واٹس ایپ کے ذریعے لڑکی کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار

واٹس ایپ کے ذریعے لڑکی کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار
واٹس ایپ کے ذریعے لڑکی کو ہراساں کرنے والا ملزم گرفتار

  

پشاور(ویب ڈیسک) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ نے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو واٹس ایپ کے ذریعے ہراساں کرنے والے ملزم گرفتار کر لیا۔ایف آئی کے مطابق ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی گئی ہے جب کہ ملزم کے موبائل سے ویڈیوز اور تصاویر برآمد کر لی گئی ہیں اور مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بتایا کہ ملزم لڑکی کو تصاویر کے ذریعے بلیک میل کررہا تھا۔پاکستان میں رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں سائبر کرائم کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

چینل کو موصول ہونے والے ریکارڈ کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں گیارہ ہزار مرد و خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔ریکارڈ کے مطابق پانچ ماہ کے دوران 8 ہزار 2 سو 65 خواتین کو فیس بک کے ذریعے بلیک میل اور ہراساں کیا گیا۔ رواں سال خواتین کو جعلی اکاؤنٹ بنا کر بلیک میل کرنے کی 19 سو 25 شکایات موصول ہوئیں۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق واٹس ایپ کے ذریعے 3 ہزار 6 سو 19 مردو خواتین کو بلیک میل کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔رواں سال کے پانچ ماہ کے دوران سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کی 5 ہزار8 سو 83 شکایات موصول ہوئیں۔ جاز کیش کے نام پرایک ہزار تین سو34 افراد کے ساتھ فراڈ کی شکایات موصول ہوئیں۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق سال دوہزار انیس کے 12 ماہ کے دوران مجموعی طور پر 12 ہزار شکایات موصول ہوئیں تھیں۔ فیس بک کے ذریعے سب سے زیادہ خواتین کو حراساں اور بلیک میل کرنے کی شکایات موصول ہوئیں۔

اس سال اپریل میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سائبر کرائم سرکل نے شہریوں کے لیے سائبر الرٹ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس میں اضافے کے ساتھ ہی سائبر کرمنلز بہت زیادہ سرگرم ہو گئے ہیں۔

مزید :

علاقائی -خیبرپختون خواہ -پشاور -