سابق آئی جی شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور کے درمیان تنازع کی مبینہ وجہ سامنے آ گئی

سابق آئی جی شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور کے درمیان تنازع کی مبینہ وجہ ...
سابق آئی جی شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور کے درمیان تنازع کی مبینہ وجہ سامنے آ گئی

  

لاہور( لیاقت کھرل) سابق آئی جی شعیب دستگیر اور سی سی پی او لاہور کے درمیان تنازع کی مبینہ وجہ سامنے آ گئی ہے  جس میں سابق آئی جی پولیس کیپٹن (ر) شعیب دستگیر نے صدر ڈویژن میں ایک پلاٹ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم این اے اور ایم پی اے کے افراد کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کے ملزمان کی مبینہ طور پر پشت پناہی کرنے والے ایس ایچ او ستوکتلہ کو بچانے کی سفارش کی تھی ۔ سابق آئی جی کیپٹن (ر) شعیب دستگیر کے تبادلے کے بعد متعدد ڈی پی اوز ، آر پی اوز اور لاہور پولیس کے ایس پی صدر انویسٹی گیشن سمیت 4 ایس پی پیز ، 12 ڈی ایس پیز اور 30 ایس ایچ اوز مسلم لیگ (ن) کے چہتے اور (ن) لیگ کے اراکین کے ساتھ ہمدردیاں پائی جانے پر عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کے لئے نئے سی سی پی او لاہور کو ٹاسک دے دیا گیا ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق آئی جی کیپٹن (ر) شعیب دستگیر نے ایک پلاٹ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے ایک ایم پی اے کے افراد کی مبینہ طور پر سرپرستی کرنے پر ڈی آئی جی آپریشن لاہور اور سابق سی سی پی او لاہورکو مبینہ طور پر سفارش کی تھی کہ ایس ایچ او ستوکتلہ شہزاد رضا پر ہاتھ’’ ہلکا‘‘ رکھا جائے اور صرف معطل کر کے معاملے کو گول کر دیا جائے ۔ خفیہ ذراءع سے معاملہ نوٹس میں آنے پر وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لیا جس پر سابق آئی جی پنجاب اور سابق سی سی پی او اصل حقائق پر پردہ ڈالتے رہے اور خفیہ اداروں کی رپورٹ سامنے آنے پر سابق آئی جی اور سابق سی سی پی او پر مبینہ طور پر الزامات سامنے آ گئے جس پر سی سی پی او لاہور محمد عمر شیخ نے معطل ہونے والے ایس ایچ او ستوکتلہ کو دفتر میں بلا کر حکم دیا کہ اس کو نہ صرف ہتھکڑیاں لگائی جائیں بلکہ اس کو پلاٹ کے تنازعہ پر قتل ہونے والے افراد کے قتل کیس میں ملزم ٹھہرا کر ’’ قاتل ‘‘ ظاہر کیا جائے جس پر سابق آئی جی کیپٹن (ر) شعیب دستگیر سی سی پی او لاہور پر عمر شیخ پر برس پڑے

لیکن سی سی پی او لاہور عمر شیخ ڈٹ گئے اور فوری طورپر وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان کے نوٹس سارا معاملہ رکھ دیا جو کہ سابق آئی جی کیپٹن (ر) شعیب دستگیر کی پنجاب پولیس کی سربراہی سے چھٹی کی اصل وجہ بنی ۔ معاملے کو رنگ دینے کے لئے سابق آئی جی نے اختیارات کی جنگ کا نام دے دیا ۔ ذراءع کا کہنا ہے کہ سابق آئی جی کے چہتے اور مسلم لیگ (ن) سے ہمدردیاں رکھنے والے لاہور پولیس کے ایس پی صدر انویسٹی گیشن ،لاہور پولیس کے 4 ایس پیز اور 12 ڈی ایس پیز سمیت 30 ایس ایچ اوز کو بھی عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس میں ڈی ایس پی ذوالفقار بٹ ، ایس ایچ او ہربنس پورہ ندیم کمبوہ، ایس ایچ او باٹا پور ، ایس ایچ او شمالی چھاءونی کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں ۔

اس حوالے سے نئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ پنجاب پولیس کو سیاست سے پاک اور محکمہ پولیس کے قوائد و ضوابط کے مطابق چلایا جائے گا ۔ اس میں کسی قسم کی سیاسی وابستگی اور پشت پناہی ہرگز قبول نہ ہو گی ۔ آئی جی نے بتایا کہ لاہور پولیس کے فہرست میں شامل ایس ایس پیز ، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کے علاوہ پنجاب پولیس کے متعدد آر پی اوز، ڈی پی اوز اور ایڈیشنل ایس پیز کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے اور ان کی فہرستیں طلب کر لی گئی ہیں ۔

مزید :

قومی -