اپوزیشن پھر سے سر گرم اے پی سی میں مکمل اتحاد حکومت کے لئے پریشانی کا سبب ہو گا

اپوزیشن پھر سے سر گرم اے پی سی میں مکمل اتحاد حکومت کے لئے پریشانی کا سبب ہو ...

  

اسلام آباد سے سہیل چودھری

کراچی میں بارشوں نے جو تباہی مچائی اگرچہ وہ پاکستان کی تاریخ میں بے مثال ہے۔بارشوں کے نئے نئے ریکارڈ قائم ہوئے اس آفت کی وجہ ریکارڈ بارشیں تھیں یا ہمارا طرز حکمرانی، سندھ کی شہری  آبادی میں سیاسی کھینچا تانی یا پھر سندھ اور وفاق کے مابین مسلسل سیاسی نفاق، وجوہات جو بھی ہوں اس بار اس آفت سے وفاقی دارالحکومت بھی ہل کر رہ گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے لے کر وزیراعظم عمران خان کو بھی سندھ کی مدد کے لئے میدان میں آنا پڑا حتیٰ کہ اپوزیشن رہنما میاں شہبازشریف کو بھی کراچی کا دورہ کرنا پڑا۔ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کراچی کی دگرگوں صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے، تاہم افسوسناک  امر ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کراچی کے عوام بارشوں کے باعث سیلاب،  شدید مشکلات کا شکار ہیں لیکن وفاق اور سندھ کے مابین مطلوبہ ہم آہنگی کے بجائے خوب پوائنٹ سکورنگ ہو رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلزپارٹی ایک دوسرے پر طنز و طعن کے نشتر چلا رہی ہیں ہر سٹیک ہولڈر اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ الاپ رہا ہے، تاہم سب سے پہلے وفاق سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی کا تفصیلی جائزہ لیا اور وہاں جا کر مختلف شعبوں سے مل کر صورت حال پر غور و خوض کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے تاجروں اور صنعتکاروں سے بھی ملاقاتیں کیں۔ کراچی میں آفت کا فضائی جائزہ بھی لیا، جبکہ انہوں نے یہ بیان دے کر کہ اگر ملک کے کسی بھی شہر میں اس قدر بارشیں ہوئیں تو وہاں بھی صورت حال قابو سے باہر ہو سکتی تھی کے ذریعے سندھ حکومت کی ڈھارس بندھائی۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایسا کوئی موقع گنوائے بغیر نہیں رہ سکتی کہ سندھ حکومت پر تنقید نہ کرے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سندھ اور کراچی کے شہریوں کی مدد کے اس موقع پر خوب سیاست ہو رہی ہے۔ بلاشبہ وزیراعظم عمران خان کراچی میں بحالی کے اقدامات اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے لئے ایک بھاری پیکیج لے کر کراچی گئے لیکن اس پیکیج میں بھی سیاست کا رنگ خاصا گاڑھا نظر آتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز واضح طور پر کہہ رہے ہیں کہ اعتماد کے فقدان کی بناء پر سندھ حکومت کو پیسے نہیں دیئے جبکہ سندھ حکومت بھی کسی سے کم نہیں، مرتضیٰ وہاب کہہ رہے ہیں کہ مرکز کی نیت پر شک ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ مرکز اور سندھ کے مابین اس سیاسی کراس فائرنگ سے عام شہری کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔

 دارالحکومت میں اپوزیشن نئی اور تازہ صف بندی کرتی نظر آ رہی ہے۔ حکومت کے خلاف ایک جامع لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے اے پی سی کی تیاریاں ہو رہی ہیں اسلام آباد میں اس کی میزبانی پی پی پی کرے گی۔ اس تناظر میں اگرچہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو فوری طور پر تو کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا لیکن اگر اپوزیشن کسی وسیع تر اتحاد کی کسی ٹھوس ایجنڈے کے ساتھ تشکیل کے لئے کوئی اہم پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حکومت کے لئے سیاسی چیلنجز میں اضافہ ہوگا جبکہ حکومت پہلے ہی پارلیمنٹ میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر شدید مشکلات کا شکار نظر ا رہی ہے اس حوالے سے آئندہ پارلیمنٹ کا اجلاس بھی خاصا ہنگامہ خیز ہوگا تمام سیاسی مبصرین کی نظریں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون سازی پر لگی ہوئی ہیں اس حوالے سے آئندہ آنے والے دن اہم ہوں گے۔خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال کے حوالے سے اس بار یوم دفاع اور یوم فضائیہ بھرپور جوش و جذبہ سے منایا گیا۔ جی ایچ کیومیں منعقدہ تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی افسروں اور جوانوں کو نمایاں کارکردگی پر اعزازات دیئے جبکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی ایوان صدر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں سول و فوجی افسران اور زندگی کے دیگر شعبوں میں کلیدی کردار ادا کرنے والی شخصیات کو سول ایوارڈ سے نوازا۔ کورونا کے تناظر میں زندگی کو معمول بلکہ نئے معمول کے تحت لانے کے لئے اہم فیصلہ سازی ہو رہی ہے اس میں سے اہم ترین شعبہ سکولوں اور تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق فیصلے ہوئے ہیں۔  15ستمبر سے میڑک سے یونیورسٹی سطح کے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ چھوٹے بچوں کے لئے مرحلہ وار تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم چھوٹے بچوں کے حوالے سے والدین کے خاصے تحفظات ہیں، کورونا کے دوبارہ پھیلنے کا اندیشہ موجود ہے کیونکہ عوام بالعموم احتیاطی تدابیر کے حوالے سے زیادہ حساس نہیں ہیں جس کی بدولت بے احتیاط لوگوں کے باعث احتیاط کرنے والے بھی کورونا کاشکار ہو سکتے ہیں اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ تمام سکول احتیاطی تدابیر پر کلی طور پر عمل درآمد کرائیں گے۔ اس حوالے سے آئندہ سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ کورونا کی بدولت دارالحکومت کے سفارتی حلقوں میں ابھی کوئی گرما گرمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ دارالحکومت میں ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل جوکہ ایک سابقہ صحافی تھے کی گمشدگی کے حوالے سے بہت تشویش پائی جاتی ہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس پر نوٹس لیا ہے چیئرمین مسنگ پرسن کمیشن جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے۔ بھارت کی جانب سے مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ہو رہی ہے جس پر دفتر خارجہ میں بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ بھی دیا گیا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -