جنوبی پنجاب سے وزرا اور وزیر اعظم اور  صدر بھی ہوئے لیکن مسائل جوں کے توں

جنوبی پنجاب سے وزرا اور وزیر اعظم اور  صدر بھی ہوئے لیکن مسائل جوں کے توں

  

ملتان سے شوکت اشفاق

جنوبی پنجاب سمیت ملتان کے سیاستدانوں کا المیہ یہ ہے کہ مقامی آبادی کے ووٹوں سے وزارت عظمیٰ اور صدارت سے لے کر وزارت تک تو پہنچ گئے لیکن یہاں کی پس ماندگی کیلئے وہ کام نہ کرسکے جو اس خطے کی ضرورت تھی،یہی وجہ رہی کہ یہاں آج بھی پس ماندگی نظر آتی ہے مسائل ہیں کہ حل ہونے کی بجائے بڑھتے جارہے ہیں یہ بھی نہیں کہ یہاں کے ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز مختص نہیں ہوئے جو ہوئے ان پر چیک اینڈ بیلنس نہ ہوسکا نتیجہ سامنے ہے کہ ان فنڈز کے استعمال کرنے اور کروانے والوں پر نیب سے لے کر اینٹی کرپشن تک میں بے شمار ایسے مقدمات ہیں جو تحقیقات طلب ہیں لیکن باوجوہ یہ تمام فائلیں بند ہیں،توقع تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت ان اہم مقدمات کی تحقیقات کروائے گی مگر محسوس ہوتا ہے کہ ان کے بس کی بھی بات نہیں رہی۔اب اور کون آئے گا یا ہوگا جو ایسی جرات کا مظاہرہ کرے اور ترقیاتی فنڈز کو دیمک کی طرح کھانے والوں کیخلاف کوئی کارروائی کا آغاز کرے۔اب صرف ملتان کو ہی دیکھ لیں کہ پیپلز پارٹی کے سابقہ دور میں جب سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے تو انہوں نے شہر کے دیرینہ سیوریج کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اربوں روپے کے فنڈز دئیے تھے جس سے یہ امید بند ھ چلی تھی کہ شاید اب کم ازکم نکاسی آب کا ایک مسئلہ تو حل ہوگا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور اُس وقت واسا میں تعینات سرکاری اہلکاروں نے ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر ایک طرف تو ناقص میٹریل استعمال کیا جبکہ دوسری طرف ایسے کاموں کی ادائیگیاں بھی کردی گئیں جو کام سرے سے مکمل ہی نہیں ہوئے تھے اور یہ کوئی معمولی رقم بھی نہیں تھی بلکہ 4ارب سے زیادہ کا فنڈ تھا جوکہ کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا اور اس سے مستفید ہونے والے سرکاری اہلکار اور ٹھیکیدار اب ملتان میں نہیں بلکہ غیر ملک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔شنید تھی کہ ان کے خلاف کارروائی ہورہی ہے مگر اس کیلئے ملتان کے ارکان اسمبلی کو آواز اٹھانی چاہیے کیونکہ شہر میں سیوریج کے مسئلہ نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھانا شروع کردیا ہے،خصوصا برسات کے دنوں میں اکثر علاقے ندی نالے کا منظر پیش کرتے ہیں۔وفاقی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اس مرتبہ فنڈز لانے کا عندیہ دیا ہے لیکن یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر وہ انہی کاموں کیلئے دوبارہ فنڈز لارہے ہیں تو کم ازکم ذمہ دار سرکاری اہلکاروں سے اس حوالے سے انکوائری ضرور کریں یا پھر متعلقہ محکمہ کو سیاسی مداخلت کے بغیر تحقیقات کرنے دیں تاکہ اب کی مرتبہ جو فنڈز آرہے ہیں وہ صیحح جگہ استعمال ہوسکیں کیونکہ وفاقی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ٹیک آف کرلیا ہے اب سہولتوں کی فراہمی اور عوام کو ریلیف دینے کا وقت آن پہنچا ہیے۔

حکومت آئی پی پیز کے معاہدے ریوائز کرنا چاہتی ہے تاکہ بجلی کے نرخو ں میں کمی لائی جاسکے،سولر انرجی پراجیکٹس پر کام ہورہا ہے،ہائیڈل اور ونڈ پاور پراجیکٹس پر کام جاری ہے جو مستقبل میں سستی بجلی حاصل کرنے کا ذریعہ ہوں گے۔ انہوں نے کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے وزیر اعظم کے پیکیج کو تاریخی قرار دیا جس سے اس انڈسٹری کو فروغ،روزگاراور عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا۔مخدوم شاہ محمود قریشی نے 15اکتوبر سے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ مکمل طور پر فعال ہونے کا بھی بتایا کہ ملتان میں دفاتر اور سیکرٹریز کی رہائش گاہیں تعمیر ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ادھر پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ میں 12محکموں کے سیکرٹریز کی تعیناتی کو خطے کی انتظامی خود مختاری قرار دینے کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کوہ سلمان کے علاقے میں چار چھوٹے ڈیمز کی تعمیر پر ابتدائی کام کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد رودکوہیوں میں پانی کے ضیاع کو روکنا ہے،یہ تمام اقدام جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی جانب سنجیدہ اقدامات ہیں اور یہاں کے عوام کو ان کے مسائل کا حل ان کی دہلیز پر ملے گا۔

 جنوبی پنجاب میں دریائے سندھ اور چناب کے سیلابی پانی نے بیٹ کے علاقوں میں تباہی مچائی ہوئی ہے،کچہ کے علاقوں میں فصلوں میں پانی آنے سے سینکڑوں ایکڑ مونگ،چاول اور چارے کی فصلات تباہ ہورہی ہیں جبکہ بدل واہ پر اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کیا گیا بند ٹوٹ گیا،بند ٹوٹنے کی وجہ سے موضع بیٹ پرارہ،بیٹ دیوان،چوہان،دین محمد ڈاہر،مڈ دولت شاہ سمیت دیگر مقامات کے بیشتر علاقوں میں دریا کا پانی آنے کے بعد منچن بند سے ٹکرایا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے ضلعی حکومتوں کا کہنا ہے کہ دریا کے پانی میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے جس کے باعث صورتحال بہت جلد ٹھیک ہوجائے گی۔ اس سب کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں دریاؤں میں ہر سال اسی موسم میں سیلاب کا پانی ہزاروں لوگوں کو متاثر کرتا ہوا گزر جاتا ہے مگراس کا پائیدار حل آج تک نہیں نکل سکا آخر کب تک خطہ کے باسی اپنا سب کچھ سیلابی پانی کی نظر کرتے رہیں گے؟۔

ادھرپنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں بلدیاتی اداروں کیلئے انتخابات کرانے کا اعلان کردیا ہے اور اس حوالے سے پہلے مرحلے کیلئے ویلج کونسل اور نیبر ہڈ کونسل کیلئے 4دسمبر کی تاریخ فائنل کرکے الیکشن کمیشن کو بھی بھجوا دی گئی ہے،پہلے مرحلے کے انتخابات کے نتیجہ میں 27ہزار افراد بلدیاتی سسٹم کا حصہ بنیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں تحصیل کونسل اور میٹرو پولٹن کے انتخابات جنوری میں ہوں گے جس کی حتمی تاریخ کافیصلہ نہیں ہوسکا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنوبی پنجاب سے وزرا اور وزیر اعظم اور  صدر بھی ہوئے لیکن مسائل جوں کے توں،

وزیر خارجہ   شاہ محمودنے خوشخبریاں سنا دیں،بجلی سستی اور پیداوار بڑھے گی،

رودکوہیوں کے پانی کے لئے پانچ  چھوٹے ڈیم بنیں گے،سیلاب سے بچت ہو گی اور کاشت کے لئے پانی وافر ملے گا۔بزدار نے منظوری دے دی

مزید :

ایڈیشن 1 -