آئے روز آئی جی کی ٹرانفسر ، سابق آئی جیز کی تنظیم میدان میں آ گئی 

آئے روز آئی جی کی ٹرانفسر ، سابق آئی جیز کی تنظیم میدان میں آ گئی 
آئے روز آئی جی کی ٹرانفسر ، سابق آئی جیز کی تنظیم میدان میں آ گئی 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) گزشتہ روز سی سی پی او کے ساتھ تنازعہ کے بعد آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی تبدیلی پر سابق آئی جیز کی تنظیم نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کر دیاہے ۔

سابق آئی جیز کی تنظیم ” ایسوسی ایشن آف فارمر انسپکٹرز جنرل آف پولیس ایگزیکٹو کمیٹی “ کا آج اجلاس ہوا جس دوران قانونی تقاضوں اور گڈ گورننس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو خاطر میں لائے بغیر پنجاب میں آئی جیز کے مسلسل تبادلوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ۔جس کے نتیجے میں گزشتہ دو سالوں کے دوران آئی جیز کی مدت ملازمت کم ہو کر بمشکل چار سے ساڑھے چار مہینے اوسط آ گئی ہے ۔

اعلامیے میں کہا گیاہے کہ سیاسی اور بے قائدہ طریقہ کار کے ذریعے ڈسپلن فور س کے سربراہ کو عہدے سے فارغ کر دینے سے فورس کے مورال اور کارکردگی پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔اس سے ادارے کو کمزور کرنے کے علاوہ غیر یقینی کی صورتحال اور عد م استحکام کا تاثر جنم لیتا ہے ، جس پر عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے اور امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کی بھاری ذمہ داری عائد ہے ۔

اے ایف آئی جی پی کی جانب سے جاری کر دہ اعلامیے میں کہا گیاہے کہ اعلیٰ عدالتوں نے بار بار زور دیاہے کہ افسران کی مدت ملازمت کا احترام کیا جائے اور اس ”انیتا تراب “کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس اصول کو اچھی طرح واضح کیا گیاہے ۔

میڈیا رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئی جی پنجاب کو بغیر صلاح مشورے کے سی سی پی او کی تعینات پر صوبائی حکومت سے اختلاف پرتبدیل کر دیا گیا ۔ا س کی وجہ سے نئے آئی جی کیلئے کام کرنے میں مشکلات آئیں گی ، یہ ان کیلئے ایک بڑا چینلج ہو گا کہ وہ ڈسپلن، اعتماد اور فورس کے مورال کو دوبارہ بحال کر سکیں ۔ کمیٹی اس مشکل اور چیلنجنگ اسائمنٹ میں اچھی کارکردگی دکھانے کیلئے نئے آئی جی پنجاب کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہے ۔

مزید :

قومی -