دریائے سندھ بپھر گیا، اونچے درجے کا سیلاب،سیکڑوں گھر زیر آب

  دریائے سندھ بپھر گیا، اونچے درجے کا سیلاب،سیکڑوں گھر زیر آب

  

سکھر (آئی این پی) مسلسل بارشوں سے دریائے سندھ بپھر گیا، اونچے درجے کے سیلاب کے باعث سیکڑوں گھر زیر آب آگئے جبکہ درجنوں دیہات اور فصلیں ڈوب گئیں۔تفصیلات کے مطابق بارشوں کے بعد سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہے، دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث کچے کے علاقے مکمل ڈوب گئے۔روہڑی اورپنوعاقل کے درمیان 40 سے زائد گوٹھ زیرآب آنے سے ان کا زمینی رابطہ منقطع ہے اور لکھن گوٹھ، جاگیرانی گوٹھ،مبین شیخ، عزیز جتوئی اور دیگرگوٹھوں کے رہنے والے بے گھر ہوگئے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو نہ کرنے پر متاثرین پھنس گئے ہیں۔دادو مورو پل کے مقام پر دریائے سندھ کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ منہ زور ریلا کچے کے علاقے میں داخل ہوگیا، جس کے باعث گل محمد کوریجو،چھٹومستوئی،نبن جتوئی سمیت پچیس دیہات اورتیارفصلیں پانی کی نذرہوگئیں۔گدو بیراج پرپانی کا بہاؤ ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک ریکارڈکیاگیا۔ محکمہ انہارکے مطابق پنجاب سے پانی کا بڑا ریلہ گدو بیراج کی جانب بڑھ رہا ہے اور آئندہ24 گھنٹے میں گدو بیراج پراونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔متاثرین سیلاب نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے لوگوں کو باہر نکالنے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ ہماری فصلیں گھروں کاسامان اور مکان ڈوب گئے ہیں۔فلڈ کنٹرول روم نے کہا ہے کہ 12 گھنٹے میں گڈو بیراج پر 33 ہزار کیوسک اور سکھر بیراج پر 13 ہزار کیوسک کا اضافہ ہوا جبکہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد548104، اخراج 520086 کیوسک اور سکھربیراج پرپانی کی آمد440208، اخراج 401888 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

سیلاب 

مزید :

صفحہ اول -