صوبے کی تقسیم کو غداری کہنے والے خود غدار ہیں: خالد مقبول صدیقی 

صوبے کی تقسیم کو غداری کہنے والے خود غدار ہیں: خالد مقبول صدیقی 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی قوومنٹ (یم کیو ایم)پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی تقسیم کو غداری کہنے والے سب سے بڑے غدار ہیں۔ خدشہ ہے کہ کراچی پیکج کا پیسہ ایک مرتبہ پھر دبئی کی رائیل اسٹیٹ میں لگ جائیں یا کسی اور کے جیبوں میں نہ چلا جائے۔پورے سندھ میں اردو پنجابی و دیگر زبان بولنے والوں کو قابل نہیں سمجھا جاتا ہے، سندھ میں ایڈمنسٹریٹر کا تعین لسانی تعیناتی کے سوا کچھ نہیں ہے جبکہ کراچی، حیدرآبا،د لاڑکانہ اور سکھر کا ایڈمنسٹریٹر مقامی ہونا چاہیے، ثابت کردیا گیا کہ سندھ میں نہ کسی کو نوکری اور نہ پوسٹنگ ملے گی،روڈ پر آنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے تو پھر آنا ہی پڑے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوایم کیو ایم پاکستان کے  مرکزبہادرآباد مرکز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر وسیم اختر، کنور نوید جمیل،اور فیصل سبزواری بھی موجود تھے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی پیکج کی رقم شہر میں خرچ ہونے کی امید اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اب ایم کیو ایم کا میئر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کیاوجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کراچی کی منتخب بلدیاتی حکومت کو پیکیج نہیں دیا، وزیراعظم کو کراچی پر 1100 ارب لگانے تھے تو منتخب بلدیاتی حکومت کے ذریعے لگاتے، خدشات نے یقین کی صورت اختیار کرلی جب ایڈمنسٹریٹر کا تعین ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ ثابت کیاجارہا ہے کہ سندھ میں نہ کسی کو تعلیم، نہ نوکریاں، نہ ترقیاں ملیں گی، وفاق نے فیصلہ کیا کہ اتحادی حکومت کے بجائے کرپشن کی تاریخ رکھنے والی حکومت سے ترقی کروائے گی، آپ نے اگر یہ پیسے لگانے تھے تو ان کے ذریعے لگاتے جو اس شہر کو جانتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمیں طعنے دیئے جارہے ہیں کہ ہم کیوں خاموش ہیں۔سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جب پورے سندھ میں ایڈمنسٹریٹرز کا جائزہ لیا گیا تو وفاق کو ایک لسانی اکائی کے علاوہ کوئی نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ ہماری وفاق سے درخواست تھی کراچی کے مسائل سمجھنے والے شخص کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر لگا دیا جائے'۔ یہ ہی رویہ حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ میں بھی اپنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ ثابت کیا جارہا ہے سندھ میں صرف ایک اکائی کے علاوہ نہ کسی کو ترقی، نوکری اور پانی نہیں ملے گا۔خالد مقبول نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ فیصلہ وزیراعظم پاکستان کا ہے۔انہوں نے کہا کہ 'مجھے نہیں معلوم کہ وفاقی حکومت کے پاس کیا وجوہات تھیں کہ وزیراعظم عمران خان نے سندھ میں اتحادی جماعت کی منتخب بلدیاتی حکومت کے علاوہ کسی اور کا انتخاب کیا؟انہوں نے کہا کہ منتخب بلدیاتی حکومت کے بجائے 13 سال سے کرپشن کی تاریخ رکھنے والے صوبائی حکومت کے بیوروکریٹس (ایڈمنسٹریٹر)کے ذریعے ترقیاتی کام شروع کرائیں گے۔خالد مقبول نے کہا کہ 'کیا خدشات یقین میں نہیں بدلیں گے؟'انہوں نے کہا کہ وفاق نے ضلع شرقی میں جس کو ایڈمنسٹریٹر لگایا ہے وہ انور مجید کے ساتھ ضلع غربی کے دو منصوبوں میں نیب انکوائری کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس بات پر اطمینان ہے کہ افواج پاکستان، کراچی کے مسائل سے آگاہ ہے، مخلص ہے اور علمدرآمد بھی کرانا چاہتی ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 'افواج پاکستان کی موجودگی میں امید ہے کہ جو کچھ کہا گیا اس پر کسی حد تک عملدرآمد ہوگا'۔انہوں نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ 'بتایا جائے کہ سندھ کے شہری علاقوں میں ایک ہی اکائی کے حامل اشخاص کو ہی ایڈمنسٹریٹر کیوں لگایا گیا'۔منصوبہ نہیں ہونے دیے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے سارے گناہ معاف ہیں لیکن تھوڑی سی گفتگو پر بھی سوال و جواب شروع ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 70 کی دہائی میں کوٹہ سسٹم لگا کر سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا، ایک سندھ کما کر دیتا ہے جبکہ دوسرا سندھ خرچ کرتا ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایک لسانی اکائی کے ایڈمسٹریٹر کو لگا کر لسانی تقسیم پر مہر لگا دی، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تمام اکائیوں کے افراد وزیراعلی اور دیگر عہدوں پر فائر ہوسکتے ہیں اور ادھر ہونے والی تقسیم کی حمایت پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور دیگر جماعتیں کرتی ہیں۔سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا کہ جہاں تقسیم بہت واضح اور گہری ہے وہاں صوبے کی بات کرنا حرام ہے، اگر یہ حرام اور غداری ہے تو یہ آئین میں دیکھیں جہاں آئینی شق کو غداری کہنے سے زیادہ بڑی غداری کوئی اور نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اور جو لوگ صوبے کی تقسیم کو غداری کہتے ہیں وہ سب سے بڑے غدار ہیں۔خالد مقبول صدیقی نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کرکے کہا کہ 'آپ لاڑکانہ سے کسی اردو بولنے والے کو کامیاب ہو کر دکھا دیں ہم نے فیڈرل بی ایریا سے سندھی بولنے والے کو کامیاب کروایا اور بتایا کہ ایم کیو ایم اور یہاں کے عوام کسی سے لسانی بنیاد پر نفرت نہیں رکھتی۔انہوں نے کہا کہ کراچی سے لینے کا حق سب کا ہے لیکن شہر کو دینے کی نیت کسی کی نہیں رہی۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 'تنقید کرکے امید کو مایوسی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے جس طرح دوسرے لوگ کراچی پیکج کا پوسٹ مارٹم کررہے ہیں '۔انہوں نے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو کراچی کی ترقی سے مشروط قرار دیا۔

مزید :

صفحہ آخر -