وہ ہوائی جہاز جسے شرمناک ترین مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ، اب اسے رن وے پر کھڑا کر کے چھوڑ دیا گیا

وہ ہوائی جہاز جسے شرمناک ترین مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ، اب اسے رن وے ...
وہ ہوائی جہاز جسے شرمناک ترین مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ، اب اسے رن وے پر کھڑا کر کے چھوڑ دیا گیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی سرمایہ کار جیفرے ایپسین پر درجنوں خواتین نے جنسی زیادتی کے الزامات عائد کیے اور اس نے گزشتہ سال اگست میں قید کے دوران جیل میں ہی پھندہ لے کر خودکشی کر لی تھی۔ یہ امیرترین جنسی درندہ نجی ہوائی جہاز میں اڑا پھرتا تھا اورا س جہاز میں خواتین کو لاتا لیجاتا اور انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا تھا۔ اب اس کا یہ جہاز برنزوک گولڈن آئیلس ایئرپورٹ کے ایک مینٹی نینس ہینگر پر لاوارث کھڑا ہے اور اسے پھپھوندی لگ چکی ہے۔ 

میل آن لائن نے اس جہاز کے اندر کی کچھ تصاویر شائع کی ہیں جن سے اس جہاز کے اندر ہونے والی عیاشیوں کا پتا چلتا ہے۔ اس بوئنگ 727ہوائی جہاز کا نام لولیٹا ایکسپریس ہے جس کی شیشوں سے مزین دیواروں میں کیبن بنے ہوئے ہیں اور ان کیبنز میں اضافی لینن کے ساتھ ڈبل بیڈز رکھے ہوئے ہیں۔ ان بیڈز کی درازوں میں پنک بے بی لوشن اور ویٹ وائپس (wet wipes)کے پیکٹ کافی مقدار میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بھی خواتین کے استعمال کی کئی چیزیں جہاز کے اندر آج بھی پڑی گل سڑ رہی ہیں۔ کبھی جس جہاز کی اندرونی سجاوٹ قابل دید ہوا کرتی تھی آج اس کی ہر چیز کو پھپھوندی لگ چکی ہے اور اندر سے ایک سڑانڈ آ رہی ہے۔ اس جہاز نے جولائی 2016ءمیں آخری بار اڑان بھری تھی، جس کے بعد جیفرے کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بعد سے یہ جہاز یہیں لاوارث کھڑا ہے۔وفاقی ایوی ایشن کے مطابق 2019ءکے بعد اس جہاز کی رجسٹریشن نہیں کرائی گئی چنانچہ اب یہ جہاز قانونی طور پر اڑان نہیں بھر سکتا، جب تک اس کی دوبارہ رجسٹریشن نہ کرائی جائے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -