پنجاب میں پانچواں آئی جی تبدیل، انعام غنی نئے انسپکٹر جنرل پولیس تعینات، شعیب دستگیر کو سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن لگا دیا گیا، ایڈیشنل آئی جی طارق مسعود یاسین کا نئے آئی جی کے ماتحت کام کرنے سے انکار

        پنجاب میں پانچواں آئی جی تبدیل، انعام غنی نئے انسپکٹر جنرل پولیس ...

  

لاہور (کرائم رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب  شعیب دستگیر کو تبدیل کر دیا گیا ان کی جگہ انعام غنی کو پنجاب کا نیا انسپکٹر جنرل آف پولیس تعینات کر دیا گیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی تبدیلی کی منظوری دیتے ہوئے صوبے کے نئے انسپکٹر جنرل آف پولیس کیلئے نام طلب کئے تھے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے انعام غنی کی بطور انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ انعام غنی گریڈ اکیس کے آفیسر ہیں جو جنوبی پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب تعینات رہ چکے ہیں۔ تحریک انصاف  کی پنجاب اور مرکز میں حکومت کے دو سالہ دور میں پنجاب کے پانچ آئی جیز کو تبدیل کیا جا چکا ہے دوسری طرف ایڈیشنل آئی جی پنجاب طارق مسعود یاسین نے نئے آئی جی پنجاب کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر دیا۔منگل کو طارق مسعود یاسین نے آئی جی پنجاب کے سیکرٹریٹ کو خط ارسال کر دیا۔طارق مسعود یاسین نے خط میں کہاکہ نئے آئی جی انعام غنی مجھ سے جونئیر ہیں،جونئیر افسر کے ماتحت کام نہیں کر سکتا۔خط میں کہاگیاکہ میری خدمات پنجاب سے واپس لے لی جائیں انہوں نے کہاکہ جب تک میرا تبادلہ نہیں ہوتا مجھے رخصت دے دی جائیتحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد سب سے پہلے کلیم امام کو عہدے سے ہٹایا گیا جو کہ اس عہدے پر 3 ماہ بھی پورے نہ کرسکے۔کلیم امام کے بعد محمد طاہر کو عہدہ دیا گیا اور انہیں بھی ایک ماہ بعد عہدے سے ہٹادیا گیا۔ان کے بعد امجد جاوید سلیمی کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا جو کہ اس عہدے پر بمشکل 6 ماہ رہ سکے اور انہیں بھی تبدیل کردیا گیا۔ان کے بعد آنے والے آئی جی کیپٹن ریٹائرڈ  عارف نواز تھے جو کہ دوسری بار اس عہدے پر  تعینات ہوئے تھے تاہم انہیں بھی ہٹادیا گیا، وہ اس عہدے پر  تقریباً 7 ماہ رہے۔ عارف نواز کے بعد قرعہ فال شعیب دستگیر  کے نام نکلا تاہم وہ بھی 9 ماہ بعد گزشتہ روز عہدے سے ہٹادیے گئے  اور ان کی جگہ انعام غنی کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا ہے  ڈاکٹر کلیم امام 13 جون 2018ء  سے 11 ستمبر 2018، محمد طاہر 11 ستمبر 2018ء  سے 15 اکتوبر 2018ء  امجد جاوید سلیمی 15 اکتوبر 2018ء سے 17 اپریل 2019ء، کیپٹن (ر) عارف نواز خان 17 اپریل 2019ء  سے 28 نومبر 2019ء آئی جی پنجاب رہے۔ شعیب دستگیر پانچویں آئی جی پنجاب تھے جو 28 نومبر 2019ء کو تعینات ہوئے۔ سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان پر وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے کمانڈر کے خلاف بات کرکے رولز کی خلاف ورزی کی۔ قانون کے مطابق کارروائی ہوتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔سٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے شعیب دستگیر کو سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویڑن تعینات کر دیا گیا، اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ ادھر اے ڈی خواجہ کو ممبر وفاقی محتسب تعینات کرتے ہوئے اس کا بھی اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ سارا تنازع بغیر مشاورت سی سی پی او لاہور کی تعیناتی پر پیدا ہوا تھا۔ شعیب دستگیر نے جمعہ کو وزیراعظم پاکستان سے سی سی پی او کی تعیناتی پر اعتراض کیا تھا۔ آئی جی پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ بغیر مشاورت سی سی پی او لاہور کی تعیناتی قبول نہیں ہے۔ اس پر وزیراعظم نے آئی جی کو وزیراعلیٰ سے ملاقات کی ہدایت کی تھی۔ حکومت نے سٹی چیف پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ اور آئی جی شعیب دستگیر کے درمیان تنازع کے بعد شعیب دستگیر کی تبدیلی پر غور شروع کر دیا گیا تھا۔انعام غنی تحریک انصاف کی حکومت  آنے کے بعد سے پنجاب کے چھٹے آئی جی ہیں، عہدے سے ہٹائے جانے والے شعیب دستگیر کو 27 نومبر 2019 کو پنجاب پولیس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔نئے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب تعینات ہونے والے انعام غنی کا شمارپاکستان پولیس سروس کے انتہائی پروفیشنل، قابل، ایماندار اور فرض شناس پولیس افسران میں ہوتا ہے۔ انعام غنی ان دنوں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کے عہدے پر فرائض سر انجام دے رہے تھے جبکہ وہ اس سے قبل ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکے ہیں۔آئی جی پنجاب، انعام غنی کا تعلق خیبر پختواہ کے ضلع مالاکنڈ سے ہے انہوں نے 1989میں بطوراے ایس پی پولیس سروس پاکستان جوائن کی۔ انکا تعلق سترہویں کامن سے ہے۔انہوں نے ایم اے پولیٹیکل سائنس، ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔کیرئیر کے آغاز میں انعام غنی نے CSAاورنیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں خدمات سر انجام دیں جس کے بعد اے ایس پی (UT)، اے ڈی او ایف سی، اے ایس پی پیپلزکالونی فیصل آباد،اے ایس پی سٹی فیصل آباد،اے ایس پی نواں کوٹ، لاہور کے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے جس کے بعد انہوں نے یو این مشن پرموزمبیق میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خدمات سر انجام دیں۔ وطن واپسی پر انعام غنی نے بطور ایس پی سائٹ ڈویژن ویسٹ کراچی، ڈی پی او ہری پور، ڈی پی او کرک، ڈی پی او صوابی، ڈی پی او مانسہرہ، ڈی پی او چارسدہ، ایس ایس پی آپریشنز پشاور، ایس پی ہیڈ کوارٹر اسلام آباداورایس ایس پی سیکیورٹی اسلام آبادکے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے۔اس کے علاوہ انہوں نے ڈائریکٹر ایف آئی اے (این ڈبلیو ایف پی)، ڈائریکٹر ایف آئی اے ایڈمن (ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر اسلام آباد)، ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب، ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد، ڈائریکٹر ایف آئی اے خیبر پختوانخواہ، کمانڈنٹ ایف آئی اے اکیڈمی، ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد، ڈائریکٹنگ اسٹاف نیشنل سکول آف پبلک پالیسی لاہور، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل آئی بی اسلام آبادکے عہدوں پر فرائض سر انجام دئیے۔ ایڈیشنل آئی جی پروموشن کے بعد انعام غنی نے بطور ایڈیشنل آئی جی آپریشنز سی پی او لاہور کے عہدے پر تعینات رہے جبکہ کچھ عرصہ قبل انہیں بطور ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے فرائض ادا کرر ہے تھے۔ انعام غنی نے آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی امریکہ،قونصلر لیبر اینڈ کمیونٹی ویلفیئر ایمبیسی آف پاکستان کویت میں بھی وطن عزیز کی نمائندگی کرتے ہوئے فرائض سر انجام دئیے۔

آئی جی پنجاب

مزید :

صفحہ اول -