پنجاب اسمبلی، برطانوی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کے حق میں رپورٹ کیخلاف قرار داد منظور 

      پنجاب اسمبلی، برطانوی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کے حق میں رپورٹ کیخلاف ...

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی) برطانوی پارلیمنٹ میں قادیانیوں کے حق میں پیش کردہ رپورٹ Suffocation of the Faithful کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت اجلاس میں یہ قرارداد مسلم لیگ کے رکن عبداللہ وڑائچ نے پیش کی جبکہ ساجد احمد خان بھٹی، ن لیگ کے ارکان رانا محمد اقبال خان، سمیع اللہ خان، ملک احمد خان اور پیپلزپارٹی کے رکن سید حسن مرتضیٰ نے قرارداد کی حمایت کی۔ قراردادمیں کہا گیا کہ قادیانیوں کے حق میں برطانوی پارلیمنٹ کے چند ارکان کی بنائی گئی رپورٹ کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ رپورٹ ”آل پارٹی پارلیمانی گروپ برائے احمدیہ“ کی طرف سے جاری کی گئی ہے جس کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف ظلم و جبر اور استحصال ریاست پاکستان کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کو اس رپورٹ میں دی گئی سفارشات کی منظوری سے مشروط کیا جائے۔ رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے قوانین میں قادیانیوں کے حق میں تبدیلی کی جائے اور قادیانیوں کو تعلیمی اداروں میں تبلیغ کی مکمل اجازت دی جائے۔ قراردادمیں کہا گیا کہ یہ رپورٹ پوری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف گھناؤنی سازش ہے اسی لیے یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان اور دفتر خارجہ اس رپورٹ کو برطانوی پارلیمنٹ سے فوری طور پر واپس کروائے تاکہ امت مسلمہ کے خلاف اس سازش کو مکمل طور پر ناکام کروایا جائے۔ قراراد کے متن کے مطابق پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان فرانس اور سویڈن میں توہین رسالت اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے نہایت ہی مذموم واقعہ پر بھی سخت ترین الفاظ میں مذمت کا اظہار کرتا ہے۔ اس فتنے کے سد باب کیلئے وزارت خارجہ اور حکومت پاکستان فوری طور پر آواز بلند کرے۔فرانس اور سویڈن کی حکومت سے احتجاج کرے۔ایوان میں مفاد عامہ سے متعلقہ قرادادوں میں پہلی قراررداد اقلیتی رکن رمیش سنگھ اروڑا نے پیش کی جس میں وفاقی حکومت سے کرتار پور کو ننکانہ صاحب سے ملحقہ کرنے کے لیے مخصوص دد رویہ روڈ تعمیر کرنے کے مطالبے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ دوسری قرارداد ترمیم کے ساتھ مہوش سلطانہ کی آوارہ کتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدام کی تھی جو منظور کر لی گئی۔پوائنٹ آف آرڈر پر حسن مرتضی نے کہا کہ آ ئی جی پنجاب کی تبدیلی پر مبارکبادیتا ہوں یہاں آئے دن آئی جی بدلے جا رہے ہیں،دوسرے صوبے بھی ہیں ان کے وزراء اعلیٰ کو بھی آئی جی تبدیل کرنے کا حق ہے۔اگر تبدیلی سے بہتری آنی ہے تو بدلنے والی چیز کو بدلا جائے۔ جسکو بدلنا چاہیے اسے بدلتے نہیں ہیں۔سمیع اللہ خان نے نکتہ اعتراج پر کہا کہ ق لیگ کے دور میں چار آئی جی5سالوں میں تبدیل ہوے شہباز شریف کے دس سال میں نو آئی جی تبدیل ہو ئے کسی بھی صوبے میں آئی جی اور چیف سیکرٹری کا جتنا ٹینور سکیور ہوگا انتظامی امور اتنے ہی مضبوط ہونگے سی سی پی او کی میٹنگ میں سی سی پی او کا اظہار تکلم مختلف تھا۔ وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ تبادلے آئینی اختیار ہے وزیراعلی پنجاب کسی کے تابع نہیں ہے، جتنے مرضی تبادلے کرے ایک پارٹی کا ممبر اکثریت جماعت کو کہتا ہے کہ صوبے کو جاگیر بنایا ہوا ہے اس سے عوامی نمائندوں کا استحقاق مجروح ہوا ہے سندھ کا بیڑا غرق ہوا ہے، پنجاب کا نہیں۔حسن مرتضی کے بیان کی مذمت کرتے ہیں 6راکین والی پارٹی کو کوئی حق نہیں منتخب نمائندوں کے بارے غیر پارلیمانی الفاظ بولے۔سپیکر نے کہا کہ اب سال بدل گئے ہیں دو ہزار بیس ہے بندے بدل گئے ہیں تبدیلیاں وزیراعلی کا آئنی حق ہے۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ارکان اسمبلی کی مفاد عامہ کی قراردادوں میں صفدر شاکر کی زرعی فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور بیماریوں سے بچاؤ کے حوالے سے بہتر بیج تیار کرنے اور صہیب احمد بھرت کی تین تحصیلوں کو تحصیل بھلوان، کوٹ مومن اور بھیرہ میں تباہ کن بارشوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کی قرارداد متفقہ طور پر جبکہ گوجرانوالہ شہر میں نئی یو نیورسٹی قائم کرنے کی قرارداد کثرت رائے سے مسترد کردی گئی۔ اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکر چوہدری پرویز الہی نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -