تحفظ ناموس رسالت ؐ، عالمی قانون سازی کی جائے: لیاقت بلوچ

تحفظ ناموس رسالت ؐ، عالمی قانون سازی کی جائے: لیاقت بلوچ

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر) ملی یکجہتی کونسل سندھ کے تحت قباء آڈیٹوریم میں مرکزی صدر صاحبزادہ ابوالخیر زبیر کی زیر صدار ت اتحادامت- وقت کا تقاضہ کے موضوع پر منعقدہ کل جماعتی کانفرنس میں شریک ملک کی مختلف مذہبی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان دیگر ممالک کی حکومتوں کے تعاون سے اسلامی وزرائے خارجہ کی کانفرنس (OIC) اور اقوام متحدہ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تحفظ ناموس رسالت کو یقینی بنانے کیلئے قانون سازی کیلئے بھرپور کام کرے۔ اجلاس فرانس میں شائع ہونے والے توہین رسالت آمیز خاکوں و مواد اور ناروے و سوئیڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات کی پر زور مذمت کرتا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ناروے سوئیڈن و فرانس کی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ اپنے ہاں شائع ہونے والے جرائد اور ان سے وابستہ افراد کو توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اوردل آزار واقعات کو روکے۔ ان کی حمایت میں صدر فرانس کے حالیہ بیان کی بھرپور مذمت کرے اور واپس لینے کا پر زور مطالبہ کرے تاکہ مذہبی منافرت کا خاتمہ ہو اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے۔ پاکستان کو فرقہ واریت کی طرف دھکیلنے کی ہر سازش ناکام بنانے کا عہد کرتاہے اور ملک بھر کے تمام مسالک کے علماء و مشائخ سے اپیل کرتا ہے کہ اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اے پی سی میں موجود تمام مسالک کے علماء انبیاء علیھم السلام، امھات المومنین، اہلبیت اطہار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام، خلفائے راشدین اور مقدسات دین کے احترام کو فروغ دیں گے اور ان کی اہانت سے اظہار برأت کرتے ہیں۔ جس انداز میں اسلام دشمن قوتوں نے عراق، شام، یمن، لیبیا اور دیگر خطوں میں سنی شیعہ کے نام پر کلمہ گو مسلمانوں کو آپس میں لڑوایا، پاکستان کے علماء و مشائخ اور دینی اکابرین ہرگز اس قاتل فکر کو پاکستان میں پنپنے کا موقعہ نہیں دیں گے۔ماضی قریب کے دو تین عشروں تک وطن عزیز میں فرقہ وارانہ شدت پسندی اور تصادم کے مظاہر دیکھنے میں آئے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی افراتفری اور فرقہ واریت کی آگ کو پھیلنے سے روکنے کیلئے قائد ملت اسلامیہ علامہ شاہ احمد نورانی صدیقیؒ، قاضی حسین احمدؒ،علامہ ساجد نقوی، مولانا سمعی الحقؒ، مولانا فضل الرحمن، علامہ ساجد میر اور دیگر زعمائے ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے اہم نکات مرتب کر کے دینی قوتوں کو نہ صرف متحد کیا بلکہ دین دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آج کے تمام پیدا شدہ مسائل کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کریں گے۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک میں فرقہ واریت کو پنپنے کا موقعہ نہ دے۔ اشتعال انگیزی اور مذہبی افراتفری پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دے۔ نیزمذہبی تنظیمات سے وابستہ افراد کے خلاف بے جا مقدمات قائم کرنے اور ان کو ہراساں کرنے سے گریز کرے۔ہم عامۃ المسلمین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی مذہبی گروہ، جماعت یا فرد کی کسی تقریر، تحریر وغیرہ پر جو ان کے خیال میں ان کے نظریے کے خلاف ہو مشتعل ہونے کے بجائے علماء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کریں اور کسی بھی واقعے کو مشتعل اندازمیں پھیلانے سے گریز کریں۔ہم یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ اختلافی مذہبی معاملات کو پولیس اور عدالتوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے کیونکہ ان کے پاس حساس معاملات کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ان معاملات کو انتظامیہ براہ راست فیڈرل شریعت کورٹ، سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بنچ ب یا اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجے اور ایسے معاملات کے حل کیلئے مذکورہ اداروں میں تمام مکاتب فکر کے مستند، ثقہ اور معتمد علما کو فائز کیا جائے۔ تاکہ افراتفری کے بجائے معاملات کا حل نکالا جاسکے۔ سوشل میڈیا اور الیکڑانک و پرنٹ میڈیا پر دل آزار مذہبی گفتگو، تحریریں اور مباحثے عام کرنے سے گریز کیا جائے اور میڈیا پر وہ گفتگو کی جائے جو تمام دینیطبقات کیلئے قابل قبول ہو۔

مزید :

صفحہ آخر -