامات اٹھا سکتے ہیں، جرائم پیشہ افراد کی انفارمیشن، کسی بھی سنگین مقدمات میں شواہد اکھٹے کرنے اور دیگر اہم معلومات کی فراہمی میں بھی”عوام رابطہ مہم“ کارآمد ثابت ہوگی۔ عام لوگوں کوعلاقائی مسائل و دیگر چھوٹے موٹے  تنازعات  کے حل کیلئے تھانہ سطح پر ہی انصاف کی فراہمی ممکن ہوجائے گی۔ جرائم کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور لوگوں کو پولیس کی جانب سے جانی و مالی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا،  ڈی پی اوز اور ایس ڈی پی اوز کھلی کچہریوں اور پبلک میٹنگ کے دوران عوام کی جانب سے دی جانیوالے تجویز پر غور کرتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کیلئے دی جانیوالے تجویز پر عملی کام کریں اور عوامی شکایات کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ پولیس کے اندر پائی جانیوالے خامیوں کو بھی دور کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائے تاکہ پولیس و عوام مل کر معاشرے کی بہتری کیلئے کام کرسکیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -